پاکستانی جمہوری نظام ڈھکوسلہ اور دوغلہ کیوں قرار پایا؟

پاکستان کی نام نہاد پارلیمانی جمہوریت کا ڈھکوسلہ اس وقت چوک میں کھل گیا جب ایک عالمی تحقیقاتی ادارے نے یہ قرار دیا کہ پاکستان میں نہ تو جمہوریت ہے اور نہ ہی آمریت بلکہ وہاں ایک دوغلا یعنی ہائبرڈ نظام حکومت رائج ہے جس میں شہری آزادیاں مفقود ہیں، سویلین حکومت کمزور ہے اور فوج کا غلبہ ہے۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ پاکستان میں سیاسی کلچر پائیدار نہیں، اور اداروں کو آزادانہ کام نہیں کرنے دیا جاتا۔
سیاسی تجزیہ کاروں کے نزدیک اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ پاکستان میں صرف دو مرتبہ یعنی 2008 سے 2018 تک دو جمہوری حکومتوں نے مسلسل اپنی مدت پوری کی ورنہ قیام پاکستان سے لے کر اب تک نہ تو کسی منتخب وزیراعظم کو اپنی پوری کرنے دی گئی اور نہ ہی مسلسل پانچ سال پارلیمانی جمہوریت چل سکی۔ پاکستان کی 73 سالہ سیاسی تاریخ میں تقریبا نصف عرصہ فوجی حکومتیں برسراقتدار رہیں۔ اس فوجی نرسری سے جنم لینے والے سیاستدان آج بھی فوجی اسٹیبلشمنٹ کے پروردہ ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ملک کے معروضی حالات کو مد نظر رکھتے ہوئے ایسے سیاستدانوں کے ٹولے کو تحریک انصاف نامی جماعت میں اکٹھا کر کے دھاندلی زدہ انتخابات کے ذریعے اقتدار سونپ دیا گیا۔ تاہم سب جانتے ہیں کہ ڈرائیونگ سیٹ پر فوجی اسٹیبلشمنٹ ہے اور گاڑی کی سواریاں نام نہاد منتخب نمائندے ہین۔ لیکن یہ تاثر دینے کی کوشش کی جاتی ہے کہ ملک میں پارلیمانی جمہوری نظام چل رہا ہے۔
سیاسیات کے ماہرین اور جمہوریت پر تحقیق کرنے والوں کا ماننا ہے کہ پاکستان میں اپنی طرز کا ایک منفرد ہائبرڈ یعنی عجیب طرز کا مرکب یا دوغلا پارلیمانی نظام حکومت رائج ہے جس میں منتخب نمائندے فوجی اسٹیبلشمنٹ کی مدد سے ایگزیکٹو کی ذمہ داریاں انجام دے رہے ہیں اور اختیارات کا منبع اور فیصلہ سازی کا اختیار بدستور اسٹیبلشمنٹ کے پاس ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عالمی ادارے پاکستان کو ایک خالص پارلیمانی جمہوریت ماننے کو تیار نہیں ہیں بلکہ اسے آئینی مارشل لاء قرار دیا جاتا ہے۔
یاد رہے کہ دنیا کے مختلف ممالک میں جمہوری نظام کا جائزہ لینے والی بین الاقوامی تحقیقاتی تنظیم نے اپنی رپورٹ میں پاکستان کے نظام حکومت کو ہائبرڈ یا مرکب قرار دیا ہے یعنی پاکستان میں خالص پارلیمانی جمہوریت ہرگز رائج نہیں ہے۔ حال ہی میں مرتب کی جانے والی ڈیموکریسی انڈیکس 2020 نامی رپورٹ میں پاکستان سمیت دنیا بھر کے 165 آزاد ممالک اور دو خود مختار خطوں میں رائج جمہوریت کا جائزہ لیا گیا ہے۔ بین الاقوامی جزیرے ’دی اکانومسٹ‘ کے انٹیلیجنس یونٹ ’ای آئی یو‘ کی جمہوریت کے حوالے سے جاری کردہ اس فہرست میں پاکستان 167 میں سے 105ویں نمبر پر ہے اور 2020 میں ملک کا مجموعی سکور 4.31 ریکارڈ کیا گیا ہے، جو گزشتہ دو برسوں کے مقابلے کچھ بہتر ہے۔ لیکن رپورٹ کے مطابق سنہ 2016 اور اس سے پچھلے برسوں کے مقابلے پاکستان کی جمہوریت میں تنزلی دیکھی گئی ہے۔ رپورٹ میں پاکستان کو ترکی، نائجیریا اور بنگلہ دیش کے ساتھ ’ہائبرڈ نظام‘ والے ممالک کی فہرست میں شامل کیا گیا ہے۔ یاد رہے کہ رپورٹ کی تشکیل میں شہری آزادی، انتخابی نظام اور سیاسی کلچر اور اس میں مختلف سوچ کے لوگوں کی شرکت کی گنجائش جیسے عوامل کا جائزہ لیا گیا تھا۔ ای آئی یو نے پاکستان کے نظام حکومت کو ’ہائبرڈ‘ یا مختلف نظاموں کا ایک عجیب مرکب قرار دیا ہے۔ ادارے کے مطابق ہائبرڈ نظام والے ممالک میں کافی انتخابی بے ضابطگیاں ہوتی ہیں جن کی وجہ سے انھیں ’صاف اور شفاف‘ الیکشن قرار نہیں دیا جاتا ہے۔ ادارے نے تمام ملکوں کو مکمل جمہوریت، ناقص جمہوریت، ہائبرڈ اور آمریت میں تقسیم کیا ہے۔ ہائبرڈ نظام کی تعریف میں لکھا گیا ہے کہ ایسے ملکوں میں حزب اختلاف کی جماعتوں اور امیدواروں پر حکومتی دباؤ عام ہوسکتا ہے۔ کسی ناقص جمہوریت کے مقابلے میں یہاں شہری آزادی، انتخابی نظام اور سیاسی کلچر میں زیادہ کمزوریاں ہوسکتی ہیں۔اس تعریف کے مطابق ہائبرڈ نظام والے ممالک میں سول سوسائٹی کمزور ہوتی ہے۔ عام طور پر صحافیوں کو ہراس اور دباؤ کا سامنا ہوتا ہے اور عدلیہ آزاد نہیں ہوتی۔
پاکستان میں انسٹی ٹیوٹ آف لیجسلیٹیو ڈیویلپمنٹ اینڈ ٹرانسپرنسی یا پلڈاٹ کے صدر احمد بلال محبوب کے مطابق پاکستان میں بعض حلقوں میں ‘ہائبرڈ نظام’ کا عام مطلب سویلین حکومت اور فوج کا گٹھ جوڑ سمجھا جاتا ہے لیکن اس رپورٹ میں اس اصطلاح کے معنی لازماً یہ نہیں ہیں۔
پاکستان میں اپوزیشن کی جماعتوں کے اتحاد پی ڈی ایم کا دعویٰ ہے کہ وزیر اعظم عمران خان کے دورِ حکومت میں ملک کی جمہوریت کو نقصان پہنچا ہے۔ تاہم حکومت اس الزام کی تردید کرتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ڈیموکریسی انڈیکس 2020 میں ملکوں کی درجہ بندی مکمل جمہوریت، ناقص جمہوریت، ہائبرڈ نظام اور آمرانہ نظام کے تناظر میں کی گئی ہے۔ یہاں اس سے مراد ہے کہ پاکستان جمہوریت اور آمریت کی درمیانی شکل ہے۔ یعنی پاکستان میں نہ تو مکمل طور پر جمہوریت ہے اور نہ ہی آمریت۔
پلڈاٹ کے سربراہ احمد بلال محبوب کا کہنا ہے کہ پاکستان کا سکور سب سے بُرا ’سیاسی کلچر‘ میں ہے۔ اس سے بہتر سکور سیاسی شرکت میں ہے۔ یہ دو سکور سب سے بُرے ہیں۔گورننس ان سے کچھ بہتر ہے۔ اور الیکشن کا نظام اس سے بھی بہتر ہے۔ ہمیں سیاسی کلچر پر سب سے زیادہ کام کرنے کی ضرورت ہے۔
اس سوال پر کہ اس درجہ بندی سے پاکستان کے حالات اور تعلقات پر کیا فرق پڑسکتا ہے، ان کا کہنا تھا کہ اس سے کئی شعبے متاثر ہوسکتے ہیں۔ احمد بلال محبوب کہتے ہیں کہ اس سے دنیا میں پاکستان کا عام تاثر، لوگوں کا ملک میں آنا جانا یعنی سیاحت اور لوگوں کی سرمایہ کاری پر فرق پڑ سکتا ہے۔پاکستان کو اس وقت غیر ملکی سرمایہ کی بہت ضرورت ہے۔ اگر غیر ملکی سرمایہ کاروں کو یہ پتا چلے گا کہ یہ ملک ہائبرڈ ہے اور یہاں آمریت کے جراثیم بھی پائے جاتے ہیں تو یہ ان کے لیے حوصلہ شکنی کا باعث ہوگا۔
احمد بلال محبوب کا کہنا تھا کہ اس درجہ بندی کے مطابق پاکستان کے لیے بہتری کی کافی گنجائش ہے۔ انھوں نے بتایا ہے کہ پاکستان کی درجہ بندی اسی صورت بہتر ہوسکتی ہے کہ اگر گورننس، قانون کی عملداری، سیاسی کلچر اور انتخابی عمل کے مسائل دور کیے جاتے ہیں۔
