پاکستانی سفارتی حکام کی ووہان میں پھنسےطلبہ سے ملاقات

دفتر خارجہ سے جاری ایک بیان کے مطابق بیجنگ میں موجود پاکستانی سفارتخانے کی 2 رکنی خصوصی وفد نے کورونا وائرس سے متاثرہ شہر ووہان کی مختلف جامعات میں زیر تعلیم پاکستانی طلبہ سے ملاقات کی۔
حکومت پاکستان کی خصوصی درخواست پر چینی حکام نے بیجنگ میں موجود پاکستانی سفارت خانے کے 2 رکنی خصوصی ٹاسک فورس کو مختلف جامعات میں زیر تعلیم پاکستانی طلبہ سے ملاقات اور بذات خود ان کی صحت و تحفظ کے حوالے سے معلومات لینے کےلیے ووہان جانے کی اجازت دی تھی۔
دفتر خارجہ کے مطابق ٹاسک فورس کو ووہان میں مستقل تعینات کردیا گیا ہے جو چینی حکام سے رابطے میں ہے اور جب وہاں کی صورت حال مکمل طور پر مستحکم ہوجائے گی اور ووہان سے لاک ڈاؤن اٹھا لیا جائے گا تو ٹاسک فورس بیجنگ واپس آجائے گی۔ ٹاسک فورس کے اراکین میں تھرڈ سیکریٹری اور ایجوکیشن اتاشی سلیمان شامل ہیں جو گزشتہ روز ووہان پہنچے تھے۔ جس کے بعد آج دونوں سفارت کاروں نے 4 جامعات میں زیر تعلیم پاکستانی طلبہ کے پاس گئے اور ان کی صحت اور ضروریات کے بارے میں براہ راست معلومات لینے کےلیے ہر جامعہ کے انتظامی عملے سے بھی بات کی جب کہ کل وہ مزید 3 جامعات کا دورہ کریں گے۔ دفتر خارجہ کا کہنا تھا کہ جامعات میں زیر تعلیم جتنے طلبہ سے سفارت کاروں کی آج ملاقات ہوئی وہ صحت مند ہیں اور ان کا اچھی طرح خیال رکھا جارہا ہے۔
کورونا وائرس کے پھیلاؤ پر پاکستانیوں کی حفاظت کےلیے اٹھائے جانے والے اقدامات کے حوالے سے دفتر خارجہ نے کہا کہ ’جب سے کورونا وائرس کے باعث صوبہ ہوبے کا لاک ڈاؤن ہے پاکستانی سفارت خانے نے پاکستانی طلبہ کو سہولیات فراہم کرنے میں متحرک کردار ادا کیا ہے‘۔
اس سلسلے میں سفارت خانے نے پاکستانی طلبہ کی جانب سے رابطہ کرنے کےلیے 2 ہاٹ لائنز بھی قائم کیں جس کے نمبرز(1)18501322992 (2) 13167543373 ہیں۔
دفتر خارجہ کے مطابق چینی حکومت کی جانب سے اس بات کی دوبارہ مکمل یقین دہانی کروائی گئی کہ پاکستانی طلبہ کی صحت اور تحفظ اس کے اپنے شہریوں کی طرح اہم ہے اور انہیں مطمئن کرنے کےلیے تمام کوششیں کی جائیں گی۔
اس سلسلے میں دن میں 2 مرتبہ ان کے جسم کے درجہ حرارت کی جانچ کی جاتی ہے اور انہیں حفاظتی اور دستانے بھی فراہم کیے گئے جب کہ وہ تمام افراد جنہیں کسی قسم کی طبی سہولت درکار تھی انہیں فوری اور بہترین طبی معاونت فاہم کی گئی۔ اس کے علاوہ چین کے حکام ان طلبہ کی نفسیاتی کونسلنگ بھی کررہے ہیں جو ڈپریشن اور دباؤ کا سامنا کررہے ہیں۔
یاد رہے کہ گوانژو شہر میں 3 پاکستانی طلبہ اور ووہان میں ایک طالب علم کورونا وائرس سے متاثر ہوا تھا جنہیں مکمل صحت یاب ہونے کے بعد اسپتال سے ڈسچارج کردیا گیا تھا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button