پاکستانی معاشرے میں مردانہ جسم فروشی بڑھ گئی؟

https://youtu.be/4-gNYbT3O5k
مردانہ جسم فروشی کا عفریت پچھلے کچھ عرصے سے پاکستانی معاشرے میں سرایت کر چکا ہے اور مسلسل فروغ پذیر ہے۔ لاہور، کراچی، اسلام آباد وغیرہ کے بعد اب یہ دیگر بڑے شہروں میں بھی موجود ہے، تاہم یہ کام پوشیدہ اور انڈر گراؤنڈ طریقے سے ہو رہا ہے اس لئے کوئی اس موضوع پر بات نہیں کرتا۔ مردانہ اور زنانہ جسم فروشی میں فرق یہ ہے کہ عورت طوائفیں عموماً کسی دلال، کوٹھی یا کوٹھے یا کسی آنٹی یا میڈم وغیرہ کی سرپرستی میں کام کرتی ہیں۔ یہ سرپرستی انہیں قانونی اور ذاتی تحفظ فراہم کرتی ہے۔ کسی طوائف کے ساتھ وقت گزاری اور اسے اپنی ملازمت میں لینے کے لئے اس کے سرپرست سے معاوضہ او ر معاملات طے کیے جاتے ہیں۔ ایسا بہت کم کیسز میں ہوتا ہے کہ کوئی عورت یا لڑکی خودمختار طریقے سے جسم فروشی کا پیشہ شروع کر دے۔ اگرچہ اب یہ بھی ہونے لگا ہے لیکن بہت کم کیونکہ سرپرستی اور پولیس کے تعاون کے بغیر کسی عورت کا یہ کام ازخود کرنا نہایت مشکل ہے۔ اس کام میں اسے کئی طرح کی پیچیدگیوں اور خطرات مثلاً اغواء، بلیک میلنگ، زبردستی اور جنسی زیادتی، اور معاوضے کی عدم ادائیگی وغیرہ کا سامنا ہو سکتا ہے۔
لیکن کسی دلال، کوٹھی یا کوٹھے یا کسی آنٹی یا میڈم کی سرپرستی طوائفوں کو ایسے مسائل سے بچاتی ہے۔ یہ خواتین مخصوص علاقوں میں رہتی ہیں۔ بعض کیسز میں یہ بھی ممکن ہے کہ عورت اپنے خاندان یا شوہر کے ساتھ رہتے ہوئے ان کے دباؤ پر یہ کام زبردستی کر رہی ہو۔ اس کے علاوہ چند سالوں سے بڑے شہروں میں ایک اور معاشرتی مسئلے نے بھی شدت سے سر اٹھایا ہے۔ جاب کرنے اور اچھی تنخواہ حاصل کرنے وا لی بعض لڑکیوں کے والدین ان کی شادی نہیں کرتے۔ ایسی لڑکیاں فطری جنسی خواہشات سے مجبور ہو کر کسی کو بوائے فرینڈ یا پارٹنر بنا کر رکھنے کی طرف مائل ہو جاتی ہیں۔ اس کام میں متوسط یا بالائی متوسط طبقے کی خواتین بھی شامل ہیں۔ جسم فروشی کے ایسے کیسز بھی کم ہوتے ہیں جہاں مرد اور عورت خود شرائط طے کر کے تعلق قائم کر لیں۔ زیادہ تر مرد طوائف بھی کسی نیٹ ورک یا سرپرست کے ماتحت کام کرتے ہیں۔ اب بدقسمتی سے ہمارے ہاں مردانہ قحبہ خانے بھی کام کرنے لگے ہیں۔ فیس بک، ٹک ٹاک، اور انسٹاگرام جیسی سوشل سائٹس بھی ان لوگوں کو گاہک فراہم کرنے کا ذریعہ ہیں جہاں یہ اپنی تصاویر اور وڈیوز کے ذریعے مطلوبہ لوگوں تک رسائی حاصل کرتے ہیں۔ آن لائن معاملات میں تو کسی حد تک رازداری ہوتی ہے، مثلاً گھر والوں کو نہیں معلوم کہ ان کا بیٹا یا بھائی انٹرنیٹ پر کسی سوشل سائٹ یا نیٹ ورک کے ذریعے جسم فروشی کر رہا ہے۔ البتہ لاہور، کراچی، اسلام آباد کے جن مقامات پر یہ معاملات طے کیے اور لڑکے یا مرد فراہم کیے جاتے ہیں، وہاں رازداری رکھنا بہت مشکل ہے۔ لاہور میں جوہر ٹاؤن، اقبال ٹآئون، ڈیفنس، کینٹ، لبرٹی مارکیٹ چوک، گارڈن ٹائون، فردوس مارکیٹ، اور حسین چوک کے علاقے اس کام کے لئے مشہور ہیں۔ وہاں لڑکوں کو لینے کے لئے خواتین اور ہم جنس پرست مرد بھی آتے ہیں۔ کئی ہیجڑے بھی جسم فروشی میں ملوث ہوتے ہیں لیکن وہ زیادہ تر مجبوری کے عالم میں یہ کام کرتے ہیں کیونکہ نہ ان کے پاس تعلیم ہوتی ہے اور نہ کوئی ذریعہ روزگار۔
ایک تحقیق کے مطابق مردانہ جسم فروشوں کو چار گروپس میں رکھا جا سکتا ہے۔ یہ گروپ بندی سیکس ورکرز کی تعلیم، خاندانی اور سماجی بیک گراؤنڈ، مالی استحکام یا دشواری، منشیات کی لت اور جذباتی وابستگی کو سامنے رکھ کر کی گئی ہے۔ کل وقتی میل سیکس ورکر عام طور پر بار، پب یا پرائیویٹ پارٹیز میں مل جاتے ہیں۔کل وقتی رکھیل، یہ سیکس ورکرز کسی کی ملکیت میں ہوتے ہیں اور جب تک وہ ایک شخص کی ملکیت میں ہیں، کسی اور سے تعلق نہیں رکھ سکتے۔ تیسری قسم جز وقتی سیکس ورکرز ہے، یہ وہ مرد ہوتے ہیں جو یا تو اسٹوڈنٹس ہیں یا کوئی معمولی کام کر رہے ہیں اور اضافی آمدنی کے لئے جسم فروشی کرتے ہیں۔ چوتھی قسم میں مجرمانہ سیکس ورکرز شامل ہیں جو کہ جسم فروشی کی آڑ میں جرم بھی کرتے ہیں، جیسے چوری، مارپیٹ، ڈرانا دھمکانا، اور بلیک میلنگ۔ کئی مالشیئے اسی کام کی آڑ میں جرائم بھی کرتے ہیں۔
ماہرین کے نزدیک جب ہم مردانہ جسم فروشی اور ہم جنس پرستی کو ایک ہی بات سمجھتے ہیں اور اس پر سخت ناپسندیدگی کا اظہار کرتے ہیں تو ہم تاریخ اور حقائق سے منہ موڑ رہے ہوتے ہیں۔ یاد رہے کہ قدیم عرب معاشروں میں ہم جنس پرستی عام تھی اور چھپ چھپا کر اب بھی کی جا رہی ہے۔ افغانستان اور پختونخوا صوبے میں اب بھی کئی سردار اپنے ساتھ ایک نو عمر نوخیز لڑکا رکھتے ہیں۔ یہ ایک اعزازی تمغہ ہے جو سینے پر فخر سے لگایا جاتا ہے۔ بہت پرانی بات نہیں جب افغانستان کے معزز جنگی سردار، کمانڈر، سیاستدان اور امراء اپنے اثر و رسوخ اور دولت مندی کے اظہار کے لیے اکثر اوقات اپنے ساتھ کسی ’بچے‘ کو رکھتے تھے۔ ان نوخیز لڑکوں کو کبھی خواتین کے کپڑے پہنا دیے جاتے ہیں، ان کے بال کانوں تک کٹے ہوتے ہیں۔ یہ محفلوں میں گاتے ناچتے دل بہلاتے ہیں۔ ساتھ ہی ان کا جنسی استحصال بھی ہوا۔ یونان کی طرح یہاں بھی یہ کہا جاتا رہا ہے کہ ”خواتین نسل بڑھانے کے لیے ہیں لیکن لڑکے خوشی حاصل کرنے کے لیے“ ۔ ان کا یہ فعل بچہ بازی کہلاتا ہے۔ اور یہ پیڈوفیلی ہے۔
