پاکستانی سیاست پر قابض لوٹے بننے والے 100 الیکٹیبلز


وزیراعظم عمران خان کے خلاف اپوزیشن اتحاد کی جانب سے تحریک عدم اعتماد دائر ہونے کے بعد ایک مرتبہ پھر تواتر سے وفاداریاں بدلنے والے ‘الیکٹیبلز‘ فوکس میں ہیں، الیکٹیبلز ایسے سیاست دان ہوتے ہیں جن کی الیکشن میں کامیابی یقینی ہوتی ہے۔ پاکستانی سیاست میں مسلسل پارٹیاں بدلنے والے الیکٹینل سیاستدانوں کی تعداد سو کے قریب ہے اور یہ لوگ پورے سیاسی نظام کو عدم استحکام سے دوچار کر سکتے ہیں۔ ہماری سیاست کی بد قسمتی یہ ہے کہ کسی پارٹی میں یہ جرات نہیں کہ وہ ان الیکٹیبلز کو لوٹے قرار دے کر قبول کرنے سے انکار کرے، بلکہ ہماری سیاسی جماعتیں مراعات دے کر ان لوٹوں کو قبول کرتی ہیں اور پھر یہ توجیح پیش کی جاتی یے کہ انکا ضمیر جاگ گیا ہے۔
عموما الیکٹیبلز سے مراد وہ سیاست دان ہیں جو کسی بھی پارٹی میں ہوں، الیکشن جیتتے ہیں، وہ آزاد اُمیدوار کے طور پر انتخاب لڑیں، تب بھی جیت جاتے ہیں۔ پارٹی تبدیل کر لیں تو بھی الیکشن میں کامیاب ہوتے ہیں، لہٰذا یہ 100 کے لگ بھگ الیکٹیبلز ہمیشہ سے ملکی سیاست کا محور ہیں۔ مبصرین کے خیال میں الیکٹیبلز کی دو اقسام ہیں، کچھ ایسے خاندان ہیں جو روایتی طور پر کسی ایک سیاسی جماعت سے وابستہ ہیں اور وہ اپنے حلقہ انتخاب سے الیکشن جیت کر ایوان میں آتے ہیں، لیکن کچھ ایسی شخصیات بھی ہیں جو کسی بھی پارٹی میں ہوں الیکشن جیتتی ہیں، وہ آزاد اُمیدوار کے طور پر انتخاب لڑیں، تب بھی جیت انکا مقدر یے اور اگر پارٹی تبدیل کر لیں تو بھی الیکشن انہی کا ہوتا یے، ان الیکٹیبلز کی ایک بڑی تعداد وقت اور حالات کے ساتھ پارٹیاں بدلتی رہی ہے، ماضی میں سابقہ فاٹا کے اراکین، جنوبی پنجاب کے کئی خاندان، شمالی اور وسطی پنجاب کے بااثر گھرانے، بلوچستان کے کئی قبائلی سردار، سندھ کے دیہی علاقوں کے وڈیرے اور خیبر پختونخوا کے خان بھی وقت اور حالات کے ساتھ اپنی وفاداریاں تبدیل کرتے رہے ہیں۔
کہا جاتا ہے کی 2013 کے انتخابات سے پہلے نواز لیگ نے 100 سے زائد الیکٹیبلز کو اپنی صفوں میں جگہ دی تھی۔ پنجاب میں گجرات کے چوہدری، رحیم یار خان اور ملتان کے مخدوم، میانوالی میں نواب آف کالا باغ کا گھرانہ، ڈی جی خان میں کھوسے، دریشک اور لغاری، جھنگ کے سید اور شیخ کوٹ ادو اور مظفر گڑھ کے کھر اور جتوئی، چکوال کے ٹمن اور ملتان کے مخدوم، گردیزی، سید اور گیلانی سمیت کئی ایسے خاندان ہیں جو سیاسی گھرانے تصور کیے جاتے ہیں، ان میں سے صرف چند ایک کی سیاسی جماعتوں سے قابستگی ہے جبکہ ذیادہ تر ایسے ہیں جو جماعتیں تبدیل کرتے رہے ہیں، ہنجاب کے کئی سیاسی گھرانے ایسے بھی ہیں جن کا ایک بھائی مسلم لیگ ن میں، دوسرا پیپلزپارٹی میں اور تیسرا تحریک انصاف میں شامل ہے.
چنانچہ پنجاب کے ہر ضلع میں آپ کو الیکٹیبلز ملیں گے جیسے کہ ناروال میں میاں رشید اور دانیال عزیز کے گھرانے دو تین پارٹیاں بدل چکے ہیں، بالکل اسی طرح اٹک میں غلام سرور کی فیملی نے، جہلم میں فواد چودھری کی گھرا نے نے، ملتان میں یوسف رضا گیلانی کے گھرانے نے اور چکوال میں ٹمن فیملی نے وقت کے ساتھ ساتھ سیاسی جماعتیں تبدیل کیں۔ سندھ میں شکار پور سے غوث بخش مہر کا گھرانہ، نوشہرو فیروز سے غلام مرتضیٰ جتوئی کا گھرانہ، گھوٹکی سے مہر فیملی، شہدادکوٹ سے مگسی فیملی، جیک آباد سے بجارانی اور جکھرانی، تھرپارکر سے ارباب رحیم اور رانا چندر سنگھ کے گھرانے اور ٹھٹھہ سے شیرازی سمیت سندھ بھر میں کئی ایسے سیاسی گھرانے ہیں جو انتخابات جیتتے ہیں چاہے ان کو کوئی پارٹی ٹکٹ دے یا نہ دے اور ان گھرانوں کے افراد نے پارٹیاں بھی بدلی ہیں۔
بلوچستان میں بھی کئی سیاسی گھرانے الیکٹیبلز ہیں، لسبیلہ سے جام یوسف اور اسلم بھوتانی کے گھرانے، بولان سے یارمحمدرند کا خاندان، جعفرآباد سے ظفراللہ جمالی، سابق گورنر بلوچستان ذوالفقار مگسی اور ظہور کھوسہ کے گھرانے، خضدار سے ثناء اللہ زہری کا گھرانہ، مستونگ سے نواب اسلم رئیسانی اور نواب شاہوانی کے گھرانے، کوہلو چنگیز مری اور گزین مری کا گھرانہ اور ڈیرہ بگٹی سے اکبر خان بگٹی کا گھرانہ الیکٹیبلز رہا ہے اور ان کے افراد نے سیاسی جماعتیں بھی تبدیل کی ہیں۔ مکران ڈویژن سے ظہور بلیدی اور اکبر عسکانی الیکٹیبلز ہیں، جو سیاسی جماعتیں تبدیل کرتے رہے ہیں،
خیبرپختونخوا میں لکی مروت سے سلیم سیف اللہ کی فیملی سیاسی جماعتیں بدلتی رہی ہے، اس کے علاوہ مردان سے ہوتی خاندان، پشاور سے ارباب فیملی اور سابقہ فاٹا کے بیشتر ملک سیاسی جماعتیں بدلتے رہے ہیں۔

Back to top button