پاکستان ایٹمی مواد کے تحفظ میں بھارت سے آگے نکل گیا


پاکستان نے ایٹمی مواد کے تحفظ کو یقینی بنانے کے حوالے سے کئے گئے اقدامات کے ذریعے بھارت کو بھی ایک درجہ پیچھے چھوڑ دیا ہے۔ ایٹمی مواد اور تنصیبات سے متعلق رینکنگ جاری کرنے والے امریکی ادارے کی تازہ رپورٹ کے مطابق پاکستان بھارت کو بھی پیچھے چھوڑ دیتے ہوئے ان ممالک میں سرفہرست آ گیا ہے جنہوں نے اپنے ایٹمی مواد کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے موئثر اقدامات کیے ہیں۔
نیوکلیئر تھریٹ انیشیٹو سیکیورٹی انڈیکس کی تازہ رپورٹ کے مطابق پاکستان نے ایٹمی مواد، اثاثوں اور تنصیبات کی سیکیورٹی کے لیے سب سے نمایاں اقدامات کیے۔این ٹی آئی کی جانب سے دنیا کے متعدد ممالک کی جانب سے ایٹمی مواد کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے کی جانے والی کوششوں کی مختلف کیٹیگریز میں درجہ بندی کی گئی۔
ادارے کی جانب سے مجموعی طور پر 2 اہم کیٹیگریز یعنی سیکیورمیٹیرلزاور پروٹیکٹ فیسلٹیز میں نیکلیئت ممالک کو اقدامات اٹھائے جانے پر نمبرز دیے گئے ہیں۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ پاکستان نے مذکورہ دونوں کیٹیگریز کو بہتر بنانے کے لیے اقدامات اٹھا کر اپنی رینکنگ بہتر بنائی۔ پاکستان کو ایٹمی اثاثوں، تنصیبات اور مواد کو بہتر بنانے والے 22 ممالک میں سے 19 ویں نمبر پر رکھا گیا اور مذکورہ کیٹیگری میں پاکستان نے گزشتہ 2 سال میں 7 درجے بہتری حاصل کی۔ اس کیٹیگری میں پڑوسی ملک بھارت کا 20 واں نمبر ہے اور وہ پاکستان سے ایک درجہ نیچے ہے۔ ادارے نے ایٹمی مواد کی تیاری، فراہمی اور اس کی ترسیل کی سہولیات کے تحفظ کو یقینی بنانے کی کیٹیگری میں بھی پاکستان کو 47 ممالک میں سے 33 ویں نمبر پر رکھا ہے۔ اس کیٹیگری میں پاکستان نے گزشتہ 2 سال میں 6 درجے بہتری حاصل کی۔ پاکستان نے مذکورہ کیٹیگری میں بھی پڑوسی ملک بھارت کو ایک درجے پیچھے چھوڑ دیا اور بھارت کا اس کیٹیگری میں 47 ممالک میں 34 واں نمبر ہے۔
امریکی ماہرین کا کہنا ہے کہ اس پیشرفت سے پاکستان پر ایٹمی اثاثوں کے تناظر میں عالمی برادری کا دباو تو کم ہوگا تاہم یہ رینکنگ محض علامتی حیثیت کی حامل ہے۔ واضح رہے کہ نیشنل تھریٹ انڈیکس واشنگٹن ڈی سی میں قائم ایک ادارہ ہے جو 170 ممالک کے جوہری ہتھیاروں پر تحقیق کرتا ہے۔ یہ ادارہ خود کو ناصرف جوہری ہتھیاروں کا مخالف بتاتا ہے بلکہ اس کے غلط استعمال کی روک تھام کی کوشش میں بھی مصروف عمل رہتا ہے۔ یہ ادارہ جوہری ہتھیاروں کے استعمال کے خطرات کے بارے میں سالانہ رپورٹ بھی شائع کرتا ہے جس سے یہ تعین کیا جاتا ہے کہ جوہری ٹیکنالوجی اور ہتھیاروں کے حامل ممالک ان ’اثاثوں‘ کے تحفظ کے لیے کیا اقدامات اٹھا رہے ہیں۔ اور یہ اقدامات ضابطہ کار پر پورے اترتے ہیں یا نہیں۔
