پاکستانی فیشن انڈسٹری میں لڑکیوں کا جنسی استحصال جاری

پاکستان کی فیشن انڈسٹری بظاہر بڑی لش پش اور خوبصورت نظر آتی ہے لیکن پردے کے پیچھے کا سچ کچھ اور ہی منظر پیش کرتا ہے۔ درحقیقت فیشن ماڈلز انتہائی کسمپرسی کی زندگی گزارتی ہیں اور انہیں جنسی اور مالی استحصال کے علاوہ گوناگوں مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
زرق برق فیشن میگزینز اور پردہ سکرین پر فیشن انڈسٹری کے نظارے ہر کسی کا دل موہ لیتے ہیں۔ مسکراتی چہرے، شاندارمیک اپ، جدید تراش خراش والے لباس اور کیمروں کی چکا چوند ہر نظرکوچند لمحوں میں خیرہ کئے دیتی ہے۔ بالخصوص خواتین اور نوجوان لڑکیوں کو تو یہی احساس ہوتا ہے کہ صحیح معنوں میں تو زندگی انہی ماڈلز کی ہے اور فیشن ورلڈ کا حصہ بننے والی لڑکیاں ہی زندگی کا اصل لطف اٹھاتی ہیں۔
فیشن انڈسٹری کے ساتھ چونکہ بے انتہا پیسہ، گلیمر اور شہرت جیسی چیزیں منسوب کر دی جاتی ہیں لہذا ایک عام عورت کو ان روشنیوں اور رعنائیوں کے مقابلے میں اپنی روایتی زندگی بہت بے رنگ سی لگنے لگتی ہے۔ دور سے اس دنیا کو دیکھنے والی فیشن کی دلدادہ نئی نسل کو لگتا ہے کہ کامیابی کی معراج پر شاید ماڈلز ہی فائز ہیں اور ماڈلنگ سے بہتر کوئی کیریئر ہو ہی نہیں سکتا۔
فیشن میگزینز کے کَور، ریمپ پر ٹاپ برانڈز کی مصنوعات زیب تن کرکے ادائیں دکھانا، اشتہارات میں ملٹی نیشنل کمپنیوں کی مصنوعات کو دلکش بناکر پیش کرنا۔۔۔ بظاہرتو یہی لگتا ہے کہ یہ ماڈلز شہرت اور کامیابی کے ساتویں آسمان پر پہنچ چکی ہیں لیکن حقیقت میں چند گنی چنی سپر ماڈلز پوری ماڈلنگ انڈسٹری کا ایک فیصدبھی نہیں ہیں جنہیں وی آئی پیز کی طرح ہاتھوں ہاتھ لیا جاتا ہے، باقی ننانوے فیصد لڑکیاں ریمپ پر کیٹ واک کے لئے ہی بنی ہیں۔
بہرحال نوجوان لڑکے لڑکیوں کی ایک بڑی تعداد ہر وقت فیشن انڈسٹری میں کیریئر بنانے کے لئے جتن کرتی رہتی ہے۔ مغربی ممالک کے بعد دنیا کے دیگر ترقی پذیر ممالک کی طرح پاکستان میں بھی فیشن انڈسٹری خوب پھل پھول رہی ہے۔ بلاشبہ یہ نئی صنعت پاکستان کے لئے کئی حوالوں سے بہت شاندار ثابت ہورہی ہے تاہم اس کے تاریک پہلو عوام کی نگاہوں سے اوجھل ہیں۔
اگر فیشن انڈسٹری کی مجموعی صورتحال پر بات کرنے کی بجائے صرف فیشن میلوں یعنی آئے روز سجنے والے فیشن ویکس کے کلچر کا تجزیہ ہی کرلیا جائے تو کئی دلخراش اور ناقابل یقین وارداتوں سے پردہ اُٹھتا ہے۔ مختلف ملٹی نیشنل کمپنیوں کے سپانسرڈ فیشن ویکس کی چکاچوند کے پیچھے جابجا پھیلی تاریکی پر شاید ہی کسی کی نظر پڑتی ہو لیکن اس حقیقت سے کسے انکارہوسکتا ہے کہ ”یہاں سب اچھا نہیں“۔ دنیا بھر کی طرح ہمارے ہاں بھی فیشن انڈسٹری کو عموماً فحاشی، منشیات کے استعمال، خواتین کے استحصال، عجیب طرز کے ملبوسات اور مصنوعی قسم کے گلیمر کو فروغ دینے کی وجہ سے تنقید کانشانہ بنایا جاتا ہے لیکن ماڈلزکے مالی،جذباتی اور جنسی استحصال پر بہت کم بات کی جاتی ہے۔ فیشن ویکس کے فروغ سے یقیناً اس شعبے کو تقویت ملی ہے لیکن یہاں موجود بداعتدالیاں اور بے قاعدگیاں نہ جانے کتنے لوگوں کو خون کے آنسو رلاچکی ہیں۔ پاکستان جیسے ملک میں فیشن ماڈلز کے حالات قطعاً ویسے نہیں،جیسے ریمپ پر نظر آتے ہیں یعنی بیک سٹیج اور آؤٹ آف دا سٹیج حالات یکسر مختلف ہیں۔
دنیا بھر کی طرح پاکستان کی فیشن انڈسٹری پر بھی مخصوص ڈیزائنرز اور سٹائلسٹس کی اجارہ داری ہے۔ نئے ڈیزائنر صرف اسی صورت اس پاور فل کلب کاحصہ بن سکتے ہیں کہ جب ان کے پاس خطیر سرمایہ اور اثرورسوخ ہو۔پچھلے کئی برسوں سے بڑے بڑے فیشن ویکس میں ایچ ایس وائے ہی کوریو گرافر اور نبیلہ کا نام سٹائلسٹ کے طور پر نظر آتا ہے۔اگر ڈیزائنرز میں نئے نام نظر آتے ہیں تو وہ سبھی یا تومتمول سیاسی گھرانوں کے چشم وچراغ ہوتے ہیں یا وہ خطیر رقم خرچ کرکے محض دولت کے بل بوتے پر یہاں پہنچتے ہیں۔ فیشن ورلڈ میں وہی ماڈل سپر ماڈل بنتی ہے جسے کسی بڑے ڈیزائنر یا سٹائلسٹس کے طاقتور گروپ کا ساتھ میسر آسکے جس کی مانگی قیمت بھی ادا کرنی پڑتی ہے۔
پاکستان کی فیشن انڈسٹری میں مالی استحصال عام سی بات ہے۔ماڈلز کی یونین نہ ہونے کی وجہ سے صرف ترقی پذیر ممالک ہی نہیں بلکہ امریکہ جیسے ملک میں بھی خواتین ماڈلز کو بیس فیصد کمیشن کے علاوہ کم وبیش نصف رقم ایجنسیوں اور پروموٹرز کو دینا پڑتی ہے۔ اگرچہ بڑے برانڈ کے لئے ماڈلنگ کرنے والی ماڈلز کے علاوہ میک آرٹسٹ وغیرہ کو بھی عام طور پر معاوضہ نہ ملنے یا دیر سے ادائیگی کی شکایت کم ہی ہوتی ہے کیونکہ اس طرح برانڈ کی ساکھ متاثر ہوتی ہے تاہم فیشن ویک کوفیشن انڈسٹری کے چند بڑے نام آرگنائز کرتے ہیں اس لئے یہاں اجتماعی ذمہ داری کے باعث پوچھ گچھ نہ ہونے کی وجہ سے مالی استحصال اور لیبر قوانین کی کھلم کھلا خلاف ورزی نظر آتی ہے۔اولاً یہاں نوآموز ماڈلز سے بلا معاوضہ کام لیا جاتا ہے بلکہ بہت سے شوقین اور امیر گھرانے کی لڑکیوں سے باقاعدہ ماڈلنگ کا چانس دینے کے نام پر اُلٹا ان سے پیسے اینٹھے جاتے ہیں۔ایسے فیشن شوز جنہیں بڑے ملٹی نیشنل برانڈزکی سرپرستی حاصل ہو، حتی المقدور کوشش کرتے ہیں کہ کسی بھی فرد کے ساتھ معاوضے کے حوالے سے زیادتی نہ ہو لیکن چالاک آرگنائزر زاور پروموٹرزنئی ماڈلز کو لاعلم رکھ کران کے حصے کی رقم ہڑپ کرجاتے ہیں اور ماڈل کو علم ہی نہیں ہوپاتا کہ اسے کس کام کا کتنا معاوضہ ملے گا۔
