پاناما پیپرز کی خبر بریک کرنے والا صحافی آج مایوس کیوں؟

پانچ برس پہلے پاناما پیپرز سکینڈل میں سابق وزیر اعظم نواز شریف کا نام بریک کرنے والے سینئر صحافی عمر چیمہ کہتے ہیں کہ پاکستان میں بدقسمتی سے پاناما پیپرز کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کیا گیا نا کہ ملکی مفاد کے لیے۔ جن لوگوں کی شکلیں پسند نہیں تھیں، انہیں ہٹانا مقصود تھا لہٰذا وہ تو کر دیا گیا لیکن دیگر سینکڑوں لوگوں کے خلاف کسی قسم کی کوئی کاروائی نہیں کی گئی۔
آج سے پانچ برس پہلے جب پاناما پیپرز سکینڈل سامنے آیا تو نہ صرف پاکستان بلکہ دنیا بھر میں اس کے اثرات دیکھے گے۔ کئی ممالک کے سربراہان کے خلاف تحقیقات ہوئیں اور ان کو مشکلات کا سامنا پڑا۔ پاکستان میں سابق وزیراعظم نواز شریف بھی پاناما پیپرز کے تناظر میں ہونے والی تحقیقات کا نشانہ بنے۔ سپریم کورٹ نے پاناما پیپرز کیس میں ہی نواز شریف کے خلاف کارروائی شروع کی اور پھر انکو وزارت عظمیٰ سے ہٹا دیا۔
پاناما پیپرز ایک ایسی سٹوری تھی جس نے پوری دنیا میں تہلکہ مچایا۔ برطانیہ کی ملکہ، آئس لینڈ کے وزیراعظم، یوکرائن کے صدر، بالی وڈ اداکار امتیابھ بچن، گلوکارہ شکیرا اور میڈونا جیسے مشہور افراد کے نام پاناما پیپرز کی ڈیٹا بیس میں آئے۔ ان افراد یا ان کے قریبی لوگوں کی آف شور کمپنیوں کی مختلف پراپرٹیز کی تفصیلات بھی سامنے آئیں۔ اس خبر پر کام کرنے کے لیے تحقیقاتی صحافیوں کے بین الاقوامی کنسورشیم نے مختلف ممالک سے جرنلسٹ حضرات کو اکٹھا کر کے اس خبر پر تحقیقات کیں، پاکستان سے دی نیوز کے صحافی عمر چیمہ نے پانامہ پیپرز سکینڈل پر کام کیا۔
پاناما پیپرز سکینڈل کے پانچ سال مکمل ہونے پر پاکستان میں اس پر تحقیقات کرنے اور خبر دینے والے صحافی عمر چیمہ سے حال ہی میں پوچھا گیا کہ وہ پانچ سال بعد اپنی اس خبر اور اس کے بعد کے واقعات پر کتنا مطمئن ہیں۔ عمر چیمہ کا کہنا تھا کہ ’جب پاناما پیپرز کیس میں جب نواز شریف کے خلاف سپریم کورٹ کا فیصلہ آیا تو میں شروع میں بڑا پرجوش تھا۔ لوگ سوشل میڈیا پر مجھے مبارکبادیں دے رہے تھے اور میں انہیں سمیٹنے میں مصروف تھا کہ اس دوران سپریم کورٹ کے فیصلے کی کاپی آ گئی جس کو پڑھنے کے بعد میرے تاثرات بالکل بدل گئے اور مجھے یہ فیصلہ انتہائی مضحکہ خیز لگا۔‘
عمر کے مطابق ان کی خبر کو ’ویپنائز‘ تو کیا گیا مگر غیر جانبدارانہ طریقے سے اور ’انصاف کرنے کا جو پیمانہ ہوتا ہے ویسا نہیں اپنایا گیا تھا۔‘
اگر کسی صحافی کی خبر سے کوئی اعلیٰ عہدیدار نوکری سے فارغ ہو جائے یا اس پر ریاستی مشینری حرکت میں آ جائے تو یہ ایک صحافی کے لیے قابل فخر بات ہوتی ہے۔ پاناما پیپرز میں تو وزیراعظم نواز شریف کو ان کے عہدے سے ہٹایا گیا تھا۔ تو یہ خبر عمر چیمہ کے لیے ضرور ان کے کیریئر کی سب سے اہم خبر ہو گی۔ مگر عمر اس سے اتفاق نہیں کرتے۔ عمر چیمہ کے مطابق: ’بطور صحافی ہماری خواہش ہوتی ہے کہ ہماری سٹوری کا اثر ہو لیکن اگر اس کو کچھ لوگ اپنے ذاتی یا سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کریں تو اس میں خوشی والی بات نہیں ہونی چاہیے۔ مجھے کم از کم اس بات کی خوشی نہیں تھی کہ جس انداز میں چیزیں آگے بڑھیں، لوگ اور کئی ادارے ایک پیج پر آئے، یہ کوئی احسن طریقہ نہیں تھا۔ اور وہ فیصلہ بھی احسن فیصلہ نہیں تھا۔‘
