پارلیمنٹ کے باہر مجمع لگانا، اندر اکثریت کھونے کا ثبوت


ماضی کے معروف صحافی اور حال کے سینیٹرعرفان صدیقی نے کہا یے کہ عمران خان کی جانب سے تحریک عدم اعتماد کے بعد قومی اسمبلی میں 172 اراکین کی اکثریت ثابت کرنے کی بجائے پارلیمنٹ کے باہر مجمع اکٹھا کرنے کا فیصلہ اس حقیقت کا غماز ہے کہ وزیراعظم اکثریت کھو چکے ہیں اور انہیں اپنی شکست کا یقین ہو چکا ہے۔ انکے مطابق عمران خان ہر روز، صبح و شام طرح طرح کے اجلاس بلا رہے ہیں۔ بنی گالا سے ایک کارواں نکل رہا ہوتا ہے تو دوسرا ان کے دروازے پے کھڑا ہوتا ہے۔ لیکن خان صاحب اپنی پارلیمانی پارٹی کا اجلاس نہیں بلا رہے؟ اسکی وجہ یہ ہے کہ وہ 172 کی طلسماتی تعداد کہاں سے لائیں ورنہ اپوزیشن کے شور شرابے کا توڑ یہی تھا کہ خان صاحب پارلیمانی پارٹی کا اجلاس بلا کر 172 اراکین قومی اسمبلی دکھا دیتے۔ یوں نہ تو انہیں دس لاکھ کا مجمع لگانا پڑتا اور نہ آئین و قانون سے کھیلنے کی ضرورت محسوس ہوتی۔
اپنی تازہ تحریر میں عرفان صدیقی کہتے ہیں کہ برس ہا برس اپنے حریفوں کی دستاریں اچھالنے، ان کے گریبان نوچنے، ان کے لباس پر سیاہی تھوپنے، انکی پیشانیاں غلیظ الزامات سے داغنے، انہیں آخری درجے کی تحقیر اور تذلیل میں لتھڑے القابات دینے، انہیں جیلوں میں ڈالنے، ان کی بہو بیٹیوں کو انتقام کا نشانہ بنانے، اور ہر قومی ادارے کو ان کے تعاقب میں لگا دینے کے طویل سلسلے کو اب خان صاحب نے قرآنی حکم ”امر بالمعروف“ کا تقاضا قرار دے دیا ہے۔ یعنی خان صاحب کے نزدیک پچھلے ساڑھے تین برس میں انہوں نے جو بھی حرکتیں کیں وہ قرآنی حکم ”امر بالمعروف“ کا تقاضا تھیں جس کی تلقین اللہ تعالیٰ نے فرمائی ہے۔
عرفان صدیقی کہتے ہیں کہ عزت ماب جناب وزیر اعظم عمران خان کی آتش بیانی جاری ہے لیکن ”لاوا فشانی“ میں کمی آ رہی ہے۔ آسمان سے ہم کلام شعلوں کی لپک جھپک قدرے مدھم پڑنے لگی ہے۔ آتش فشاں کے سینے میں لاوے میں ڈھلتے کیمیائی اجزائے ترکیبی کی حدت اور شدت تو موجود ہے لیکن جوش و خروش مدھم پڑ گیا ہے جو آتشیں لاوے کو دہانے تک لاتا اور فوارے کی صورت اگلتا ہے۔ خان صاحب کی بدن بولی میں بھی آہوئے تاتاری جیسی طراری اور طرحداری نہیں رہی جو مدتوں جوانان قوم کا لہو گرماتی اور حسینان وطن کے دل گدگداتی رہی۔ تاریخ پر نظر رکھنے والے لوگ پیچھے پلٹ کر دیکھتے ہیں تو کتنے ہی وزرائے اعظم خزاں رسیدہ پتوں کی طرح بے مہر ہواؤں کا رزق ہوتے دکھائی دیتے ہیں۔ لیکن ان میں ایک بھی ایسا نہیں جو خان اعظم کی طرح یوں صحرائی بگولوں کی زد میں آئے، ورق بوسیدہ کی طرح یوں پارہ پارہ ہو رہا ہو۔ شکستگی کی ایسی قابل رحم جان کنی کسی نے نہیں دیکھی۔
