پاکستانی سیاست دانوں کا موازنہ طوائفوں سے کیوں ہونے لگا ؟

برصغیر پاک و ہند میں 1857 کی جنگ آزادی کے دوران باغیوں کے خلاف انگریزوں کا ساتھ دینے والے جاگیرداروں کی اولادیں آج بھی پاکستان میں چند ٹکوں اور وزارتوں کےلیے اپنا ضمیر بیچنے میں دیر نہیں لگاتیں۔ عوام نے اس قسم کے اہل سیاست کو لوٹے کا نام دیا لیکن لکھنؤ کے شاہی محلے میں لوٹے کو آفتابہ کہا جاتا ہے۔ جس طرح ملائی اور بالائی میں کوئی فرق نہیں اسی طرح لوٹے اور آفتابے میں بھی کوئی فرق نہیں۔ ضمیر فروش تو ضمیر فروش ہی رہے گا۔ جو شخص قابض فوج کے جرنیل کے سامنے ’’مارو گولی‘‘ کا نعرہ لگانے کی ہمت نہیں رکھتا اور ظالموں کا سہولت کار بن کر عہدے حاصل کرنا اپنی کامیابی سمجھتا ہے، وہ دراصل ظالم ہے۔ عوام کی نظروں میں کامیاب وہ لوگ نہیں جو ظالموں کے سہولت کار بنتے ہیں بلکہ عوام کے دلوں میں وہ لوگ بستے ہیں جو ظالم جرنیل کو چیلنج کرتے ہیں کہ ’’مارو گولی‘‘۔

سینیئر اینکر پرسن اور تجزیہ کار حامد میر روزنامہ جنگ کےلیے اپنی تازہ تحریر میں ان خیالات کا اظہار کرتے ہوئے ایک بہادر عورت کے انکار کی کہانی سناتے ہیں جس نے 1857 کی جنگ ازادی کے دوران باغیوں کے خلاف ایک انگریز جرنیل کا مخبر بننے سے انکار کر دیا تھا۔ اس انکار نے قابض فوج کے متکبر اور مکار جرنیل کو غصے میں پاگل کر دیا۔ جرنیل اس عورت کو اپنی مخبر بنانا چاہتا تھا۔ جرنیل نے اس عورت کو غدار قرار دیدیا اور موت کی سزا سنا ڈالی۔ زنجیروں میں جکڑی اس عورت کو فائرنگ سکواڈ کے سامنے کھڑا کیا گیا تو جرنیل کا خیال تھا کہ وہ گھبرا جائے گی اور رحم کی بھیک مانگے گی، لیکن اس عورت نے بندوق برداروں کو بلند آواز میں پکار کر کہا کہ ’’مارو گولی‘‘ ۔یہ سن کر جرنیل نےفائرنگ کا حکم دے دیا اور درجنوں گولیاں اس بہادر عورت کے سینے میں اتر گئیں۔

حامد میر بتاتے ہیں کہ اس بہادر عورت کا نام عزیز النسا تھا جس نے 1857ء کی جنگ آزادی میں قابض برطانوی فوج کے خلاف بغاوت میں ایک جنگجو کے طور پر حصہ لیا۔ برطانوی فوج کے افسر میجر جنرل ہنری ہیولاک نے کانپور کو فتح کیا تو مرد سپاہی کےلباس میں گرفتار ہونے والی عزیز النسا کو اس کے سامنے پیش کیا گیا۔ اسے بتایا گیا کہ یہ کانپور کی مشہور طوائف عزیز النسا ہے جو رات کو گھنگھرو پہن کر ہمارے افسروں کے سامنے ناچتی تھی اور ان کے راز چرا کر باغیوں تک پہنچاتی تھی اور پھر دن کے وقت تلوار تھام کر برطانوی فوج پر حملہ آور ہو جاتی تھی۔ ہیولاک بہت حیران ہوا کہ کانپور میں عزیزن بائی کے نام سے جانے، جانیوالی یہ پچیس سالہ طوائف ناصرف تلوار بازی اور بندوق چلانا جانتی ہے بلکہ گھڑ سواری میں بھی ماہر ہے۔ اس کا خیال تھا کہ اس ناچنے والی کو جان بخشی کے عوض باغیوں کیخلاف استعمال کیا جائے لیکن عزیزن بائی کے اندر موجود عزیز النسا نے اپنا ضمیر بیچنے سے انکار کر کے موت کو گلے لگا لیا۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ 1857 کی جنگ آزادی کی اس مجاہدہ کو زیادہ لوگ نہیں جانتے لیکن اسے گولی مارنے کا حکم دینے والے برطانوی افسرمیجر جنرل ہنری ہیولاک کا مجسمہ آج بھی لندن کے ٹریفلگر سکوائر میں نصب ہے اور لکھنؤ کے عالم باغ میں اس کا مقبرہ بھی موجود ہے۔ برطانوی سرکارنے اسے یاد رکھا کیوں کہ ہیولاک نے 1839ء میں پہلی اینگلو افغان جنگ میں بھی اہم کردار ادا کیا تھا۔ وہ کابل اور غزنی میںفاتح کی حیثیت سے داخل ہوا۔ 1857ء میں وہ کانپور اور لکھنؤ میں فاتح بن کر داخل ہوا لیکن یہ برطانوی جرنیل عزیز النسا کو فتح نہ کرسکا۔