ای آئی یو کی ڈیموکریسی انڈیکس 2020 میں انڈیا 53ویں نمبر ہے اور امریکہ 25ویں نمبر پر لیکن دونوں ممالک کو ناقص جمہوریت والے ملکوں میں شمار کیا گیا ہے۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سنہ 2015 سے انڈیا کی جمہوری روایات پر دباؤ ہے۔ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی، جو ہندو انتہا پسند جماعت بی جے پی کے رکن بھی ہیں، کی قیادت میں انڈیا کی عالمی پوزیشن 27ویں نمبر سے 53ویں نمبر پر آگئی ہے۔ مودی کی سربراہی میں پالیسیوں کو مسلم مخالف قرار دیا گیا ہے اور اس سے مذہب کی بنیاد پر نفرت پھیلی ہے جس سے ملک کے سیاسی ڈھانچے کو نقصان پہنچا ہے۔ رپورٹ کے مطابق انڈیا میں مودی کی سربراہی میں پالیسیوں کو مسلم مخالف قرار دیا گیا ہے اور اس سے مذہب کی بنیاد پر نفرت پھیلی ہے جس سے ملک کے سیاسی ڈھانچے کو نقصان پہنچا ہے۔ رپورٹ میں شہریت کے متنازع قانون، بابری مسجد کے انہدام اور کورونا وائرس کی روک تھام کے دوران شہری آزادیوں کی خلاف وزیوں کا تذکرہ کیا گیا ہے۔ انڈیا کے مقابلے میں اس کے ہمسایہ ممالک بنگلہ دیش، بھوٹان اور پاکستان کے مجموعی سکور میں بہتری آئی ہے۔ دوسری طرف سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی قیادت میں امریکہ کو مکمل جمہوریت سے ناقص جمہوریت والے ممالک کی فہرست میں شامل کیا گیا ہے۔
ای آئی یو کی 2020 کی رپورٹ میں ناروے پہلے نمبر ہے اور اس کے بعد آئس لینڈ، سویڈن، نیوزی لینڈ، کینیڈا، فن لینڈ اور ڈنمارک ہیں جنھیں مکمل جمہوریت والے ممالک میں شمار کیا گیا ہے۔رپورٹ میں یہ اعزاز برطانیہ، آسٹریلیا، جرمنی اور سپین کو بھی حاصل ہوا ہے۔ اس کے مطابق ایشیا میں تین نئے مکمل جمہوری ملک جاپان، جنوبی کوریا اور تائیوان ہیں۔ ایشیا میں مکمل جمہوریت والے پانچ جبکہ مغربی یورپ میں ان کی تعداد 13 ہیں۔ امریکہ کے علاوہ فرانس، پرتگال، اسرائیل، برازیل، اٹلی، ملیشیا اور جنوبی افریقہ کو بھی ناقص جمہوریت قرار دیا گیا ہے جبکہ شمالی کوریا اس فہرست میں آخری یعنی 167 ویں نمبر پر ہے۔
سینیٹ میں اطلاعات و نشریات سے متعلق قائمہ کمیٹی کے چیئرمین سینیٹر فیصل جاوید نے اس رپورٹ پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملک میں جمہوریت میں استحکام نہ آنے کی وجہ حزب مخالف کی جماعتوں کا منفی رویہ ہے۔
اُنھوں نے کہا کہ اگر حکومت لوگوں کی فلاح و بہبود اور ملک میں قانون کی عمل داری کو مزید مضبوط کرنے کے لیے کوئی قانون سازی کرنے کے لیے کوئی بل ایوان میں لیکر آتی ہے تو کی راہ میں روڑے اٹکائے جاتے ہیں۔ فیصل جاوید کا کہنا تھا کہ حکومت عوام میں سیاسی معاملات کے بارے میں شعور پیدا کرنے کے لیے کوشاں ہے اور اس ضمن میں اقدامات بھی کیے جارہے ہیں جس کی واضح مثال گلگت بلتستان میں ہونے والے حالیہ انتخابات ہیں۔اُنھوں نے تسلیم کیا کہ کچھ معامالات میں حکومت عوام کی توقعات پر پورا نہیں اترسکی تاہم اگلے ماہ سینیٹ کے انتخابات کے نتیجے میں جب ان کی جماعت سینیٹ میں اکثریتی جماعت بن کر ابھرے گی تو اس کے بعد لوگوں کی توقعات پر پورا اترنے اور عوام کو ریلیف دینے کے حوالے سے قانون سازی بھی کی جائے گی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button