عرفان صدیقی کے بقول بجا طور پر خان صاحب خود کو نیکی، پارسائی، خیر، حق، سچائی اور صراط مستقیم کی ارفع علامت خیال کرتے اور جذبہ ایمانی کی حدوں کو چھوتا یقین کامل رکھتے ہیں جو خان صاحب کے اس مرتبہ و مقام کے منکر ہیں۔ ان کی حیثیت کم و بیش وہی ہے جو پیغمبروں پر ایمان نہ لانے والوں کی ہوتی ہے۔ کم از کم میرے علم میں نہیں کہ کسی پیغمبر نے بھی اپنے منکرین کی آنے والی نسلوں کو بددعا دی ہو اور کہا ہو کہ تمہارے بچے سکولوں میں تعلیم حاصل نہیں کر سکیں گے۔ تمہارے بچوں سے کوئی شادی نہیں کرے گا۔ تم کسی تقریب میں جا نہیں سکو گے۔ تم اچھوت بن کر رہ جاؤ گے۔ خان صاحب صدق دل سے سمجھتے ہیں کہ جو سیاستدان حلقہ بگوش تحریک انصاف ہوئے، وہ در اصل حلقہ کفر و شرک سے نکل کر دائرہ اسلام میں داخل ہو گئے ہیں۔ اب اگر کوئی تحریک انصاف سے مایوس ہو کر اس سے رشتہ توڑتا ہے تو وہ ”ارتداد“ کا ارتکاب کرتا اور ”مرتد“ ہو جاتا ہے۔ یہ سوال بے معنی ہے کہ خان صاحب نے یہ کیسے جان لیا کہ بائیس کروڑ انسانوں کے سمندر میں صرف وہی نیکی، حق، سچائی اور پارسائی کا مجسمہ ہیں اور جو ان کے دست مبارک پر بیعت نہیں کرتا وہ گردن زدنی ہے۔ ایسے شرانگیز سوالات حجت بازی اور فتنہ سازی کے زمرے میں آتے ہیں۔ معلوم ہونا چاہیے کہ جب خان صاحب خود ایسا سمجھتے اور ببانگ دہل ایک ”برانڈ“ ہونے کا دعویٰ کر رہے ہیں تو پھر کسی اور دلیل کی کیا حاجت رہ جاتی ہے۔ ایسے بدگمان، خان صاحب کے اقوال اور دعووں کی مین میخ نکالنے کے بجائے، ان کی زندگی کے نشیب و فراز پر ہی ایک چھچھلتی ہوئی نظر ڈال لیں تو انہیں بخوبی اندازہ ہو جائے گا اگر خان صاحب خود کو مجسمہ خیر اور دوسروں کو ”شیطان مجسم“ خیال کرتے ہیں تو اس میں بڑی حد تک حق بجانب ہیں۔
عرفان صدیقی اپنی طنزیہ تحریر آگے بڑھاتے ہوئے مزید لکھتے ہیں کہ خان صاحب کے دل و دماغ میں یہ بات بھی رچ بس چکی ہے کہ 2018 کے انتخابات میں پوری قوم وارفتگی کے عالم میں اٹھ کھڑی ہوئی تھی اور ان کا دامن ووٹوں سے مالا مال کر دیا تھا اس لئے صرف وہی پاکستانی عوام کی نمائندگی کا استحقاق رکھتے ہیں۔ اگرچہ اعداد و شمار کی تصویر کچھ اور کہتی ہے۔ 2018 میں ساڑھے دس کروڑ کے لگ بھگ رجسٹرڈ ووٹرز میں سے پانچ کروڑ اکتیس لاکھ تئیس ہزار سات سو تینتیس نے ووٹ کا حق استعمال کیا تھا۔ عین گنتی کے وقت ناگہانی طور پر آر۔ ٹی۔ ایس کی حرکت قلب بند ہو جانے اور خان صاحب کی امنگوں کو مادر مشفق کی طرح لوریاں دیتی ہواؤں کے باوجود تحریک انصاف ایک کروڑ انہتر لاکھ تین ہزار سات سو دو ووٹ لے سکی جو پول شدہ ووٹوں کا 31.82 فی صد تھے۔ باقی 68.18 فیصد ووٹ، جو پاکستانی عوام ہی کے تھے، تحریک انصاف کے خلاف کھڑی جماعتوں یا امیدواروں کو ملے۔ ”چوروں“ کی جماعت مسلم لیگ (ن) نے چہار سمت سے اٹھتی آندھیوں کے باوجود ایک کروڑ انتیس لاکھ چونتیس ہزار پانچ سو نواسی ووٹ لئے۔ بقول خان صاحب ”ڈاکوؤں“ کی جماعت پیپلز پارٹی نے انہتر لاکھ چوبیس ہزار تین سو چھپن ووٹ لئے۔ یوں اگر صرف چوروں اور ڈاکوؤں کے ووٹ جمع کر لئے جائیں تو وہ خان صاحب کے ووٹوں پر بھاری ہیں۔ گویا ناسازگار موسموں کے باوجود عوام نے خان صاحب کی نسبت چوروں اور ڈاکوؤں کو زیادہ لائق اعتماد جانا۔ خان صاحب کے 31.82 فیصد کے مقابلے میں ان دونوں کے ووٹ 37.38 فیصد بنتے ہیں۔ لیکن ”امر بالمعروف“ کے پرچم بردار سربکف سپاہ کے نزدیک اس طرح کے اعداد و شمار بے معنی ہوتے ہیں۔ وہ اپنے آپ مانے، اپنے ترازو، اپنے اوزان، اپنے عقیدے، اپنے نظریے، اپنا استدلال، اپنا فلسفہ، اپنا اسلوب، اپنا لہجہ، اپنی زبان اور اپنا بیانیہ رکھتے ہیں۔ ان کی عدالت میں کسی وکیل، کسی، اپیل، کسی دلیل کا گزر نہیں۔
عرفان صدیقی کہتے ہیں کہ خیر کا مجسمہ اور پارسائی کا برانڈ ہونے کے باوجود، خان صاحب عبرت کا قابل رحم نمونہ کیوں دکھائی دے رہے ہیں؟ یہ واقعی ایک اہم سوال ہے۔ ابھی کل کی بات ہے 2012 میں پیپلز پارٹی عہد کے وزیراعظم، سید یوسف رضا گیلانی کو توہین عدالت کے جرم میں فارغ کر دیا گیا۔ پی۔ پی۔ پی اپنے پاؤں پر کھڑی رہی۔ کوئی حواس باختہ نہ ہوا۔ بڑے تحمل سے راجہ پرویز اشرف کو وزیراعظم چن لیا گیا۔ پیپلز پارٹی نے پانچ سال کا عہد حکمرانی مکمل کر لیا۔ 2017 میں وزیراعظم نواز شریف، اپنے بیٹے سے تنخواہ نہ لینے کے گناہ کبیرہ کے سبب، عمر بھر کے لئے سیاست بدر کر دیے گئے۔ ہر طرف سے حملہ آور ہوتی منہ زور آندھیوں کے باوجود مسلم لیگ (ن) کا کوئی ایک رکن اپنی جگہ سے نہ ہلا۔ کسی کا ”دہن“ ”دہانے“ میں نہ بدلا۔ کسی نے کسی کو گالی دی نہ اس کی آنے والی نسلوں کو کوسنے۔ شاہد خاقان عباسی قائد ایوان چن لئے گئے۔ مسلم لیگ (ن) نے اپنی پانچ سالہ مدت اقتدار مکمل کر لی۔ آج مشکل میں کھڑی تحریک انصاف ایسا کیوں نہیں کر سکتی؟
بقول عرفان صدیقی، اسکے دو بڑے اسباب ہیں۔ پہلا یہ کہ پی ٹی آئی کو ایوان میں سادہ اکثریت حاصل نہیں۔ اس کی بیساکھیوں کو دیمک کھا چکی ہے۔ ان کی اپنی جماعت بند مٹھی میں ریت کی طرح ان کے ہاتھ سے نکلی جا رہی ہے۔ ہر گزرتے دن کے ساتھ ”منکرین“ یا ”مرتدین“ کی تعداد بڑھتی جا رہی ہے۔ اب اس میں مسلم لیگ نون یا پیپلز پارٹی جیسی سکت نہیں رہی کہ وہ اپنا وزیر اعظم چن سکے۔ دوسری اور سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ سید یوسف رضا گیلانی یا نواز شریف کے متبادل تلاش کر لینا تو ایسا مشکل کام نہ تھا لیکن خان صاحب کا ”نعم البدل“ کوئی کہاں سے لائے۔ سو لگتا یہ ہے کہ خان صاحب گئے، تو پی ٹی آئی کی حکومت بھی گئی۔ آپ نے دیکھا ہو گا کہ وزیر اعظم عمران خان، ہر روز، صبح و شام طرح طرح کے اجلاس بلا رہے ہیں۔ بنی گالا سے ایک کارواں نکل رہا ہوتا ہے تو دوسرا دروازے پے کھڑا ہوتا ہے۔ لیکن خان صاحب اپنی پارلیمانی پارٹی کا اجلاس نہیں بلا رہے؟ وجہ؟ صرف یہ کہ وہ ”172“ کی طلسماتی تعداد کہاں سے لائیں؟ ورنہ اپوزیشن کے شور شرابے کا توڑ یہی تھا کہ خان صاحب پارلیمانی پارٹی کا اجلاس بلا کر 172 کی تعداد دکھا دیتے۔ نہ دس لاکھ کا مجمع لگانا پڑتا نہ آئین و قانون سے کھیلنے کی ضرورت محسوس ہوتی۔

Back to top button