پاکستانی شوبز انڈسٹری کے والدین کی اولاد کیلئے لازوال قربانیاں

والدین کی اولاد سے محبت ایک فطری عمل ہے۔ ویسے تو تمام والدین بلاتفریق امارت و غربت اپنی اولاد سے بے انتہا محبت کرتے ہیں اورماں باپ اپنے بچوں کی خواہشات کو پورا کرنے کیلئے ہر قربانی دینے کو ہمہ وقت تیار نظرآتے ہیں لیکن شوبز انڈسٹری کے کچھ والدین کی اپنی اولاد کیلئے محبت اور قربانیاں قابل رشک ہیں
شوبز انڈسٹری میں ہر طرح کا کردار کرنے والے عرفان موتی والا نے ڈراموں، میوزک ویڈیوز، اور فلمز سب میں اپنا نام بنایا۔ اپنی اہلیہ کو کینسر کی تشخیص کے بعد وہ زندگی کے مشکل ترین دور سے گزرے۔اس تکلیف دہ دور میں عرفان نے اپنا سارا کام ختم کرکے اپنا پورا وقت اپنی فیملی اور خاص طور پر اپنی بیوی کے لئے وقف کردیا۔۔۔ان کی بیٹی اور بیٹا اس وقت ٹین ایج تھے اور وہ بیوی کے ساتھ ساتھ دونوں بچوں کی ضروریات کا بھی خیال رکھتے تھے۔۔۔بدقسمتی سے کچھ سال پہلے ان کی بیگم نے دنیا سے منہ موڑ لیا اور عرفان موتی والا نے اپنی محبتوں کا دائرہ اپنی اولاد کے گرد اور تنگ کردیا۔۔۔انہوں نے دوسری شادی نہیں کی اور بیٹی اور بیٹے کی محبت میں مگن ہوگئے۔۔۔حال ہی میں انہوں نے اپنی بیٹی شازما کی شادی کی اور وہ اس موقع پر اپنی اہلیہ کو یاد کر کے کافی جذباتی بھی ہوگئے۔۔۔ ان کی بیٹی کا کہنا ہے کہ عرفان موتی والا ایک بہترین باپ ہیں اور انہوں نے ہمیں ہماری ماں کی کمی کبھی محسوس نہیں ہونے دی-
پاکستان کا ایک بہت بڑا نام حنا دلپزیر جن کے کردار مومو سے بڑے اور بچے ان کے دیوانے ہوگئے۔۔۔جن کی اداکاری روتے ہوئے چہروں کو بھی ہنسنے پر مجبور کردیتی ہے۔۔۔ایک بہترین ماں ہیں۔۔۔حنا دلپزیر نے کچھ سال قبل اپنے بیٹے کی شادی کی اور اس موقع پر ان کی خوشی دیکھنے والی تھی۔۔۔وہ اپنے بیٹے کا سہرا بھی خود گا رہی تھیں۔۔۔اور وہ خوش کیوں نا ہوتیں۔۔۔انہوں نے تنہا زمانے کی دھوپ چھاؤں سے لڑ کر اپنے بیٹے کی پرورش کی۔۔۔میاں کا ساتھ نا دینا اور پھر ایک دن انہیں تنہا چھوڑ دینا اور لاتعلق ہوجانا۔۔۔یہ سب حنا دلپزیر کے لئے ایک بہت کڑا امتحان تھا۔۔۔انہوں نے فیصلہ کرلیا تھا کہ وہ اپنے بیٹے کو وہ سب کچھ دیں گی جو ماں اور باپ دونوں کو مل کر دینا چاہئے۔۔۔تحفظ، اعتماد، تعلیم اور بہترین تربیت۔۔۔ان کا سفر آسان نہیں تھا۔۔۔چھوٹے چھوٹے کرداروں سے خود کو منوانے والی مومو نے کئی بار خود سے جنگ بھی کی ہوگی لیکن بیٹے کی محبت نے انہیں تھکنے نہ دیا۔۔۔وہ آج تک اپنے بیٹے کا ساتھ دیتی ہیں اور ان کے گلوکاری کے شوق میں کافی مدد بھی کرتی ہیں۔۔۔-
