پارٹی کے اندر سے عمران کے خلاف تحریک استحقاق آنے کا امکان

وزیراعظم عمران خان کی جانب سے اپنی جماعت کے اراکین اسمبلی کو تحریک عدم اعتماد پر ووٹنگ والے دن ایوان میں جانے سے روکنے کے خلاف حکومتی ایم این ایز کی جانب سے اپنے کپتان کے خلاف تحریک استحقاق جمع کروانے کا منصوبہ تیار کیا جا رہا ہے جس پر عمل درآمد حکومت کے لیے ایک بڑا دھچکا ثابت ہوگا۔ یاد رہے کہ وزیراعظم کے خلاف اپوزیشن کی تحریک عدم اعتماد ناکام بنانے کیلئے آرٹیکل 63 اے کے تحت حکومتی اراکین کو تحریری صورت میں ووٹنگ کے وقت اجلاس میں شرکت سے منع کر دیا گیا یے۔ تاہم اپوزیشن کے رابطوں میں آ جانے والے حکومتی جماعت کے ممبران قومی اسمبلی اس فیصلے پر نالاں ہیں اور اسے غیر آئینی قرار دیا جا رہا ہے۔
باخبر ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ وزیراعظم کی جانب سے بطور پی ٹی آئی چیئرمین ممبران اسمبلی کو ووٹنگ کے روز اجلاس میں شریک نہ ہونے کا حکم نامہ خود ان کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے اور اس کی بنیاد پر کوئی بھی حکومتی رکن اسمبلی یہ موقف اختیار کر سکتا ہے کہ اس فیصلے سے بطور ممبر اسکا استحقاق مجروح ہوا ہے لہذا اسے واپس لیا جائے۔اگر حکومتی اراکین کی جانب سے اپنے ہی قائد کے خلاف کوئی تحریک استحقاق پیش ہو گئی تو یہ ملکی سیاسی تاریخ کا پہلا واقعہ ہو گا۔
سینئر صحافی نصرت جاوید بھی اس ڈویلپمنٹ کی تصدیق کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ کئی باغی حکومتی اراکین اسمبلی ایسا کرنے کا سوچ رہے ہیں کیونکہ انہیں حزب اختلاف کی تحریک کامیابی سے ہمکنار ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔ انکا کہنا یے کہ اگر حکومت اپنی کامیابی بارے پر اعتماد ہوتی تو عمران خان اپنی جماعت کے اراکین کو اسمبلی اجلاس میں شرکت سے نہ روکتے۔ اگر حکومت کو اپنی پوزیشن مضبوط نظر آرہی ہوتی تو وہ وزیراعظم کے خلاف تحریک عدم اعتماد جمع ہونے کے تین دن بعد ہی ایوان کا اجلاس بلا لیتی اور وہاں اپنی اکثریت دکھا کر اپوزیشن کو خفت سے دو چار کر دیتی۔ لیکن حکومت کی جانب سے قومی اسمبلی کا اجلاس جلد ازجلد طلب کرنے کے بجائے اسے زیادہ سے زیادہ دنوں تک ٹالنے کی ہر ممکن کوشش کی جا رہی ہے جس سے اس کی اپنی کمزوری کا اظہار ہوتا ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ وزیر اعظم کی جانب سے عدم اعتماد پر ووٹنگ والے دن اپنے اراکین اسمبلی کو ایوان سے دور رکھنے کا فیصلہ دراصل اپنی ہی جماعت پر اظہار عدم اعتماد ہے۔ بقول نصرت جاوید، یہ چورن بھی بازار میں بیچا رہا ہے کہ وزیر اعظم تحریک عدم اعتماد پر گنتی کے لئے بلائے اجلاس سے قبل سپیکر قومی اسمبلی کو باقاعدہ چٹھی کے ذریعے آگاہ کریں گے کہ ان کے خلاف حکومتی اراکین کے ڈالے گے ووٹوں کو مسترد ٹھہراتے ہوئے شمار ہی نہ کیا جائے۔ منحرف اراکین کی نااہلی کے لئے الیکشن کمیشن کو متحرک کرنے کو سپیکر ہی کی جانب سے سرکاری چٹھی بھی اسی دن لکھ دی جائے۔
سیاسی تجزیہ کار کہتے ہیں کہ وزیراعظم کی جانب سے اپنی جماعت کے اندر ممکنہ بغاوت کو دبانے کے لیے اراکین اسمبلی کو ڈرانے کی حکمت عملی بچگانہ ہے اور حکومت پر حاوی گھبراہٹ کا اظہار ہے۔ اس حکمت عملی نے مطلوبہ اہداف کے حصول کے بجائے واضح کر دیا ہے کہ حکومت کے اپنے بندے پورے نہیں ہیں۔ اسی باعث حکومت کی اتحادی جماعتیں بھی فیصلے کی اس گھڑی میں عمران کی حمایت میں ڈٹے رہنے کے عوض اپنے حصے سے کہیں زیادہ کی طلب گار ہیں۔
اس معاملے پر نصرت جاوید کہتے ہیں کہ حکومتی اراکین کو اسمبلی اجلاس سے دور رکھنے کی تجویز رعونت سے پیش کرتے ہوئے یہ حقیقت بھی فراموش کردی گئی کہ کسی بھی رکن اسمبلی کو ووٹ ڈالنے کے حق سے محروم رکھنا آئین کی سنگین ترین خلاف ورزی ہے۔ تحریک عدم اعتماد پر گنتی کے دوران حکومتی صفوں سے باہر آیا رکن اسمبلی فلور کراسنگ کے خلاف بنائے قوانین کی وجہ سے یقیناً نااہل ہوسکتا ہے۔ اس کی نااہلی یقینی بنانے کے لئے مگر لازمی ہے کہ وہ تحریک عدم اعتماد پر گنتی کے لئے بلائے اجلاس میں موجود ہو اور وہاں وزیر اعظم کے خلاف ووٹ ڈالنے کھڑا ہو جائے۔ حکومتی اراکین کو محض ایک چٹھی لکھ کر تحریک عدم اعتماد پر ہوئی گنتی کے اجلاس میں شرکت سے روکا نہیں جا سکتا۔ انکا کہنا ہے کہ اس ضمن میں لکھی چٹھی بلکہ کئی حکومتی اراکین کو وزیر اعظم کے خلاف تحریک استحقاق پیش کرنے کا حق فراہم کردے گی اور حکومتی اراکین کی جانب سے اپنے ہی قائد کے خلاف پیش ہوئی تحریک استحقاق ہماری سیاسی تاریخ کو ایک اور شرمسار کردینے والی مثال مہیا کر سکتی ہے۔
