پاکستان اور برطانیہ کے سفارتی تعلقات کشیدہ کیوں ہوئے؟

کیا پاکستان اور برطانیہ کے سفارتی تعلقات میں کوئی بڑی کشیدگی چل رہی ہے۔ یہ سوال دو وفاقی وزرا اسد عمر اور شیریں مزاری کی جانب سے برطانیہ کے بارے میں حالیہ سخت ٹویٹس آنے کے بعد کیا جا رہا ہے۔

یاد رہے کہ وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی اور این سی او سی کے سربراہ اسد عمر نے برطانیہ کی جانب سے پاکستان سمیت چند ممالک کو ریڈ لسٹ میں شامل کرنے پر تنقید کرتے ہوئے سوال اٹھایا ہے کہ آیا ان ممالک کا انتخاب سائنسی بنیادوں پر کیا گیا ہے یا خارجہ پالیسی کے تحت۔

اسد عمر نے برطانوی حکومت کے فیصلے پر اظہار برہمی کرتے ہوئے ٹویٹ کیا کہ ’ہر ملک کو اپنے شہریوں کی صحت کی حفاظت کے لیے فیصلے کا حق ہوتا ہے تاہم برطانوی حکام کے حالیہ فیصلے سے یہ جائز سوال پیدا ہوتا ہے کہ آیا پاکستان کو ریڈ لسٹ میں شامل کرنے کا فیصلہ سائنسی کی بنیاد پر تھا یا خارجہ پالیسی کی بنیاد پر۔‘ اسد عمر نے اپنی تویٹ کی وضاحت تو نہیں کی لیکن ناقدین کا کہنا ہے کہ برطانیہ نے اگر پاکستان پر سفری پابندیاں عائد کی ہیں تو اس کی واضح وجہ پاکستان میں تیزی سے پھیلتا ہوا کرونا وائرس ہے جسکے متاثرین میں اب ریکارڈ توڑ اضافہ ہو چکا ہے۔ چنانچہ ناقدین کا کہنا ہے کہ پاکستانی حکام کو بے جا برطانوی ایکشن پر تنقید کرنے کی بجائے کرونا وائرس کو کنٹرول کرنے پر فوکس کرنا چاہیے۔

دوسری جانب اسد عمر کے بعد وفاقی وزیر برائے انسانی حقوق شیریں مزاری نے بھی پاکستان کو ریڈ لسٹ میں شامل کرنے پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ برطانوی حکومت کا فیصلہ سائنسی یا حقائق پر مبنی نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کو ریڈ لسٹ میں شامل کرنا اور کرونا وائرس سے بری طرح متاثر دیگر ممالک کو چھوڑ دینا واضح طور پر کسی سائنسی یا حقائق پر مبنی فیصلہ نہیں۔‘ انہوں نے مزید کہا کہ یہ خارجہ پالیسی کی مجبوریوں کو ظاہر کرتا ہے، اسی لیے خارجہ پالیسی میں برابری انتہائی اہمیت کی حامل ہے۔ تاہم ناقدین یہ سوال کر رہے ہیں کہ اسد عمر اور شیریں مزاری اصل میں کیا کہنا چاہ رہے ہیں؟ کیا وہ یہ کہنا چاہتے ہیں کہ پاکستان اور برطانیہ کے خارجہ تعلقات آجکل کسی وجہ سے خراب ہے جسکا اظہار پاکستان کو ریڈ لسٹ میں شامل کرکے اور سفری پر پابندیاں عائد کر کے لیا جارہا ہے۔ اگر ایسا کچھ ہے بھی تو کم از کم پاکستان کی وزارت خارجہ کو اس بارے میں کچھ علم نہیں ہے۔

دودری جانب وفاقی وزیر اسد عمر اور شیریں مزاری نے اپنے ٹویٹ کے ساتھ برطانوی رکن پالیمان ناز شاہ کے خط کو شامل کیا ہے جس میں انہوں نے ریڈ لسٹ پر سوالات اٹھائے ہیں۔ خیال رہے کہ 2 اپریل کو برطانیہ نے کرونا وائرس کے خطرے کے پیش نظر پاکستان کو بھی سفری پابندیوں کی فہرست میں شامل کیا تھا۔ اسلام آباد میں برطانوی ہائی کمشنر نے اپنے ایک ویڈیو بیان میں کہا تھا کہ برطانیہ کرونا وائرس کو کنٹرول کرنے کے لیے اپنی سرحدوں کے حوالے سے صورت حال کا بڑی باریک بینی سے جائزہ لیتا رہا ہے اور پاکستان سے صرف ان افراد کو برطانیہ سفر کرنے کی اجازت ہوگی جو کہ برطانوی یا آئرش شہری ہیں یا ان کے پاس برطانیہ میں رہائش کے حقوق ہیں۔

