پاکستانی شوبز انڈسٹری کی کامیاب شادی شدہ جوڑیاں

مادیت پسندی کی وجہ سے دور حاضر میں محبت جیسے انمول رشتے پر سے لوگوں کا اعتبار اٹھتا جا رہا ہے جبکہ شوبزکی چکاچوند دنیا میں فنکاروں کے باہمی تعلقات کو ہمیشہ سے ہی ناپائیدار سمجھا جاتا ہے. لیکن پاکستانی شوبز انڈسٹری کے کچھ ناموں نے اپنی دیرپا محبت سے یہ ثابت کیا کہ محبت کو صرف پانا ہی ضروری نہیں بلکہ اسے نبھانا اس سے بھی زیادہ اہم ہوتا ہے۔آج ہم آپ کو پاکستانی شوبز انڈسٹری کے کچھ ایسے ہی جوڑوں کے بارے میں بتائيں گے جو کہ پہلے پردہ اسکرین پر اکٹھے ہوئے اور پھر زندگی بھر ساتھ رہنے کا فیصلہ کیا اور اس ساتھ کو نبھا کر اپنی محبت کا ثبوت بھی دیا۔
محبت کی طاقت کا اندازہ حرا اور مانی کی کامیاب شادی شدہ زندگی کو دیکھ کر بخوبی لگایا جاسکتا ہے۔ صرف انیس برس کی عمر میں حرا نے اپنی منگنی توڑ کر مانی سے شادی کا فیصلہ کیا اور 2008 میں یہ شادی ہو گئی- اب ان کے دو بیٹے ہیں، حرا ایک مقبول ترین اداکارہ بن چکی ہیں اور مانی بھی شوبز میں اپنا نام بنا چکے ہیں۔ لیکن ان کی محبت کا اٹوٹ رشتہ ہر گزرتے دن کے ساتھ پہلے سے ذیادہ مضبوط ہوتا نظر آتا ہے اور ان دونوں کی جوڑی کو رشک کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔
فضیلہ قاضی کی شادی قیصر نظامانی کے ساتھ 26 سال پہلے ہوئی- فاطمہ ثریا بجیا کے ڈرامے سے اپنے کیرئیر کا آغاز کرنے والی فضیلہ کا انتخاب بطور جیون ساتھی قیصر نے ایک دن ان کو گھر تک لفٹ دیتے ہوئے کیا- اس کے بعد سے یہ جوڑا زندگی کے سفر میں ایک دوسرے کے ساتھ ساتھ ہے اور دو بیٹوں کے ساتھ خوش و خرم زندگی گزار رہا یے۔
جن سے محبت کی جاتی ہے ان سے شادی کی جاتی ہے فلرٹ نہیں کیا جاتا۔ ایسا کہنا تھا دانش تیمور کاعائزہ کے بارے میں۔ ایک انٹرویو میں دانش تیمور نے بتایا کہ ان کو عائزہ سے پہلی نظر میں ہی پیار ہو گیا تھا مگر انہوں نے ان کے سامنے محبت کے اظہار سے پہلے شادی کی تجویز دے دی تھی- چھ سال قبل شادی کرنے والے تیمور اور عائزہ اب ایک بیٹی اور ایک بیٹے کے ماں باپ بھی ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ دونوں ہی کامیابی کے جھولے جھول رہے ہیں اور گھریلو اور پروفیشنل زندگی کو بہترین انداز میں ساتھ لے کر چل رہے ہیں۔ یہ دونوں اپنے رشتے میں کسی رکاوٹ کو حائل نہیں ہونے دیتے اور ہنسی خوشی زندگی گزار رہے ہیں۔-
افضل خان عرف جان ریمبو کی اداکارہ نشو کی بیٹی صاحبہ کے ساتھ شادی کوئی آسان نہ تھی۔ اس شادی میں پیش آنے والی تمام مشکلات کا سامنا کرنے کے بعد افضل خان نے جب صاحبہ کو اپنایا اس وقت انکا کا شمار صف اول کی ہیروئین کے طور پر ہوتا تھا۔ تاہم صاحبہ نے اپنے کیرئير کو اپنی گھریلو زندگی کے لیے چھوڑ دیا۔ اس خوبصورت جوڑے کے دو بیٹے ہیں جن کے بارے میں صاحبہ کا کہنا ہے کہ وہ ان کی تعلیم پر خصوصی توجہ دیتی ہیں- محبتوں کے امین اس جوڑے کی زندگی آج بھی محبتوں سے عبارت ہے-
گلاسکو میں رہنے والے علی سفینہ کو جب پاکستان کی محبت نے واپس بلایا تو انہوں نے یہاں اپنے کیرئير کا آغاز بطور وی جے اور ڈی جے کیا۔ اس کے ساتھ انہیں فلم جلیبی میں بھی کام کرنے کا موقع ملا- دوسری جانب ٹیکساس میں رہنے والی حرا نے بھی بطور فیشن ڈیزائنر پاکستان واپسی کی اور اپنا برانڈ متعارف کروایا۔ اس کے ساتھ ساتھ ماڈلنگ کے شعبے میں بھی انہوں نے کافی کام کیا- 2013 میں ان دونوں نے ایک دوسرے کے ساتھ رہنے کا فیصلہ کیا اور شادی کے بندھن میں بندھ گئے۔ 2017 میں اس جوڑے کو اللہ نے ایک بیٹی سے بھی نواز دیا جسکے بعد سے ان کا محبت بھرا سفر جاری ہے۔
ڈرامے محبت کے سیٹ سے شروع ہونے والی ندا یاسر اور یاسر نواز کی محبت کی داستان کو کامیاب ہوئے چودہ سال گزر چکے ہیں۔ اللہ نے ان دونوں پیار کرنے والوں کو تین بچوں سے بھی نوازا ہے- ایک دوسرے کو موٹا اور موٹی کے نام سے پکارنے والا یہ پیار بھرا جوڑا عملی زندگی میں بھی کامیاب ہے-
جویریہ اور سعود کی شادی 2005 میں ہوئی۔ جویریہ نے ایک نعت خواں کے طور پر سکرین پر قدم جمائے تھے۔ اس کے بعد اداکاری کے شعبے میں نام کمایا- سعود ایک جانب تو فلموں کے صف اول کے ہیرو تھے اور دوسری طرف ایک انتہائی مذہبی نعت خواں گھرانے کے چشم و چراغ تھے- محبت کی اس شادی نے اپنا گھر بنانے کے ساتھ ساتھ ایک پروڈکشن ہاؤس کی بھی بنیاد ڈالی اور کامیاب ترین ڈرامے پیش کرنے شروع کر دیے- دو بچوں کے ساتھ یہ پیار کرنے والا جوڑا آج بھی کامیاب ازدواجی زندگی گزار رہا ہے۔