نئی ماڈلز کوجنسی ہراسگی کے واقعات کا سامنا بھی کرنا پڑتا ہے جبکہ لڑکیوں کی ایک بڑی تعداد کیریئر خراب ہونے یا بدنامی کے ڈر سے ان واقعات کو تقدیر کا لکھا سمجھ کر ہمیشہ کے لئے اپنے ہونٹوں کو سی لیتی ہیں۔ان واقعات میں اکثر آرگنائزرز، فیشن ڈیزائنرز، کوریوگرافرز اور فوٹو گرافرز ملوث پائے گئے۔نہ جانے کتنی ہی لڑکیاں کسی سپر ماڈل کو اپنا آئیڈیل مان کر فیشن ماڈلنگ کی طرف آتی ہیں لیکن حالات سے مجبور ہوکر گمراہی کی دلدل میں دھنستی ہی چلی جاتی ہیں۔
فیشن ویکس کے دوران ماڈلز کو کھانے پینے کے معمولات میں کڑی سختیوں کاسامنا کرنا پڑتا ہے۔آرگنائزر کی جانب سے ان کی فٹنس برقرار رکھنے کے لئے مخصوص اوقات میں منطور کردہ غذائیں ہی ملتی ہیں جبکہ نیند کی کمی، تیزروشنیوں اورمیوزک کے شور سے ان کی ذہنی حالت قابل رحم ہوتی ہے۔ریمپ پر جاندار انداز میں چلنے کے لئے کئی ماڈلز مخصوص قسم کے نشہ آور سگریٹ اور قوت بخش مشروبات کا سہارا لیتی ہیں جس کے نتیجے میں انہیں کئی طبی پیچیدگیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔کسی بھی بڑے فیشن ویک کے بیک سٹیج، ماڈلز کے لئے مخصوص ٹوائلٹ اور دیگرممنوعہ حصوں میں اکثر ماڈلز کوکین کا نشہ کرتی نظر آتی ہیں۔ بہت سے نامور ماڈلز ایسی ہیں کہ وہ نشہ آور سگریٹ کا کش لگائے بغیر ریمپ پر دوقدم چلنے کی متحمل بھی نہیں ہوسکتیں۔ بعض ماڈلز اپنی فٹنس اور دبلے پن کا راز بھی مخصوص منشیات ہی کو قرار دیتی ہیں۔اس کے علاوہ سر موسم میں نیم برہنہ لباس میں کیٹ واک کے لئے نشہ آور سگریٹ ہی ان کا بڑا سہارا ہوتے ہیں۔
چند سال پہلے تک ملک کی ٹاپ ماڈل سمجھی جانے والی فائزہ انصاری کی دردناک زندگی کی کہانی سب کے سامنے ہے۔ فائزہ نے اپنے کیریئر کے عروج پر فیشن دیزائنر سید رضوان اللہ سے شادی کی۔چونکہ رضوان پہلے ہی ہیروئن کا عادی تھا اس لئے بے باک اور ضرورت سے زیادہ خود اعتمادی کا شکار فائزہ نے بھی شوق ہی شوق میں اس لت کو گلے لگا لیا۔تب سے اب تک فائزہ مسلسل ہیروئن کی لت سے چھٹکارہ پانے کی تگ ودو میں لگی ہوئی ہے لیکن شاید اب بڑی دیر ہوگئی ہے کیونکہ فیشن انڈسٹری میں سب اپنے پرائے اس سے منہ موڑ چکے ہیں۔فائزہ نے ایک مرتبہ دردناک لہجے میں کہا تھا کہ فیشن انڈسٹری میں ایک ماڈل کے جسم فروش بن جانے پر کوئی اس کا ساتھ نہیں چھوڑتا لیکن اگر وہ نشے میں غرق ہوجائے تو سب اس سے منہ پھیر لیتے ہیں۔