لہکن برطانوی رکن پالیمان ناز شاہ نے اس سلسلے میں برطانوی وزیرخارجہ کو خط لکھا ہے اور ریڈ لسٹ پر سوالات اٹھائے۔ انہوں نے سوال کیا کہ پاکستان کو ریڈ لسٹ میں کس سائنٹیفک بنیاد پر شامل کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ فرانس، جرمنی اور انڈیا کی نسبت پاکستان میں کرونا وائرس کے کیسز کی تعداد اب بھی کم ہے۔ ناز شاہ نے اپنے خط میں مزید کہا کہ برطانوی حکومت کے پاس ریڈ لسٹ سے متعلق کوئی جامع حکمت عملی نہیں اور وہ اپنے عوام کے تحفظ کی بجائے سیاسی فیصلے کر رہی ہے۔
لیکن ناز شاہ نے بھی یہ وضاحت نہیں کی کہ برطانوی حکومت پاکستان کے حوالے سے اس طرح کا فیصلہ سائنسی بنیادوں کی بجائے سیاسی بنیادوں پر کیوں کرے گی۔

ٹوئٹر پر وفاقی وزیر اسد عمر کے ٹیوٹ کے جواب
میں نیوٹرل ایمپائر نامی صارف نے لکھا کہ ’اگر پاکستان کی حکومت بھی ایئرپورٹس پر سخت اقدامات کرتی اور قرنطینہ کو لازمی قرار دیا جاتا تو آج یہ حالت نہ ہوتی۔‘ ایک اور صارف طلعت کاشف نے لکھا کہ ’یو کے نے اپنا وائرس پاکستان بھیج دیا اور اب پاکستان کے لیے دروازے بند کر دیے۔‘

خیال رہے کہ برطانیہ کی ریڈ لسٹ میں متحدہ عرب امارات، جنوبی افریقہ، قطر، برازیل سمیت 35 ممالک پہلے ہی شامل ہیں۔دوسری جانب پاکستان میں تیزی سے بڑھتے ہوئے برطانوی کرونا وائرس کی بنیادی وجہ یہ بتائی جارہی ہے کہ برطانیہ سے پاکستان کا سفر کرنے والے شہری تمام تر کورونا ایس او پیز کو نظر انداز کرتے ہوئے بلا روک ٹوک پاکستان کا سفر کر رہے ہیں اور جو اس جان لیوا وائرس کو پاکستان منتقل کرنے کی وجہ بن رہے ہیں۔

پاکستان حکام کے مطابق بعض پاکستانی نژاد برطانوی شہری کووڈ کے دوران سفر کی جائز یا قانونی وجوہات کی شرائط کو نظر انداز کرتے ہوئے پاکستان کا سفر کر رہے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ ہزاروں پاکستانی نژاد برطانوی شہری وبا کے دوران اپنی دوہری شہریت کو استعمال کرتے ہوئے مانچسٹر ایئرپورٹ سے پاکستان کا رُخ کر رہے ہیں جہاں کورونا ایک بار پھر تیزی سے پھیل رہا ہے۔ اس پھیلاؤ میں کورونا کی ’برطانوی قسم‘ کو بھی ایک بڑی وجہ قرار دیا جا رہا ہے۔ حکام نے پاکستانی نژاد برطانوی شہریوں کو خبردار کیا ہے کہ وہ کووڈ قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے پاکستان کا غیر ضروری سفر کرنے سے گریز کریں۔

پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ ان حالات میں بجائے کہ پاکستان برطانیہ سے آنے والوں پر سفری پابندی عائد کرتا الٹا برطانوی حکومت نے پاکستان کو ان ممالک کی ریڈ لسٹ میں شامل کر دیا ہے جہاں سے آنے والے مسافروں کو 1700 پاونڈز ایئرپورٹ پر دینا ہوں گے جس کے بعد انہیں دس روز کے لیے ہوٹل میں قرنطینہ کر دیا جائے گا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button