پاکستانی نصابی کتب میں مسخ شدہ تاریخ ہی کیوں؟


ہمارے تعلیمی نصاب میں سقوط مشرقی پاکستان اور قیام بنگلہ دیش کی وجوہات کا تفصیلی ذکر نہ ملنے کی بنیادی وجہ پاکستان کا ایک سیکیورٹی سٹیٹ ہونا ہے جہاں ایک مخصوص عسکری بیانیے کو فروغ دینے والی ریاست اپنا فرض سمجھتی ہے کہ شہریوں کا ایک خاص ذہن تیار کرے جس کے لیے ضروری یے کہ وہ انہیں اپنی مرضی کی مسخ شدہ تاریخ پڑھائے۔
بنگلہ دیش کے بانی شیخ مجیب الرحمٰن پاکستاننجے غدار تھے۔ مشرقی پاکستان کی علیحدگی بڑی طاقتوں کے درمیان خفیہ معاہدے کا نتیجہ تھا۔ یہ چند ایسے فقرے ہیں جو پاکستان کے منظور شدہ تعلیمی نصاب میں مطالعہ پاکستان کی کتاب سے لیے گئے ہیں۔ اس کتاب میں مشرقی پاکستان کہلائے جانے والے حصے کو وفاقِ پاکستان کا ’دایاں بازو‘ قرار دیا گیا جسے مغربی پاکستان سے اندرونی و بیرونی اسباب کے باعث علحیدہ ہونا پڑا۔
بنگلہ دیش کے قیام کو اب 50 سال بیت گئے ہیں مگر آج بھی وہاں سے آواز اٹھتی ہے کہ پاکستان بنگلہ دیشی عوام سے فوجنجے ہاتھوں بنگالیوں کے قتل عام کی معافی مانگے۔ بنگلہ دیش پاکستان پر جنگی جرائم کے علاوہ دیگر الزامات بھی عائد کرتا رہا ہے جس کی تردید بھی ریاست پاکستان کی جانب سے تواتر سے آتی رہی ہے۔
لیکن سوال یہ ہے کہ کیا پاکستانی نصاب میں ان الزامات کا یا بنگلہ دیش کی آزادی کی جدوجہد کا کہیں ذکر بھی ہے؟ ہماری نصاب کی کتابوں میں اس موضوع کا تفصیل سے ذکر نہ ملنے کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ پاکستان کو فوج نے ایک فلاحی ریاست کی بجائے ایک سکیورٹی سٹیٹ بنا دیا ہے جہاں شہریوں کے سروں پر عسکری شکنجے کس دیے جاتے ہیں اور ان کی سوچ کو ریاستی بیانیہ کے تحت پروان چڑھایا جاتا ہے۔ اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ پاکستان اب تک چار فوجی جرنیلوں کے آمرانہ ادوار حکومت بھگت چکا ہے جنہوں نے اپنی مرضی کی تاریخ نصابی کتب میں ٹھونس کر ریاستی بیانیہ آگے بڑھایا۔
سوال یہ ہے کہ پاکستان کے ’دائیں بازو‘ کی علیحدگی کو ہمارے تعلیمی نصاب میں کیسے پیش کیا جاتا ہے؟ پاکستان میں عمومی طور پر نویں جماعت میں یعنی 15 یا 16 سال کے طلبہ کو پہلی مرتبہ قیام بنگلہ دیش کے بارے میں پڑھایا جاتا ہے۔ اگر سرکاری سطح پر ملک بھر میں پڑھائے جانے والی تاریخ کی کتاب کا جائزہ لیا جائے تو یہ کہنا درست ہو گا کہ 1971 کے واقعات کو دو یا تین صفحات میں تفصیل میں جائے بغیر پیش کیا گیا ہے۔ اس کے برعکس نجی سکولوں میں او لیول میں پڑھائی جانے والی ’پاکستان سٹڈیز‘ کی کتاب میں پاکستان کے اس وقت مشرقی اور مغربی حصوں میں پیدا ہونے والی رنجشوں کا گو کہ تفصیل سے ذکر کیا گیا ہے لیکن سرکاری اور نجی نصاب میں مشترکہ چیز یہی ہے کہ آج بھی بنگلہ دیش کی جانب سے لگائے جانے والے الزامات کو بڑی حد تک نصاب میں نظرانداز کیا گیا ہے۔
