پاکستان بار کونسل کا جسٹس فائز عیسٰی پر پابندی ہٹانے کا مطالبہ


پاکستان بار کونسل نے چیف جسٹس سپریم کورٹ آف پاکستان جسٹس گلزار احمد کی جانب سے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ پر وزیراعظم عمران خان سے متعلقہ کیس سننے پر پابندی کے فیصلے پر نظرثانی کا مطالبہ کر دیا یے۔ بار کونسل کا کہنا یے کہ عدالت عظمیٰ کی غیر جانبداری، آئینی فرائض کی بلا روک ٹوک ادائیگی، اور انصاف کی فراہمی کے لیے ججز کی آزادی کی حفاظت کے وسیع تر مفاد میں چیف جسٹس آف پاکستان کو جسٹس فائز عیسیٰ پر عائد کردہ پابندی پر نظرثانی کرنی چاہیے۔

پاکستان بار کونسل کے نائب صدر خوش دل خان نے معاملے کی اہمیت کے پیش نظر صورت حال پر تبادلہ خیال کیلئیے بار کونسل کا فوری اجلاس بلانے کی بھی تجویز پیش کی ہے۔ واضح رہے کہ 11 فروری کو چیف جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں پانچ ججز پر مشتمل سپریم کورٹ کے بینچ نے ایک حکم جاری کیا تھا جس میں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ سے کہا گیا تھا کہ وہ وزیر اعظم عمران خان سے متعلق کیسز پر سماعت نہ کریں کیونکہ ان کی وزیراعظم کے ساتھ مقدمہ بازی چل رہی ہے۔
چیف جسٹس نے یہ ہدایات پی ٹی آئی کے ممبران اسمبلی میں وزیراعظم کی جانب سے 50 کروڑ روپے کے اضافی فنڈز کی تقسیم کے معاملے کی سماعت کے دوران جاری کیں۔ چیف جسٹس سپریم کورٹ کا موقف تھا کہ غیر جانبداری کے اصول کو برقرار رکھنے اور انصاف کے مفاد میں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کو وزیر اعظم کے کیسز نہیں سننے چاہئیں۔

تاہم چیف جسٹس کا یہ فیصلہ تب متنازعہ ہو گیا جب وکلا برادری اور پاکستان بار کونسل نے اس پر سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے۔ سوشل میڈیا صارفین نے بھی چیف جسٹس گلزار احمد کی جسٹس فائز عیسیٰ پابندی کے فیصلے کو انکی اپنی جانبداری سے تعبیر کر دیا اور ان پر حکومت کی بے جا سائڈ لینے کا الزام عائد کر دیا۔ سوشل میڈیا پر یہ بھی کہا گیا کہ جسٹس فائز عیسی کے کیس میں یہ پہلا موقع ہے کہ کسی فریق نے نہیں بلکہ چیف جسٹس آف پاکستان نے خود کسی ساتھی جج کی ساکھ پر سوال اٹھایا ہے لیکن اس سے انکی اپنی ساکھ بھی متائثر ہوئی یے۔ سونے پر سہاگہ یہ کہ جسٹس فائز عیسی سے اس بارے میں کوئی وضاحت آنے سے پہلے ہی چیف جسٹس نے نہ صرف انہیں وزیر اعظم کے خلاف مقدمات کی سماعت سے روک دیا گیا بلکہ عدالتی روسٹر میں ترمیم کرتے ہوئے یہ فیصلہ بھی کر دیا کہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ آئندہ ہفتے کسی بینچ کا حصہ نہیں ہوں گے اور صرف چیمبر کا کام دیکھیں گے۔ تاہم اچھی بات یہ ہے کہ اس تنقید کے بعد چیف جسٹس نے اگلے ہی روز سپریم کورٹ کے روسٹر میں ترمیم کردی اور جسٹس فائز عیسیٰ کو چار مختلف بینچوں کا سربراہ بنا دیا۔

یاد رہے کہ وزیر اعظم عمران خان کے خلاف کیس سننے پر پابندی لگنے کے بعد جسٹس فائز عیسیٰ نے 12 فروری کو سپریم کورٹ کے رجسٹرار کو ایک خط لکھا اور یہ سوال کیا گیا کہ اس کیس کس فیصلہ میڈیا کو جاری کرنے سے قبل انہیں کیوں نہیں آگاہ کیا گیا تھا۔ انہوں نے اس پوری پیش رفت کو چونکا دینے والا قرار دیا تھا۔ جسٹس فائز عیسیٰ نے خط کی کاپیاں چیف جسٹس گلزار احمد اور سپریم کورٹ کے تمام ججز کو بھی بھیجیں۔ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے سپریم کورٹ کے رجسٹرار سے کہا کہ وہ انہیں کیس فائل فراہم کریں تاکہ وہ حکم / فیصلے کو پڑھ سکیں۔ خط میں انھوں نے لکھا ہے کہ وزیراعظم ترقیاتی فنڈز کیس کا حکم نامہ مجھے کیوں نہیں بھیجا گیا؟ کیوں اس فیصلے سے اتفاق یا اختلاف کا موقع فراہم نہیں کیا گیا؟ جسٹس فائز عیسیٰ نے لکھا کہ میں حیران ہوں ابھی تک مجھے آرڈر کی فائل موصول کیوں نہیں ہوئی حالانکہ طے شدہ اصول ہے کہ بینچ سربراہ نے فیصلہ لکھنے کے بعد دیگر ججز کو کاپی بھیجنا ہوتی ہے، بینچ کے جونیئر ممبر جسٹس اعجاز الاحسن کو کاپی فراہم کی گئی مگر مجھے نہیں۔ خط کے مطابق جسٹس فائز عیسیٰ نے رجسٹرار سے سوال پوچھا کہ ’برائے مہربانی بتایا جائے مجھے حکم نامہ کیوں نہیں بھیجا گیا؟ کیوں دیگر ججز کو فیصلے کی کاپی بھیجنے کے اصول پر عمل نہیں کیا گیا؟جسٹس عیسیٰ نے یہ بھی پوچھا کہ ’فیصلہ میڈیا کو جاری کرنے کا آرڈر کس نے دیا؟

دوسری جانب پاکستان بار کونسل کے علاوہ اب پشاور ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن نے بھی چیف جسٹس کی جانب سے فائز عیسی پر پابندی لگنے پر تشویش کا اظہار کیا ہے اور مطالبہ کیا ہے کہ اس پابندی کو فوری ختم کیا جائے۔ پشاور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر خالد انور آفریدی نے چیف جسٹس آف پاکستان اور سپریم کورٹ کے باقی ججز سے مطالبہ کیا کہ وہ عدلیہ کی آزادی کو برقرار رکھنے کی خاطر دوسرے ججز کی آواز کو روکنے کے عمل کو ختم کریں جو ان سے متفق نہیں ہوتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عدالتی کیس سے علیحدہ ہونے کا نظریہ یہ ہے کہ جج کو از خود تشخیص کرنا ہوتا ہے کہ آیا کسی خاص کیس کی سماعت کرنا اس کے لیے مناسب ہوگا یا نہیں۔ انہوں نے کہا کہ کوئی ساتھی جج دوسرے جج پر کسی بھی قسم کا کیس سننے کی پابندی عائد نہیں کر سکتا کیونکہ ہر جج کی عزت اور ساکھ ہے۔ لہذا چیف جسٹس کو عدلیہ کی ساکھ بحال کرنے کے لیے اپنا یہ فیصلہ واپس لینا چاہیے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button