عمر چیمہ کے مطابق پاناما پیپرز نواز شریف کی وجہ سے زیادہ خبروں میں رہا مگر ان کی کیریئر کی ایک اور سٹوری ان کی نظر میں زیادہ اہم رہی اور وہ خبر تھی جس میں 2012 میں انہوں نے تمام پارلیمنٹرینز کے ٹیکس کی تفصیلات چھاپی تھی۔ اس خبر کے بعد اسے دنیا بھر کے اہم اخباروں نے اٹھایا اور اس کے بعد 2013 کے انتخابات میں الیکشن کمیشن نے ایف بی آر سے ڈیٹا کی تصدیق کرنے کا عمل شروع کیا اور اس کے بعد ہی ایف بی آر نے اراکین پارلیمان کی تفصیلات منظر عام پر لانا شروع کیں۔ اور پاکستان دنیا کا چوتھا ملک ہے جہاں یہ تفصیلات عام کی جاتی ہیں۔ پاناما پیپرز کی خبر پاکستان میں دی نیوز نے بریک کی اور دلچسپ بات یہ ہے کہ اس خبر میں جن لوگوں کی آف شور کمپنیوں کا ذکر کیا گیا تھا ان میں اخبار کے اپنے مالک میر شکیل الرحمن کا بھی نام تھا اور دی نیوز اخبار نے اس وقت ان کا نام بھی چھاپا تھا۔ اسی حوالے سے عمر چیمہ کہتے ہیں کہ پاناما پیپرز پر تحقیقات کرتے ہوئے ان کے لے سب سے زیادہ یادگار واقعہ میر شکیل الرحمن کی آف شور کمپنی کے انکشاف اور اس پر ان کا ردعمل تھا۔
عمر چیمہ کے مطابق ’جب میر شکیل الرحمن کا نام سامنے آیا تو میرے ذہن میں یہ خیال آیا کہ اس سے کیسے نمٹا جائے۔ میں نے اپنے ایڈیٹر انصار عباسی سے بات کی اور پوچھا کہ کام تو بڑا خراب ہو گیا ہے، شکیل صاحب کا بھی نام ہے۔ جس پر انصار عباسی نے انہیں سوالات بھجوانے کا کہا۔ انصار عباسی نے بھی بغیر کسی تردد کےکہہ دیا کہ آپ سوال بھیجیں۔ میں نے شکیل صاحب کو سوال بھیجے جس طرح باقی لوگوں کو سوال بھیجے۔ میر شکیل الرحمن نے اپنے جواب کے ساتھ دستاویزی ثبوت بھی بھیجا۔۔۔۔ میر شکیل کے اس عمل سے میں بہت متاثر ہوا۔‘
پاکستان میں پاناما پیپرز میں دو سو سے زائد افراد کے نام سامنے آئے مگر پانچ سال گزرنے کے بعد صرف نواز شریف کے خلاف ہی کیس اپنے منطقی انجام کو پہنچ پایا ہے۔ باقی جن افراد کے نام آئے تھے ان کے خلاف تحقیقات یا تو شروع ہی نہیں ہوئی یا کسی سرد خانے میں ہیں۔ عمر چیمہ کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ ’یہ ایک جائز سوال ہے کہ کارروائی صرف شریف خاندان کے خلاف ہوئی۔ جب یہ سب ہو رہا تھا تو اس وقت یہ دلیل بالکل جائز تھی کہ نواز شریف وزیراعظم ہیں تو احتساب ان سے ہی شروع ہونا چاہیے مگر وقت نے بعد میں یہ ثابت کیا اس کا مقصد ہی صرف وزیراعظم کا احتساب تھا۔ ان کے علاوہ کسی اور کا احتساب مطلوب نہیں تھا۔ عمر کہتے ہیں کہ جو انصاف کے تقاضے تھے وہ پورے نہیں ہوئے۔ پاناما پیپرز کو ایشو کے طور پر نہیں لیا گیا۔ اس میں کافی لوگوں کے نام تھے۔ چاہیے تو یہ تھا کہ جو طاقتور لوگ ہیں ان کا احتساب شروع کر دیا جاتا مگر صرف ایک ہی شخص کے کیس پر ہی شروع ہوا اور وہیں ختم ہو گیا۔‘
