پاور سیکٹرسکینڈل: تحقیقاتی کمیشن کا سربراہ ریٹائرڈ جج کو لگانے کا فیصلہ

حکومت نے پاور سیکٹر اسکینڈل کی تحقیقات کے لیے انکوائری کمیشن کا سربراہ ریٹائرڈ جج کو لگانے کا فیصلہ کر لیا ہے۔پاور سیکٹر انکوائری کمیشن کے سربراہ کے لیے جسٹس ریٹائرڈ اعجاز افضل کے نام پرغور کیا جا رہا ہے
ذرائع کا کہنا ہے کہ پاور سیکٹر انکوائری کمیشن کو ٹی او آر بنا کر دیے جانے کا بھی امکان ہے۔ذرائع کا بتانا ہے کہ پاورسیکٹر انکوائری کمیشن کے سربراہ کی تعیناتی کا اعلان چند روز میں کیے جانے کا امکان ہے۔سپریم کورٹ کے جسٹس ریٹائرڈ اعجاز افضل پاناما کیس کی سماعت کرنے والے بینچ کا حصہ رہے ہیں۔
یاد رہے کہ چند روز قبل پاور سیکٹر کی تحقیقاتی رپورٹ وزیراعظم کو پیش کی گئی تھی جس میں انکشاف کیا گیاتھا کہ پاور سیکٹر کے ذریعے قومی خزانے کو سالانہ 100 ارب روپے سے زائد کا نقصان پہنچایا گیا. پاورسیکٹر انکوائری رپورٹ کے مطابق گزشتہ 13سال میں پاور سیکٹر میں کرپشن کر کے قومی خزانے کو 4ہزار802ارب روپے کا نقصان پہنچایا گیا ہےپاورسیکٹر انکوائری رپورٹ کے مندرجات کے مطابق 13سال میں قومی خزانے کو 4ہزار802ارب روپے کا نقصان ہوا جس میں سبسڈی اور گردشی قرضے کی وجوہات بھی شامل ہیں۔رپورٹ میں گردشی قرضے اور بجلی کے نرخوں میں کمی کیلئےہنگامی اقدامات کرنے اور آئندہ 5سال تک نیاپاورپلانٹ لگانے پر پابندی عائد کرنے کی سفارش کرتے ہوئے کہا سبسڈی اور گردشی قرضے میں صوبوں کوشامل کیا جائے، زیرتعمیرپاورپلانٹس پرنظرثانی کی جائے اور 25سال والے پلانٹس سے بجلی خریداری بند کی جائے، نیز کے الیکٹرک کو 1600میگاواٹ کے نئے پاورپلانٹ لگانے سے روکا جائے۔رپورٹ میں بتایا گیا کہ زیادہ تر آئی پی پیز کے پے بیک کا دورانیہ 2سے4سال کے درمیان رہا، 16آئی پی پیز نے 50ارب80کروڑ روپے کی سرمایہ کاری کی اور 415ارب روپے سے زائد کا منافع حاصل کیا۔گزشتہ روز صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے بھی کہا تھا کہ پاور سیکٹر کی تحقیقاتی رپورٹ دیکھی ہے جس سے پتہ چلتا ہے کہ ملک کے ساتھ اجتماعی زیادتی کی گئی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button