ڈرامہ ببلی کیا چاہتی میں کام کرتی سکینہ کی والدہ نے کئی سال پہلے اپنا گھر چھوڑا۔۔۔ان کے ساتھ اس وقت ان کے دو بچے تھے۔۔۔ایک سکینہ اور ایک اس کا بھائی۔۔۔جب وہ گھر سے نکلیں تو خود بھی انجان تھیں کہ ان کا ٹھکانہ کہاں ہوگا۔۔۔وہ آج بھی وہ وقت نہیں بھولیں جب ان کے بچے سکینہ اور چھوٹا بیٹا عید پر نئے کپڑوں کے لئے انتظار کرتے تھے، لیکن انہیں دس روپے کی عیدی دینے والا کوئی نہیں تھا چاہے وہ سگے چچا ہوں، ماموں یا خالہ۔۔۔آج ان کے پاس سب کچھ ہے لیکن وہ وقت بھولنے والا دل نہیں۔۔۔کیونکہ ایک تنہا عورت نے اپنی اولاد کو پیروں پر کھڑا کردیا ہے اور اب ان کے بچے ہر مشکل کو یاد کرکے اپنی ماں کے ساتھ کھڑے ہیں-
ڈرامہ ’’بیلا پور کی ڈائن‘‘، ’’گھگھی‘‘ جیسے مشہور ڈراموں میں کام کرنے والی امر خان کی والدہ فریحہ جبین بھی انڈسٹری کی مشہور اداکارہ ہیں ۔۔۔انہوں نے شوہر سے علیحدگی کے بعد بڑا ہی کڑا وقت دیکھا اور بیٹی کو تن تنہا بغیر کسی مدد کے پالا۔۔۔وہ کہتی ہیں کہ اپنی بیٹی کو پڑھانا میرا جنون تھا۔۔۔کیونکہ میں انگریزی نہیں بول پاتی تھی۔۔۔تو سوچتی تھی کہ میری بیٹی بہت قابل بنے۔۔۔اس کی فیسیں دینے کے لئے ڈبل ڈبل شفٹوں میں کام کرتی تھیں۔۔۔ایک بار بہت سخت بیمار تھیں اور فیس دینے کے پیسے نہیں تھے۔۔۔لیکن بیٹی کو پتہ نہیں چلنے دیا کہ کیا گزر رہی ہے۔۔۔کسی رشتے دار نے ساتھ نا دیا بلکہ الٹا ان کی ٹانگ ہی کھنچنا چاہی۔۔۔
غزالہ جاوید نے بیوگی کے بعد بچوں کو پالنے کا میدان سنبھالا۔۔۔بہت کم عمر تھیں اور چھوٹے چھوٹے تین بچے۔۔۔لیکن وہ بہت باہمت تھیں۔۔۔معین اختر کووہ اکثریاد کرتی ہیں کیونکہ وہ ان کے اس غم سے واقف تھے اورانھوں نے ان کا بہت ساتھ بھی دیا۔۔۔کہتی ہیں کہ جب بچے چھوٹے تھے تو لوگ یہ کہتے تھے کہ کہیں کچھ مانگنے نا آجائے۔۔۔اس ڈر سے اپنے دروازے نہیں کھولتے تھے اور نا ہی وہ ان کا اپنے گھر آنا پسند کرتے تھے۔۔۔ایسے وقت میں انھیں صرف ہمت اور امید نے سہارا دیا۔۔۔بچوں کو نا صرف ان کے پیروں پر کھڑا کیا بلکہ داماد کے انتقال کے بعد آج اپنی بیٹی کے بچوں کو بھی بخوبی پال رہی ہیں۔۔۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button