صرف نواز شریف کے خلاف کارروائی پر مسلم لیگ ن کا یہ موقف ہے کہ پاناما پیپرز ان کی حکومت کے خلاف ایک سازش تھی۔ یہی سوال عمر چیمہ کے سامنے رکھا گیا کہ کیا پاناما پیپرز ایک سازش تھی اور کیا وہ اس سازش کا حصہ بنے؟ عمر چیمہ کہتے ہیں کہ ’پاناما پیپرز کوئی سازش نہیں تھی۔ جو لوگ مجھے جانتے ہیں بشمول ن لیگ کے افراد کے، وہ یہ نہیں مانیں گے کہ میں اس طرح کی قوتوں کے ہاتھوں استعمال ہوتا ہوں۔ یہ خبر پاکستان تک محدود نہیں تھی، بین الاقوامی خبر تھی۔ ہم جب بھی خبر کرتے ہیں تو حادثاتی پر کبھی کسی کو فائدہ ہوتا ہے اور کبھی کسی کو نقصان بھی اٹھانا پڑتا ہے۔۔۔۔ اگر یہ سازش تھی تو پھر پوری دنیا کے حوالے سے تھی؟ نواز شریف کو پھنسانے کے لیے پوری دنیا میں پاناما پیپرز تو نہیں آئے تھے۔‘
پاناما پیپرز تحقیقاتی صحافت کی دنیا کی چند اہم خبروں میں سے ایک ہے اسی لیے اسے صحافت کا سب بڑا پیولٹزر ایوارڈ بھی ملا۔ اس خبر کے پانچ سال گزرنے کے بعد کی دنیا پر عمر چیمہ کا کہنا ہے کہ ’پاناما پیپرز کا پوری دنیا پر اثر ہوا ہے۔ وسل بلوئنگ زیادہ عام ہو گئی ہے۔‘
عمر چیمہ کے مطابق آف شور کمپنیوں پر پہلے بھی بات ہوتی تھی مگر اب پاناما پیپرز آفشور کمپنیوں کے حوالے سے ایک استعارہ بن چکا ہے۔ جہاں عمر چیمہ دنیا میں اس خبر کے اثر کو مثبت طریقے سے دیکھتے ہیں وہیں پاکستان کے حوالے سے وہ مایوس نظر آتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ’پاکستان میں بدقسمتی سے پاناما پیپرز کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کیا گیا نا کہ ملکی مفاد کے لیے۔ جن لوگوں کی شکلیں پسند نہیں تھیں، انہیں ہٹانا مقصود تھا تو وہ تو کر دیا گیا۔‘
اس خبر میں کئی طاقتور افراد کی مالی تفصیلات کا انکشاف کیا گیا تھا۔ عمر چیمہ سے پوچھا گیا کہ کیا یہ خبر کرتے وقت یا اس کے بعد انہیں کوئی دھمکی ملی؟ انہوں نے بتایا کہ ’مجھے آج تک اس کیس کے حوالے سے کوئی دھمکی نہیں ملی۔ لوگوں نے اپنا موقف دیا مگر دھمکی نہیں ملی۔‘
آخر میں عمر چیمہ سے پوچھا گیا کہ کیا اگر انہیں موقع ملے کہ وہ اس خبر کو دوبارہ سے کریں تو کیا وہ ایسا کریں گے؟ عمر چیمہ کا کہنا تھا کہ اگر انہیں دوبارہ موقع ملتا ہے تو وہ ضرور کریں گے۔ ’کئی لوگ کہتے ہیں کہ مجھے پاناما پیپرز کی خبر نہیں کرنی چاہیے تھے۔ اگر کوئی میری خبر کو اپنے مقاصد کے لیے استعمال کرتا ہے تو اس کا یہ مطلب نہیں کہ میں استعمال ہوا ہوں۔ اگر دوبارہ موقع ملے تو میں ضرور یہ خبر کروں گا۔ میں نے کئی خبریں کی ہیں جن پر کوئی ایکشن نہیں ہوا۔ خبروں پر ایکشن ہونا یا نہ ہونا ہمارے بس میں نہیں ہوتا۔‘