ایک سوال یہ بھی ہے کہ عورتیں خود کو بیچیں تو مرد خریدار ہوتے ہیں لیکن مردانہ سیکس ورکرز کے خریدار کون ہیں؟ ان مردانہ طوائفوں یا سیکس ورکرز کی خریدار مرد ہی نہیں بلکہ عورتیں بھی ہیں۔ مغربی ممالک کی طرح پاکستان میں بھی خوبصورت، پرکشش کسرتی جسم والے نوجوانوں کی کافی ڈیمانڈ ہے۔ ان کی خریدار عورتیں پیسے والی اور دل والی ہوتی ہیں۔ ایک اسٹڈی کے مطابق عورتیں اب پہلے سے کہیں ذیادہ بڑی تعداد میں سیکس کی خریدار ہیں۔ پہلے بڑی عمر کی تنہائی کا شکار عورتیں مردوں کی خریدار ہوتی تھیں۔ اب ان میں ہر عمر اور بیک گراؤنڈ کی عورتیں شامل ہیں۔ اس کی وجہ یہ بتائی جا رہی ہی کہ زندگی کی دوڑ میں عورتوں کے پاس اب باقاعدہ ریلیشن شپ رکھنے کا وقت نہیں ہے۔ چنانچہ وہ وقتی تسکین کے لئے مردوں کی خدمات حاصل کرتی ہیں۔ ہمارے ہاں بڑے چھوٹے شہروں میں قائم کئی بس اڈوں پر کمسن لڑکے یونہی پھرتے دکھائی دیتے ہیں۔ بظاہر بھیک مانگتے ہیں لیکن پر لذت رات گزارنے کی دعوت بھی دیتے ہیں۔ یہ اپنے کام میں ماہر ہوتے ہیں اور اپنے مطلب کا بندا پہچان لیتے ہیں۔ یہ بچے عام طور پر گھروں سے بھاگے ہوئے ہوتے ہیں جو غلط ہاتھوں میں پڑ کر دھندا کرنے پر مجبور کر دیے جاتے ہیں۔ ان کے ریٹ معمولی ہیں۔ جنس کے خریدار سستے میں سودا کر لیتے ہیں۔ یہ سب ہوتا ہوا سبھی کو نظر آ رہا ہے لیکن کسی کی کوئی پکڑ نہیں۔ یہ لڑکے نہایت خطرناک زندگی گزارتے ہیں۔ جسمانی، ذہنی، جنسی تشدد کا نشانہ بننے کے ساتھ ساتھ نشے کے عادی بھی ہو جاتے ہیں اور بیماریوں کا شکار بھی۔ ان کے خریداروں میں بسوں اور ٹرکوں کے ڈرائیورز ہوتے ہیں جو کئی کئی دن گھروں سے دور سڑکوں پر ہوتے ہیں اور ان معصوموں سے اپنی پیاس دور کرتے ہیں۔ یہ سب کچھ پیڈوفیلی کے زمرے میں آتا ہے اور اس پر قانون میں کڑی سزا رخھی گئی ہے۔
لیکن سیکس ورکرز کا ایک اور گروپ بھی ہے جو مساج اور مالش کا کام کرتا ہے۔ ان کے بھی لگے بندھے جانے پہچانے کسٹمرز ہوتے ہیں۔ لاہور اور کراچی میں یہ سڑک کنارے اپنی پورٹیبل دکان سجائے بیٹھے ہوتے ہیں اور سب کچھ کرنے کو تیار ہوتے ہیں۔ ان میں سے کچھ گلیوں کے تاریک گوشوں میں اور کچھ بارونق بازاروں میں خریدار تلاشتے ہیں۔ یہ بھی کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں ہے۔
مردانہ جسم فروشوں کا ایسا ہی ایک گروپ اور بھی ہے جو قدرے اونچی سوسائٹی میں پائے جاتے ہیں۔ یہ پڑھے لکھے اور فیشن ایبل ہیں اور گفتگو کا فن بھی جانتے ہیں۔ یہ اپنا گاہک بھی مرضی سے چنتے ہیں۔ ان کا مسئلہ بھوک نہیں، خواہشات کی تکمیل ہے، جنہیں وہ حسرتیں نہیں بنانا چاہتے۔ یہ اپنے تعلقات کی وجہ سے بڑی بڑی پارٹیز میں بھی پہنچ جاتے ہیں۔ اپنے حلقے میں مقبول ہیں اور ان کی پہنچ بھی اوپر تک ہے۔

Back to top button