پارک لین ریفرنس: اعتراض کے باوجود زرداری پر فردِ جرم عائد

پاکستان کی سیاسی تاریخ میں پہلی مرتبہ اسلام آباد کی احتساب عدالت نے ایک سابق صدر پاکستان آصف زرداری سمیت 10 ملزمان پر پارک لین کمپنی ریفرنس میں اعتراضات کے باوجود فرد جرم عائد کر دی۔ تاہم تمام ملزمان نے صحتِ جرم سے انکار کیا ہے۔

10 اگست کو نیب کی طرف سے دائر کیے گئے ریفرنس میں آصف علی زرداری کو پارک لین کمپنی کے ڈائریکٹر کے طور پر نامزد کیا گیا ہے۔ آصف زرداری عدالت میں پیش نہیں ہوئے اور کراچی میں اپنی رہائش گاہ سے ویڈیو لنک کے ذریعے ان پر فرد جرم عائد کی گئی۔ یہ پہلا مقدمہ ہے جس میں کسی شخض کے عدالت میں پیش نہ ہونے کی وجہ سے ویڈیو لنک کے ذریعے اس پر فرد جرم عائد کی گئی ہو۔ سابق صدر کے وکلا کے مطابق ان کے موکل علیل ہیں جس کی وجہ سے وہ عدالت میں پیش نہیں ہوسکتے۔ پیر کے روز مقدمے کی کارروائی کے دوران سابق صدر نے احتساب عدالت کے جج کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اُنھیں پتا ہے کہ فرد جرم کیسے عائد ہوتی ہے کیونکہ وہ گذشتہ 30 سال سے ایسے مقدمات کا سامنا کر رہے ہیں۔ اُنھوں نے کہا کہ ان کے وکیل سپریم کورٹ میں مصروف ہیں اس لیے آپ آج کل فرد جرم عائد نہیں کر سکتے۔ جواب میں احتساب عدالت کے جج نے ان کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ہم آپ کو الزام پڑھ کر سناتے ہیں، آپ جواب دیجیے گا اور کہا کہ چارج شیٹ کے الزامات سننے کے لیے وکیل کی ضرورت نہیں ہے۔ آصف زرداری نے احتساب عدالت کے جج کو دوبارہ مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ’مائی لارڈ آپ آرڈر میں لکھیں کہ اسوقت میرا وکیل موجود نہیں ہے۔‘
اس کے بعد احتساب عدالت کے جج نے آصف زرداری کو مِخاطب کرتے ہوئے کہا ’مسٹر آصف علی زرداری، میں آپ کو چارج شیٹ سنا رہا ہوں۔‘ نیب کی طرف سے دائر کیے گئے ریفرنس پر فرد جرم عائد کرتے ہوئے احتساب عدالت کے جج نے سابق صدر سے کہا کہ ’آپ نے جعلی فرنٹ کمپنی بنا کر نیشنل بنک کا قرض خردبرد کیا۔ اس کے علاوہ ملزم نے بطور صدر پاکستان نیشنل بینک پر دباو ڈال کر قرض لیا۔‘ اس دوران زرداری نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے فرد جرم کی صحت سے انکار کیا۔ فرد جرم عائد کیے جانے سے قبل زرداری سمیت دیگر ملزمان کی حاضری لگائی گئی۔ فرد جرم عائد کیے جانے سے پہلے ملزمان کے وکلا نے عدالت سے استدعا کی کہ پہلے ان کی ان کے موکلوں سے ملاقات کروائی جائے جس کے بعد فرد جرم عائد کیے جانے کا مرحلہ شروع کیا جائے تاہم عدالت نے یہ استدعا مسترد کر دی۔ احتساب عدالت کے جج نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ فرد جرم عائد ہونے کے بعد تمام ملزمان کی ان کے وکلا سے ملاقات کروائی جائے گی۔ اس مقدمے کے شریک ملزمان انور مجید، شیر علی، فاروق عبد اللہ، محمد سلیم فیصل پر بھی ویڈیو لنک کے ذریعے فرد جرم عائد کر دی گئی جبکہ راولپنڈی کی اڈیالہ جیل میں موجود ملزم محمد حنیف پر فرد جرم عائد کر دی گئی ہے اور تمام ملزمان نے صحت جرم سے انکار کیا ہے۔
واضح رہے کہ اس مقدمے میں اسلام آباد ہائی کورٹ نے سابق صدر آصف زرداری کو ضمانت پر رہا کیا ہوا ہے۔ اس مقدمے کی گونج دسمبر 2018 میں اس وقت سننے میں آئی جب پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو اور شریک چیئرمین آصف علی زرداری کو راولپنڈی نیب نے اسلام آباد کے نواحی علاقے سنگجانی میں قیمتی اراضی کو سستے داموں خریدنے کی الزام میں بلایا۔ نیب نے ان پر الزام عائد کیا انھوں نے پارک لین اسٹیٹ نامی اپنی نجی کمپنی کے ذریعے سنہ 2009 میں 2460 کنال زمین جس کی اصل مالیت دو ارب روپے سے زیادہ ہے اسے صرف 6 کروڑ 20 لاکھ روپے میں خریدا ہے۔ پارک لین اسٹیٹ کمپنی آصف زرداری، بلاول بھٹو اور دیگر افراد کی مشترکہ ملکیت ہے اور سکیورٹی ایکسچینج کمشین آف پاکستان (ایس ای سی پی) کے ریکارڈ کہ مطابق اس کمپنی کے ایک لاکھ 20 ہزار شیئرز ہیں جن میں سے بلاول بھٹو اور آصف علی زرداری 30، 30 ہزار شیئرز کے مالک ہیں۔ یہ مقدمہ نیا نہیں اس سے قبل بھی سنہ 1997 میں آصف زرداری پر اس وقت کے احتساب بیورو نے اسلام آباد کی نواحی علاقے سنگجانی میں 2460 کنال کی قیمتی اراضی کو سستے داموں خریدنے کے الزام میں دائر کیا تھا۔ تاہم ناکافی شواہد اور عدم ثبوتوں کے باعث اس مقدمہ کو خارج کر دیا گیا۔ اس وقت احتساب بیورو کے سربراہ سیف الرحمان تھے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button