مشرقی پاکستان کی علیحدگی کے کبھی 14 اسباب پڑھائے گئے تو کبھی نو اور یہ چھوٹی موٹی تبدیلیاں سیاسی ادوار اور بدلتی حکومتوں کے ساتھ دیکھنے کو ملتی رہیں۔ ان اسباب کو بیان کرتے ہوئے کتاب میں سب سے زیادہ ذکر انڈیا کا موجود ہے۔ انڈیا کو نہ صرف ایک دشمن کے طور پر پیش کیا گیا ہے بلکہ ’پاکستان کو توڑنے کی اس بیرونی سازش‘ میں اسے ہی مرکزی قصوروار ٹہھرایا گیا ہے۔ مشرقی اور مغربی پاکستان کی رنجشوں کے حوالے سے بات کرتے ہوئے تعلیم و تدریس کے شعبے سے وابستہ پروفیسر اے ایچ نئیر کے مطابق اُس وقت پاکستانی اقتدار کے ایوانوں میں موجود لوگوں کا یہ خیال تھا کہ ایک مذہب ہی وہ واحد چیز ہے جو ملک کے ان دو حصوں کو جوڑ سکتا ہے اور تبھی ’تاریخ ایسے پڑھائی گئی کہ ایک مذہبی شناخت پیدا کی جا سکے۔‘
پاکستان میں نویں جماعت کے طلبہ کو علیحدگی کی وجوہات میں یہ بھی پڑھایا جاتا ہے کہ نوجوان بنگالی شہریوں کے ذہنوں کو زہریلا کرنے میں ہندو اساتذہ کا ایک بہت اہم کردار تھا اور ساتھ ہی ساتھ یہ پاکستان کی بدقسمتی تھی کہ بانی پاکستان محمد علی جناح کے بعد کوئی ’محب وطن مسلمان لیڈر‘ نہیں آیا۔
پروفیسر نئیر نے قیام بنگلہ دیش سے قبل اس وقت کو یاد کرتے ہوئے بتایا کہ ’ہمارے ہاں تصور یہی تھا کہ یہ بھوکے بنگالی ہیں، پانچ پانچ فٹ قد کے لوگ ہیں اور یہ کمزور لوگ ہیں اور ہم تو بڑی اعلیٰ نسل کے لوگ ہیں جس کے باعث ان کے ساتھ ایک حقارت کا انداز تھا۔‘
پاکستان کے معروف مصنف اور تاریخ دان خورشید کمال عزیز یا کے کے عزیز نے 90 کی دہائی میں ’دا مرڈر آف ہسٹری‘ کے عنوان سے کتاب شائع کی اور پاکستان میں پڑھائے جانے والی تاریخ کی متعدد کتابوں کا تنقیدی جائزہ پیش کیا۔
کے کے عزیز کے مطابق پاکستانی نصاب کے تحت ایک طالبعلم کی قیام بنگلہ دیش سے متعلق ذہن سازی ایسے کی گئی ہے کہ وہ دو صورتوں میں ہی مشرقی پاکستان کی علیحدگی کو سمجھ سکتا ہے۔ ایک تو یہ کہ مشرقی پاکستان مسائل سے بھرپور اور فطرتاً بے وفا تھا اور اس لیے قیام بنگلہ دیش پاکستان کے لیے ایک مثبت پیشرفت تھی۔
دوسری صورت یہ کہ طلبہ اسے ماضی میں گزرے ایک غیر اہم واقعے کے طور پر تسلیم کریں۔ ان کے مطابق ’یہ ایک دانستہ کوشش تھی کہ طلبہ کو 1971 سے قبل ہونے والے واقعات کے حوالے سے اندھیرے میں رکھا جائے۔‘
پروفیسر نیئر نے طلبہ کے ذہنوں پر پڑنے والے اثرات سے متعلق انڈیا کا بھی ذکر کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ’جو اثر یہ چاہتے ہیں وہ ہی پڑ رہا ہے، ان بچوں کے ذہنوں میں بیٹھ جاتا ہے کہ انڈیا دشمن ہے اور پاکستان مظلوم۔‘ تو سوال یہنیے کہ کیا اس نصاب سے ریاست پاکستان کو کوئی فائدہ ہوا؟ کالم نگار اور علم و تدریس کے شعبے سے منسلک عاصم سجاد اختر کا کہنا تھا کہ ’اگر آپ نے وہ لوگ پیدا کرنے ہیں جو آپ کی ہاں میں ہاں ملائیں، جنگ کی بولی بولیں اور آپ کے لیے تالیاں بجائیں تو پھر تو فائدہ ہی فائدہ ہے۔ لیکن اگر آپ دور حاضر میں ایک ایسے انسان کو معاشرے میں لانا چاتے ہیں جس کا نہ صرف تخلیقی ذہن ہو بلکہ اس میں تنقید کرنے کی بھی صلاحیت ہو تو آپ بطور ریاست مکمل طور پر ناکام ہو گئے ہیں۔‘
