پاکستان افغانستان میں مفاہمت کی رہی سہی امیدیں بھی ختم

پاکستان اور افغانستان کے درمیان ہر گزرتے دن کے ساتھ بڑھتی ہوئی کشیدگی کو کم کرنے کے لیے دوحہ طرز کے معاہدے بارے افواہیں زیر گردش ہیں۔ تاہم ناقدین کے مطابق اس تجویز پر عملدرآمد کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ یہ ہے کہ امریکہ، چین، برطانیہ، مصر اور سعودی عرب سمیت کوئی بھی ملک افغان طالبان کی ضمانت دینے پرتیار نہیں۔جس کی وجہ سے دونوں ہمسایہ ممالک کے درمیان مستقبل قریب میں مفاہمت کی رہی سہی امیدیں بھی معدوم ہوتی دکھائی دیتی ہیں۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب پاکستان اور افغانستان کے درمیان گزشتہ برس اکتوبر سے جاری کشیدگی میں ایک بار پھر اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے جبکہ سرحدی تناؤ، سیکورٹی خدشات اور باہمی الزامات نے دونوں ممالک کے مابین تعلقات کو ایک مرتبہ پھر ڈیڈلاک کی کیفیت میں دھکیل دیا ہے۔ اسی پس منظر میں افغانستان کے لیے امریکہ کے سابق خصوصی ایلچی زلمے خلیل زاد نے ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ احمد شریف کی حالیہ پریس کانفرنس کے ردعمل میں سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر پاکستان اور افغانستان کے لیے دوحہ طرز کے معاہدے کی تجویز پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان اور افغانستان کے مابین جاری کشیدگی کا واحد حل دوحہ طرز کا جنگ بندی معاہدہ ہے۔ اس طرح کے معاہدے سے نہ صرف دونوں ممالک میں تعلقات بہتری کی طرف جا سکتے ہیں بلکہ مستقبل میں پورا خطہ ایک بڑے بحران سے بچ سکتا ہے۔ زلمے خلیل ازد کے مطابق طالبان اس مجوزہ معاہدے پر بات چیت کے لیے تیار ہیں۔ تاہم اب پاکستان نے اس بارے فیصلہ کرنا ہے کہ معاملات کو جنگ کی طرف لے جانا ہے یا مذاکرات کے ذریعے مسائل کے حل کا طریقہ کار اپنانا ہے۔خلیل زاد کے مطابق اب گیند پاکستان کے کورٹ میں ہے اور اسلام آباد کو یہ فیصلہ کرنا ہے کہ آیا وہ اس پیشکش کو آگے بڑھانا چاہتا ہے یا نہیں۔
زلمے خلیل زاد کی تجویز کے مطابق دونوں ممالک اس بات کی یقین دہانی کرائیں کہ وہ کسی فرد یا گروہ کو اپنی سرزمین ایک دوسرے کی سلامتی کے خلاف استعمال کرنے کی اجازت نہیں دیں گے، جبکہ اس معاہدے کی نگرانی کسی تیسرے فریق ملک کے سپرد کی جائے۔ تاہم خلیل زاد نے یہ واضح نہیں کیا کہ یہ تیسرا فریق کون ہو سکتا ہے، امریکہ، چین یا کوئی خلیجی ریاست اس بارے میں ثالث بن سکتی ہے ۔ تاہم مبصرین زلمے خلیل زاد کی اس تجویز کو رد کرتے دکھائی دیتے ہیں تجزیہ کاروں کے مطابق پاک افغان کشیدہ تعلقات جیسے حساس اور پیچیدہ ذمہ داری کے لیے کسی ملک کا آگے آنا مشکل دکھائی دیتا ہے، جس کی وجہ سے زلمے خلیل زاد کی اس تجویز کے ایک نظریاتی امکان سے آگے بڑھنے کے کوئی چانسز نظر نہیں آتے۔
بعض دیگر دفاعی ماہرین کے مطابق اگرچہ دوحہ معاہدہ براہِ راست افغانستان اور پاکستان کے تعلقات کا احاطہ نہیں کرتا تھا، تاہم اس کا بنیادی تصور قابلِ غور ہے۔ ان کے مطابق تیسرے فریق کی نگرانی میں دوطرفہ عدم جارحیت اور پناہ نہ دینے کا معاہدہ دونوں ممالک کے لیے فائدہ مند اور خطے میں استحکام کا باعث بن سکتا ہے۔ تاہم مبصرین کے نزدیک اگر پاکستان اور افغانستان کے درمیان دوحہ طرز کا کوئی معاہدہ طے پاتا ہے تو سب سے اہم سوال یہی ہوگا کہ افغانستان اس کے بدلے پاکستان سے کیا مطالبہ کرے گا، کیونکہ کابل کی جانب سے کسی بھی غیر حقیقت پسندانہ یا غیر مؤثر مطالبے کی صورت میں یہ پورا عمل مزید پیچیدگی کا شکار ہو سکتا ہے۔
سیکیورٹی ماہرین کے مطابق جہاں ایک طرف پاکستان اور افغانستان کے مابین دوحہ طرز کے معاہدے بارے گفت و شنید جاری ہے وہیں دوسری جانب پاک فوج کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے منگل کو ایک پریس بریفنگ میں پاکستان میں دہشت گردی میں اضافے کی ذمہ داری افغانستان میں موجود عسکریت پسندوں پر عائد کر دی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ 2025 میں پاکستان میں ہونے والے دس بڑے دہشت گرد حملوں میں ملوث تمام افراد افغان شہری تھے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ افغانستان میں مؤثر حکومتی رٹ موجود نہیں جبکہ افغان طالبان اپنی معیشت چلانے کے لیے دہشت گردی کی حمایت کر رہے ہیں۔ ان بیانات کے جواب میں افغان طالبان حکومت کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے ایکس پر ردعمل دیتے ہوئے ترجمان پاک فوج کے بیانات کو ’’دھمکی آمیز‘‘ اور افغانستان کے داخلی معاملات میں ’’دخل اندازی‘‘ اور حقائق کے منافی قرار دیا۔ ذبیح اللہ مجاہد نے مؤقف اختیار کیا کہ افغانستان ایک خودمختار اور مستحکم ملک ہے، جہاں مضبوط سکیورٹی نظام اور مقتدر قیادت موجود ہے اور حکومت کو اپنی پوری سرزمین پر مکمل کنٹرول حاصل ہے۔ انہوں نے دونوں ممالک سے اپیل کی کہ تعلقات کی نزاکت کو مدنظر رکھتے ہوئے ذمہ دارانہ رویہ اور محتاط بیانات اختیار کیے جائیں۔
مبصرین کے مطابق ترجمان پاک فوج کی پریس کانفرنس اور اس پر افغان حکومت کے ترجمان کے بیانات نے دونوں ممالک کے مابین موجود کشیدگی کو مزید بڑھا دیا ہے ایسے میں دونوں ممالک کا مذاکرات کی میز پا آنا نا ممکن دکھائی دیتا ہے۔ سیاسی تجزیہ کاروں کے بقول فی الوقت دونوں ممالک کے درمیان تعطل برقرار ہے، سرحدیں بدستور تجارت کے لیے بند ہیں اور دوحہ طرز کے کسی ممکنہ معاہدے کے باوجود باہمی اعتماد کی فضا بحال ہوتی دکھائی نہیں دیتی، جس کے باعث کشیدگی میں کمی کے امکانات تاحال غیر یقینی ہیں۔
