پاکستان کارگل سے اپنے فوجی نکالنے پر کیوں مجبور ہوا؟

بھارت کے ساتھ کارگل جنگ میں پاک فوج کے شانہ بشانہ لڑنے والے رضاکاروں کو پاکستان کی جانب سے کارگل سے فوج نکالنے کے فیصلے پر آج بھی افسوس ہے کیونکہ اس سے پاکستان کو بھاری جانی نقصان اٹھانے پڑے۔ انکا کہنا ہے کہ مالی نقصان کے علاوہ تقریباً ایک ہزار پاکستانی سپاہی بھی شہید ہوئے۔ کارگل سے فوج واپس بلانے کے فیصلے پر تنقید کرنے والے پاکستانی رضاکار کہتے ہیں کہ ہمیں یقین تھا کہ جیت ہماری ہو گی مگر یہ ہماری بدقسمتی تھی کہ پاکستان کے پاس وسائل کی کمی تھی اور اسکی معیشت اتنی مضبوط نہیں تھی کہ بین الاقوامی دباؤ برداشت کر سکے، چنانچہ فوجیں نکالنا اس کی مجبوری بنی۔
خیال رہے کہ کارگل کی جنگ اپریل 1999 میں شروع ہوئی اور 26 جولائی 199 کو انڈیا نے اپنی سرزمین سے پاکستانی فورسز کے مکمل انخلا کا اعلان کر دیا تھا۔ لیکن کارگل پر فوج کے شانہ بشانہ لڑنے والے مقامی رضاکار سمجھتے ہیں کہ پاکستانی حکام کو اس پورے آپریشن کی منصوبہ بندی بہتر انداز میں کرنی چاہیے تھی اور یہ مہم شروع کرنے سے سے قبل دستیاب وسائل کو مدِنظر رکھنا اور مزید وسائل کا انتظام کرنا چاہیے تھا۔ بی بی سی سے گفتگو میں ایک رضا کار نے اپنی شناخت مخفی رکھنے کی شرط پر بتایا کہ وہ تقریباً 20 سال قبل انڈیا اور پاکستان کے مسلح تنازعے کے عروج پر کارگل سے لائے گئے زخمیوں اور ہلاک افراد کو دیکھ کر بے حد افسردہ ہوئے تھے۔ اپریل 1999 میں کارگل قصبے کے قریب لائن آف کنٹرول کے ساتھ ساتھ گشت کرنے والے انڈین سپاہیوں پر پہاڑوں کے اوپر سے فائرنگ کی گئی۔ چند دن بعد انڈین فوج کو معلوم ہوا کہ لائن آف کنٹرول سے انڈیا کی طرف واقع وہ چند چوکیاں جو انھوں نے خراب موسم کی وجہ سے خالی کر دی تھیں، اب ان پر پاکستان سے آنے والے مسلح افراد نے قبضہ کر لیا تھا۔ انڈین حکام کو بعد میں یہ احساس ہوا کہ خالی چوکیوں پر قبضہ کرنے والے زیادہ تر لوگ پاک فوج کی ناردرن لائٹ انفینٹری یعنی این ایل آئی کے تربیت یافتہ سپاہی تھے۔ ردِعمل میں انڈین حکومت نے انھیں علاقے سے نکالنے کے لیے ایک بڑی فوجی کارروائی شروع کر دی جو کہ تقریباً تین ماہ تک جاری رہی۔
مذکورہ پاکستانی رضاکار کہتے ہیں کہ اس دن میں نے فیصلہ کیا کہ اب میں لوگوں کو ہمارے ساتھ شامل ہونے اور انڈیا کے خلاف فوج کا ساتھ دینے کی ترغیب دوں گا۔ انہوں نے پاکستانی فوج سے 1987-88 میں عسکری تربیت حاصل کی۔ بعد میں انھوں نے پاکستانی فوج کی ایک جانباز فورس نامی مجاہد رجمنٹ میں شمولیت اختیار کر لی جسے دورانِ جنگ دوسری دفاعی صف کے طور پر فوج کی مدد کے لیے تیار کیا گیا تھا۔ پانچ سال بعد انھیں طبی بنیادوں پر فوج سے ریٹائرمنٹ لینی پڑی مگر وہ کہتے ہیں کہ جب کارگل تنازع شروع ہوا تو انھوں نے اس امید کے ساتھ فوج کا ساتھ دینے کی ٹھانی کہ شاید سرینگر کو انڈیا کے قبضے سے آزاد کروایا جا سکے۔ جنگ کے دوران سکردو سے کوئی سو کلومیٹر دور خپلو میں فوج کے ایک بیس کیمپ میں سویلین جنگجو بھی بڑی تعداد میں شمولیت اختیار کر رہے تھے۔ ان میں سے زیادہ تر کشمیری تھے مگر کچھ پاکستانی بھی تھے۔ وہ کہتے ہیں کہ گلگت بلتستان کے لوگوں نے کارگل جنگ کے دوران بڑی قربانیاں دیں۔ انھوں نے اپنی ذاتی گاڑیاں، جیپیں، ٹریکٹر اور ٹرک فوج کے لیے خوراک و سامانِ رسد پہنچانے کے لیے مختص کر دیں۔ وہ خپلو کے بیس کیمپ میں رضاکاروں کی قیادت کر رہے تھے۔ انھوں نے فوج کے ساتھ کئی ماہ سرحد کی پاکستانی جانب رشید پوسٹ پر گزارے اور اپنی گاڑی میں جنگجوؤں کو خوراک اور ایندھن سمیت سرحد پر پہنچاتے رہے۔ وہ بتاتے ہیں کہ میرے پاس ایک بہت اچھی لینڈ کروزر تھی۔ پورے علاقے کے لوگ جنگجوؤں کے لیے خوراک عطیہ کر رہے تھے۔ دس سے بھی زیادہ مرتبہ ایسا ہوا کہ میں گاڑی بھر کر خشک میوہ جات اور خشک گوشت فوج کے کیمپ تک لایا جسے بعد میں جنگجوؤں میں تقسیم کر دیا گیا۔ وہ کہتے ہیں کہ دوسری جانب انڈین فوج کے پاس زبردست وسائل تھے۔ ’ان کی سڑکیں بہتر تھیں، ان کے اسلحہ بردار ٹرک باآسانی نقل و حرکت کر رہے تھے اور انڈین فورسز مسلسل زمین اور فضا سے فائرنگ اور گولہ باری کر رہی تھیں۔
دوسری جانب پاکستانی سائڈ پر انفراسٹرکچر خستہ حالی کا شکار تھا اور زیادہ تر سڑکیں مکمل طور پر تباہ ہو چکی تھیں۔ گلگت کے لوگ جما دینے والی سردی کے عادی ہیں مگر اس کے باوجود جب انڈین فوج کی گولہ باری سے پاکستانی فوج کو سامانِ رسد کی فراہمی متاثر ہوئی اور انڈیا کی جانب سے علاقے کی ناکہ بندی کر دی گئی تو سپاہیوں اور جنگجوؤں کے لیے پہاڑوں میں کئی ہفتوں تک گزارہ کرنا مشکل ہو گیا تھا۔ ایک وقت تو ایسا آیا کہ کیمپ میں موجود رضاکاروں کو دو روز تک کھانا نہیں مل سکا۔ ہم نے ایک ایسے مقام پر قبضہ کیا تھا جو رشید پوسٹ سے کچھ سو فٹ اوپر تھا جہاں میں موجود تھا۔ رات کے وقت ہم دوسری جانب پانی اور کھانا پہنچایا کرتے تھے۔ رات کو جب شیلنگ تھم جاتی تو ہم اپنے جسم سے تیس کلو اشیائے خوردونوش باندھ کر برف پوش پہاڑوں پر رینگتے ہوئے جنگجوؤں کو سامان پہنچا دیتے۔ چار جولائی 1999 جنرل مشرف کے اصرار پر دورہ امریکہ کے بعد شدید بین الاقوامی دباؤ کے نتیجے میں وزیرِ اعظم نواز شریف نے پاکستانی فورسز نکال لینے پر رضامندی ظاہر کر دی تھی۔ لیکن کارگل کی جنگ میں شریک کئی رضاکار اب بھی سیاسی قیادت کی جانب سے فوجیں نکالنے کے فیصلے پر افسوس کرتے ہیں اور ان کا ماننا ہے کہ اس فیصلے سے پاکستان کو بھاری نقصانات اٹھانے پڑے۔ ان کا اندازہ ہے کہ اس مسلح تنازعے میں تقریباً ایک ہزار سپاہی شہید ہوئے۔ تاہم سابق وزیراعظم نواز شریف کا موقف ہے کہ آرمی چیف جنرل پرویز مشرف نے کارگل کی جنگ ان کو علم میں لائے بغیر شروع کی اور اس دوران ہونے والے نقصان کے ذمہ دار وہ نہیں بلکہ مشرف تھا۔