اس رپورٹ کے شائع ہوتے ہی پہلا سوال یہی پوچھا جا رہا ہے کہ اس رینکنگ کی کیا اہمیت ہے اور اس سے دنیا بھر میں پاکستان کی ساکھ پر کیا فرق پڑ سکتا ہے؟ قائد اعظم یونیورسٹی میں شعبہ فزکس کے سابق پروفیسر ڈاکٹر اے ایچ نئیر اس بات کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ ’یہ ایک مستند ادارہ ہے جو کئی برسوں سے پاکستان کے جوہری پروگرام پر نظر رکھے ہوئے ہے۔ یہ جانتے ہوئے بھی اس ادارے کا غیر جانبدار ہو کر رینکنگ دینا اچھی بات ہے۔دوسری جانب پاکستانی نیوکلیئر فزسٹ پرویز ہودبھائی اس سے متفق نہیں اور ان کا کہنا ہے کہ جہاں تک اس رینکنگ کی بات ہے تو جو سٹریٹیجک پلان ڈویژن فورس اس ادارے کو بتائے گا یہ ادارہ من و عن وہی مان لے گا۔ تو اس رینکینگ کے لیے ایٹمی تنصیبات کا جائزہ نہیں لیا گیا ہے۔ یہ ممکن نہیں ہے، کیونکہ باہر سے اس جوہری پروگرام پر کسی طرح کی نگرانی نہیں ہوئی۔ ڈاکٹر نئیر کا کہنا ہے کہ عالمی قوتوں کی جانب سے پاکستان کے جوہری پروگرام پر تحفظات اور الزامات کے بعد پاکستان نے اس ضمن میں وقت کے ساتھ کچھ اہم اقدامات کیے ہیں۔انھوں نے بتایا کہ سنہ 2002 اور 2004 کے دوران پاکستان اس حوالے میں عالمی قوتوں کے خاصے دباؤ میں رہا۔ پاکستان نے پھر ایسے قوانین اور ضابطہ کار بنائے کہ اگر کوئی جوہری ہتھیار ملک سے باہر جاتا ہے یا باہر سے ملک میں آتا ہے تو اس بارے میں ایک مکمل طریقہ کار موجود ہو تاکہ اس حوالے سے کچھ بھی ڈھکے چھپے انداز میں نہ ہو بلکہ دنیا کے سامنے ہو۔دوسرا خطرہ کمانڈ اینڈ کنٹرول سے منسلک تھا۔ جس میں جوہری ہتھیار کا حادثاتی طور پر لانچ ہو جانا، چوری ہو جانا وغیرہ شامل ہیں۔ اس خدشات کے نتیجے میں ملک کو عالمی اداروں کو یہ یقین دہانی کرانی ہوتی ہے کہ ان کے ملک میں موجود جوہری ہتھیاروں کے تحفظ کے لیے کیا اقدامات لیے جا رہے ہیں۔این ٹی آئی نے بھی کئی بار پاکستان کے جوہری ہتھیاروں کے دہشتگردوں کے ہاتھ لگنے کے بارے میں ناصرف اپنے خدشات کا اظہار کیا بلکہ اب تک یہ ادارہ پاکستان کے جوہری پروگرام کے خلاف ہے۔پاکستان نے ان تمام تحفظات کو دیکھتے ہوئے اپنے جوہری پروگرام کے لیے ایک خصوصی اٹامک سٹریٹیجک پلان ڈویژن فورس قائم کی۔ماہرین کے مطابق یہ حفاظتی اقدامات مختلف سطحوں پر مشتمل ہے۔ جس کے نتیجے میں پاکستان نے ایک مضبوط نظام قائم کر لیا۔ اس دوران لوگوں کا اعتماد بڑھا کہ یہ واقع بہتری لانا چاہتے ہیں، سیکھنا چاہتے ہیں۔
خیال رہے کہ اس رپورٹ میں بنائی گئی فہرست میں پاکستان اور انڈیا کی رینکنگ میں انیس، بیس کا فرق ہے۔ یعنی پاکستان انیسویں نمبر پر ہے اور انڈیا بیسویں نمبر پر ہے۔لیکن ماہرین کہتے ہیں اس کا اس رینکنگ پر کوئی فرق نہیں پڑتا۔ جیسے کہ ڈاکٹر نئیر نے کہا کہ ’یہ پاکستان اور انڈیا یا ان ملکوں میں رہنے والوں کے لیے بحث کا ایک اچھا مواد بن سکتا ہے۔ لیکن رینکنگ میں آگے پیچھے ہونا دل خوش کرنے سے زیادہ اور کچھ نہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button