حامد میر کہتے ہیں کہ میں عزیز النسا کی کہانی آپ کو اس لیے سنا رہا ہوں کہ کچھ سال پہلے ایک پاکستانی فلم میکر کمال خان نے اس بہادر عورت پر فلم بنانے کا فیصلہ کیا تھا۔ کمال نے ’’لال کبوتر‘‘ کے نام سے فلم بنا کر شہرت حاصل کی تھی۔ اب وہ عزیز النسا سمیت لکھنؤ اور کانپور کی ان طوائفوں پر فلم بنانا چاہتے تھے جنہوں نے 1857ء کی بغاوت میں عملی طور پر حصہ لیا۔ کمال خان نے عزیز النساپر اپنا ریسرچ ورک مکمل کرلیا اور سکرپٹ پر کام شروع کردیا لیکن افسوس کہ یہ ذمہ دقری کینے والی لاہور کی سکرپٹ رائٹر خاتون اچانک غائب ہو گئی اور اد فلم کا منصوبہ ملتوی ہو گیا۔

حامد میر بتاتے ہیں کہ حال ہی میں معروف بھارتی فلم میکر سنجے لیلا بھنسالی کا آٹھ قسطوں پر مشتمل ڈرامہ ’’ہیرا منڈی‘‘ ریلیز ہوا تو اس میں کانپور کی عزیز النسا کا کردار تو موجود تھا لیکن اس کا نام، مقام اور زمانہ بدل دیاگیا۔ وجہ کچھ بھی ہو لیکن کسی تاریخی کردار کے ساتھ اس قسم کی ناانصافی کو فکری بددیانتی قرار دیا جاتا ہے۔عزیز النسا باغی فوج کے ایک مجاہد صوبیدار شمس الدین کے بہت قریب تھی۔ اسی نے عزیز النسا کو تلواربازی اور بندوق چلانا سکھائی۔ عزیزالنساکی ماں حسن بانو گوہر لکھنؤ کی ایک ڈیرہ دار طوائف تھی جس نے اپنی بیٹی کو اعلیٰ تعلیم دلوائی۔ ماں نے اسے عزیزن بائی بنایا لیکن تعلیم نے اس کے اندر کی عزیز النساکو زندہ رکھا اور اس نے کسی نواب کی تنخواہ دار داشتہ بننے کی بجائے لکھنؤ چھوڑ دیا اور کانپور میں صرف گانے بجانے کا کوٹھا سجالیا۔ تاریخ اور ادب کے مطالعے نے عزیز النسا میں بغاوت کی آگ بھڑکا دی۔ وہ شمس الدین کے ساتھ پلاسی کی جنگ اور ٹیپو سلطان کی شہادت پر گفتگو کرتی اور شمس الدین کی وجہ سے اس کا کوٹھا رات کو مجرے کے بعد باغیوں کا ٹھکانہ بن جاتا۔ بہت سے برطانوی مورخین نے اپنی کتابوں میں عزیز النساکا ذکر کیا ہے لیکن برصغیر کے اکثر مورخین نے اس بہادر عورت کو نظر انداز کردیا ہے۔ ہندوستان کے آخری مغل بادشاہ بہادر شاہ ظفر پر 27 جنوری 1857ء سے 9 مارچ 1857ء تک لیفٹیننٹ کرنل ڈیوس کی فوجی عدالت میں چلنے والے مقدمے کی تفصیل توموجود ہے لیکن انگریزوں کے خلاف جہاد کا فتویٰ جاری کرنے والے علامہ فضل حق خیر آبادی سمیت کئی دیگر علماء کا ذکر ہماری درسی کتب میں نہیں ملتااور عزیز النسا کا ذکر تو ہماری تاریخی کتب میں بھی نہیں ملتا۔ بھارت کی ایک معروف ڈرامہ نگار تریپوراری شرما نے ’’سن ستاون کا قصہ..عزیزن‘‘ کے نام سے ایک ڈرامہ تو لکھا جو کتابی شکل میں شائع بھی ہوا لیکن کسی بھارتی فلم میکر نے اس عزیز النسا کے تاریخی کردار کوسامنے لانے کی کوشش نہیں کی جس نے میجر جنرل ہنری ہیولاک کے فائرنگ اسکواڈ کے سامنے مارو گولی کی آوازلگائی تھی۔ ستم ظریفی دیکھئے کہ عزیز النسا کی وجہ سے 1857ء کے بعد برطانوی سرکار نے لکھنؤ سے لے کر لاہور تک طوائفوں پر بہت سی پابندیاں لگا دیں۔ ان پر لائسنس اور ٹیکس کی ادائیگی لازمی کردی۔ حامد میر بتاتے ہیں کہ 25 اگست 1922ء کو میونسپل کمیٹی لاہور نے ایک حکم نامے کےتحت ہیرا منڈی لاہور کی طوائفوں کو کچھ علاقوں سے نکال باہر کیا لیکن دوسری طرف انگریز کا ساتھ دینے والے بہت سے وطن فروش نوابوں اور جاگیرداروں پر اپنی نواز شات کی بارش کردی۔ افسوس کہنیہ بارش اب بھی جاری یے۔ آپ عقیل عباس جعفری کی کتاب ’’پاکستان کے سیاسی وڈیرے‘‘ پڑھ لیں یا وکیل انجم کی ’’سیاست کےفرعون‘‘ پڑھ لیں۔ آپ کو پتہ چلے گا کہ آج بھی ہماری حکمران اشرافیہ کے زیادہ تر کردار وہی ہیں جنہوں نے 1857ء میں ناصرف باغیوں کے خلاف برطانوی سرکار کی حمایت کی بلکہ ان کی فوج میں شامل ہو کر باغیوں کی سرکوبی کی۔

Back to top button