عاصم سجاد کے مطابق آج تک کسی بھی سنجیدہ تحقیق کی کوشش کو دبایا جاتا رہا ہے اور ان کا ماننا ہے کہ ’ریاستی بیانیے کے محافظ‘ بھی شاید یہ تبدیلی نہ لانا چاہتے ہوں۔
قیام بنگلہ دیش اور اس سے جڑے واقعات کو پاکستان، بنگلہ دیش اور انڈیا میں کیسے پیش کیا جاتا ہے؟ اس موضوع سے متعلق محقق انعم ذکریا نے نہ صرف تینوں ملکوں کا دورہ کیا بلکہ 1971 کے واقعات پر تینوں نظریوں کو سمجھنے کی کوشش کی۔ انعم ذکریا کا کہنا تھا کہ یہ بالکل ممکن ہے کہ تاریخ میں گزرے ایک ہی واقعے کو تینوں ممالک میں ایک مختلف زاویے سے دیکھا جائے۔ جب پوچھا گیا کہ کیا پاکستان وہ واحد ریاست ہے جو نصاب کو اپنے نقطہ نظر سے پیش کرتی ہے؟ تو عاصم سجاد کا کہنا تھا کہ ’ہر ریاست اپنا فرض سمجھتی ہے کہ اپنے شہریوں کی پرورش ایک خاص بیانیے کے تحت کرے اور اس تناظر میں شاید پاکستان واحد یا انوکھی ریاست نہیں جو ایسا کرتی ہے۔‘ البتہ وہ پاکستان کو اس لحاظ سے ایک انوکھی ریاست ضرور تصور کرتے ہیں جہاں علیحدگی اختیار کرنے والے حصے کی آبادی اکثریت میں ہو۔ یاد رہے کہ علیحدگی کے وقت مشرقی پاکستان کی آبادی مغربی پاکستان سے کئی گناہ زیادہ تھی۔
عاصم سجاد کا کہنا تھا کہث ’آج بھی ہم اپنے بچوں کو بتا رہے ہیں کہ 54 فیصد جو آبادی تھی، آخر وہ بھی پاکستانی تھے، سارے کے سارے ایک بیرونی سازش کا حصہ بن گئے، جو میری نظر میں کافی مضحکہ خیز ہے۔‘اسی طرح پروفیسر اے ایچ نیئر نے تعلیمی نظام میں اساتدہ کے کردار کے حوالے سے کہا کہ ’انھوں نے جو خود بچپن میں پڑھا، وہ ان کے ذہنوں میں نقش ہو گیا۔ اگر کبھی ان کا پالا ایسے طلبہ سے پڑے جن کے ذہن تجسس سے بھرے ہوں تو انھیں بھی نصاب میں شامل ایسے نعروں کا سہارا لینا پڑتا ہے جس کے بعد بحث کی گنجائش نہیں رہتی۔‘ ان کا کہنا ہے کہ ’بہت کم اساتذہ ایسے ملیں گے جو منتطق کی بنیاد پر طلبہ کے ساتھ ان موضوعات پر بحث کرتے نطر آئیں۔‘ پروفیسر نیئر کے مطابق صوبہ خیبر پختونخوا میں عوامی نیشنل پارٹی نے اپنے دور حکومت میں نصاب کو ایک نئے سرے سے ترتیب دینے کا فیصلہ کیا تھا اور نصاب میں قیام بنگلہ دیش کی ’صحیح وجوہات‘ دینے کی بھی کوشش کی مگر 2013 میں جماعت اسلامی اور تحریک انصاف کی حکومت نصاب کو واپس اس کی پرانی شکل میں لے گئی۔ یعنی بات پھر وہی ہے کہ اس ملک میں ہر حکمران نصابی کتب کے ذریعے طالب علموں کو اپنی مرضی کی تاریخ پڑھانا چاہتا ہے۔ اور اسی کو مرڈر آف ہسٹری کہتے ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button