پاکستانی شوبز جوڑیاں جو ٹوٹیں تو پھر بن نہ سکیں

پاکستان شوبز انڈسٹری میں اداکاروں کی کچھ ایسی منفرد جوڑیاں بھی رہیں ہیں جن کی موجودگی کسہ بھی فلم یا ڈرامے کی کامیابی کی ضمانت تصور کی جاتی تھی۔ یہ لوگ ایک دوسرے کےلیے لازم و ملزوم سمجھے جاتے تھے اور جب ان میں سے کوئی ایک آگے پیچھے ہوا تو دونوں ہو ختم ہو گے۔
فلم اسٹار تمنا بیگم نے تھیٹر، فلم ریڈیو اور ٹی وی چاروں کے لیے کام کیا۔ انکے کیریئر کا آغاز ریڈیو پاکستان کے ڈرامے سے ہوا۔ ان کو ڈرامے میں لانے والے کمال احمد رضوی تھے۔ پھر جب تمنا بیگم نے فلم انڈسٹری میں اپنی جگہ بنائی تو ان کی جوڑی رفیع خاور عرف ننھا کے ساتھ بنی، تمنا بیگم نے زندگی میں بہت مشکل وقت بھی دیکھا تھا، شادی ہوئی تو ڈھائی سال بعد ہی شوہر کا ایک حادثے میں انتقال ہوگیا، پھر ایک بیٹی کے ساتھ فلم انڈسٹری میں واپس قدم رکھا کیوں کہ کوئی کمانے والا نہیں تھا، ایسے وقت میں ننھا ان کے بہترین دوست بن گئے، ننھا کے ساتھ لوگوں نے ان کی جوڑی کو فلموں میں کافی پسند کیا، ایک موقع پر دونوں نے ایک ہی گلاس سے دودھ پیا اور پھر ایک دوسرے کو دودھ شریک بہن بھائی کا ٹائٹل دے دیا، ان کی جوڑی ٹوٹنے کے بعد تمنا بیگم کا دل پھر کسی کے ساتھ نہ لگ سکا۔
پنجابی فلموں کے لیجنڈری اداکار سلطان راہی اور مصطفیٰ قریشی کو ہمیشہ سے ہی ایک ساتھ پسند کیا گیا، ان دونوں کی ایسی کئی فلمیں ریلیز ہوئیں جن میں ایک ہیرو تو ایک ولن تھا، مولا جٹ اور نوری نت کے ناقابل فراموش کرداروں کو کون بھلا سکتا ہے۔
ہیرو اور ولن کی یہ جوڑی حیرت انگیز طور پر مداحوں کے دل کی دھڑکن تھی، لیکن جیسے ہی سلطان راہی کا انتقال ہوا تو مصطفیٰ قریشی کا کیریئر بھی ختم ہو گیا کیوں کہ فلم بین ان دونوں کو ایک ساتھ دیکھنا پسند کرتے تھے۔
انور مقصود اور معین اختر کی بھی شاندار اور جاندار جوڑی تھی۔ معین اختر کی وفات کے بعد انور مقصود شوبز کی دنیا میں نظر تو آتے رہے لیکن بجھ گے اور دوبارہ کبھی وہ پذیرائی حاصل نہ کر سکے جو انہیں معین اختر کی زندگی میں جوڑے کی صورت میں حاصل ہوتی تھی۔ کہا جاتا ہے کہ انور مقصود کی تحریر معین اختر کے کردار پر ہی فٹ بیٹھتی تھی۔ ان دونوں کا ساتھ اتنا زیادہ تھا کہ انکا ایک دن بھی ایک دوسرے کے بغیر نہ گزرتا، جب معین اختر کا انتقال ہوا تو سب کو بڑی فکر یہ تھی کہ اس مشکل وقت میں انور مقصود کو کیسے سنبھالا جائے، لوگوں کو لگتا ہے کہ وہ سنبھل گئے لیکن سچ تو یہ ہے کہ ان کا دل آج بھی معین اختر کی ہی یاد میں دھڑکتا ہے۔
