کرونا ڈیلٹا وائرس پاکستان میں تباہی مچانے لگا

بھارت سے پاکستان آنے والی کرونا وائرس کی ڈیلٹا لہر نے پاکستان میں تباہی مچاتے ہوئے ہلاکتوں کی تعداد میں کئی گنا اضافہ کر دیا ہے۔ صورتحال ایک مرتبہ پھر بگڑنے لگی ہے اور ملک میں ایک مرتبہ پھر کووڈ 19 کے چار ہزار سے زیادہ یومیہ مریض سامنے آنے لگے ہیں۔ حکام کا عویٰ ہے کہ ملک میں کووڈ 19 کی چوتھی لہر کی وجہ وائرس کی ڈیلٹا قسم ہے جو دوسری اقسام کے مقابلے میں زیادہ تیزی سے پھیلنے کی صلاحیت رکھتا ہے لیکن کرونا کی اس قسم کی تشخیص یعنی ’جینوم سیکوینسنگ‘ کے لیے حکومتی وسائل ناکافی ہیں۔
دوسری جانب حکام کے نزدیک ملک میں ہونے والی ویکسینیشن مہم کی رفتار اتنی تیز نہیں جتنی ان کو امید تھی یہی وجہ ہے کہ ماہرین پاکستان میں کرونا کی چوتھی لہر سے متعلق تشویش کا اظہار کر رہے ہیں۔ پاکستان میں کرونا ویکسین لگانے کی مہم فروری میں شروع ہوئی اور سرکاری اعداد و شمار کے مطابق اب تک 70 فیصد ہدف میں سے 7.5 فیصد افراد کو ویکسین لگائی جا چکی ہے۔ وزیرِ اعظم کے معاونِ خصوصی برائے صحت ڈاکٹر فیصل سلطان کے مطابق کورونا کی اس قسم سے متاثرہ افراد کی اصل تعداد اس وقت تک معلوم کرنا ممکن نہیں جب تک بڑی تعداد میں لوگوں کی جینوم سیکوینسنگ نہ کر لی جائے لیکن ‘سیکوینسنگ کرنا خاصا مہنگا کام ہے۔’
جان ہاپکنز یونیورسٹی کے مطابق دنیا بھر میں کرونا وائرس سے متاثرہ ممالک میں پاکستان 31 ویں نمبر پر ہے جہاں اب تک دس لاکھ سے زیادہ کورونا کیسز سامنے آ چکے ہیں جبکہ اموات کی تعداد 23000 سے زیادہ ہے۔
ابھی تک ملک میں کرونا وائرس کی ڈیلٹا قسم کا شکار افراد کی صحیح تعداد کا علم ہیں لیکن ایک اندازے کے مطابق ان میں سے زیادہ تر افراد کا تعلق کراچی سے ہے۔ محکمہ صحت سندھ کے ایک ترجمان کا کہنا ہے کہ ‘کرونا کی ڈیلٹا قسم کا شکار افراد کی تعداد کا اندازہ وسائل کی کمی کے باعث نہیں لگایا جا سکتا۔ ان کا کہنا تھا کہ ‘جینوم سیکوینسنگ کے مہنگے ہونے کی وجہ سے اس ضمن میں ہماری استعداد محدود ہے۔
بلوچستان حکومت کے ترجمان لیاقت شاہوانی کا کہنا تھا کہ بلوچستان میں کورونا کی ڈیلٹا قسم کے اب تک 34 کیسز کا سراغ لگایا جا سکا ہے جن میں سے زیادہ تر یعنی 19 کی تصدیق گوادر میں ہوئی۔لیاقت شاہوانی کا مزید کہنا تھا کہ ‘ہمیں خدشہ ہے کہ وائرس کی اس قسم کا پھیلاؤ بڑے پیمانے پر ایرانی سرحد سے متصل مکران کے علاقے میں زیادہ ہے۔’
ڈائریکٹر پبلک ہیلتھ خیبر پختونخوا ڈاکٹر یاسر یوسفزئی کا کہنا تھا کہ اگرچہ ابھی تک صوبے میں ڈیلٹا قسم کے لیے باقاعدہ ٹیسٹنگ کی شروعات تو نہیں ہوئی لیکن جو 20 نمونے حال ہی میں جانچ کے لیے اسلام آباد بھجوائے گئے تھے ان میں سے تین میں ڈیلٹا قسم کی تصدیق ہوئی ہے۔ ڈاکٹر یاسر کا مزید کہنا تھا کہ ‘پاکستان میں کورونا کی تیسری لہر کا باعث کورونا وائرس کی ایلفا قسم بنی تھی لیکن یہ چوتھی لہر ڈیلٹا قسم کے باعث ہے۔’
اسلام آباد کے ڈائریکٹر جنرل ہیلتھ ڈاکٹر عروج حسن کا کہنا تھا کہ ‘یہ تخمینہ لگایا جا رہا ہے کہ اسلام آباد کے مثبت کیسز میں سے کم از کم 60 فیصد ڈیلٹا قسم کے ہیں۔’ یاد رہے کہ کورونا وائرس کی ڈیلٹا قسم کی پہلی مرتبہ تشخیص اکتوبر 2020 میں انڈیا میں ہوئی تھی اور عالمی ادارہ صحت کے مطابق اب تک یہ تقریباً 100 سے زیادہ ممالک میں پھیل چکا ہے جس کی بنا پر متعدد ممالک کو دوبارہ سے سفری و دیگر پابندیاں لگانی پڑیں۔