پاکستان بمقابلہ جنوبی افریقہ: عمرگل کی یادگار یارکرز اور ریورس سوئنگ

مارچ 2013 میں پاکستانی کرکٹ ٹیم جنوبی افریقہ کے خلاف سنچورین میں دوسرے ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل میں مدمقابل تھی۔ پاکستانی ٹیم کے195 رنز سات کھلاڑی آؤٹ کے جواب میں جب جنوبی افریقہ کی بیٹنگ آئی تو سپر اسپورٹس پارک میں موجود شائقین نے یارکر اور ریورس سوئنگ کا خوبصورت نظارہ دیکھا جس نے میزبان ٹیم کو صرف 100 رنز پر ڈھیر کر دیا جو اس وقت تک ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل کا سب سے کم اسکور تھا۔ یہی نہیں جنوبی افریقہ نے 95 رنز سے ہار کر اپنی سب سے بڑی شکست کا پرانا ریکارڈ بھی برابر کر دیا تھا۔ جنوبی افریقی ٹیم کو اس حال تک پہنچانے والے فاسٹ بولر عمرگل تھے جنہوں نے صرف چودہ گیندوں پر محض چھ رنز دے کر پانچ وکٹیں حاصل کی تھیں۔ عمرگل کہتے ہیں کہ سیریز کا پہلا میچ بارش کی وجہ سے نہ ہو سکا تھا لہٰذا ہم ہر حال میں دوسرا میچ جیتنا چاہتے تھےاور یہ جیت اس لیے بھی اہم تھی کہ پاکستانی ٹیم ٹی ٹوئنٹی کی عالمی رینکنگ میں چھٹے سے تیسرے نمبر پر آ گئی تھی۔ مجھے یاد ہے میں نے اپنے پہلے ہی اوور میں فاف ڈپلوسیسی، کرس مورس اور اونٹونگ کی وکٹیں حاصل کی تھیں اور پھر اگلے اوور کی پہلی ہی گیند پر فرحان بہاردین کو آؤٹ کیا تھا۔اس موقع پر کپتان نے مجھ سے کہا کہ آپ تھوڑا آرام کر لو۔ میں جب دوبارہ بولنگ کےلیے آیا تو جنوبی افریقہ کی آخری وکٹ باقی بچی تھی جسے میں نے آؤٹ کر دیا۔ کائل ایبٹ کو آؤٹ کرکے میں ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل کرکٹ میں سب سے زیادہ وکٹیں لینے والا بولر بھی بنا تھا۔
یاد رہے کہ یہ عمرگل کے ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل کریئر میں دوسرا موقع تھا جب انہوں نے میچ میں پانچ وکٹیں حاصل کی تھیں اس سے قبل سنہ 2009 کے ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں نیوزی لینڈ کے خلاف میچ میں بھی انہوں نے چھ رنز دے کر پانچ وکٹیں حاصل کی تھیں اور وہ ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل میچ میں پانچ وکٹیں لینے والے پہلے بولر بنے تھے۔ عمرگل کہتے ہیں کہ جنوبی افریقہ کے خلاف ان کی کارکردگی اپنی جگہ اہم لیکن نیوزی لینڈ کے خلاف پرفارمنس کو وہ ذاتی طور پر زیادہ پسند کرتے ہیں۔ نیوزی لینڈ کے خلاف کارکردگی کو زیادہ اہمیت دینے کی وجہ یہ ہے کہ وہ ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ تھا اور میں ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل کی تاریخ میں پہلا بولر بنا تھا جس نے میچ میں پانچ آؤٹ کیے تھے تو اس کی خوشی زیادہ تھی کہ آپ کی کوئی ایسی پرفارمنس ہو جو ہمیشہ ہمیشہ یاد رکھی جائے۔ عمرگل اس میچ کے بارے میں بتاتے ہیں کہ میں اس میچ میں چھٹے بولر کے طور پر بولنگ کےلیے آیا تھا اور دو بار میں نے لگاتار گیندوں پر وکٹیں حاصل کیں لیکن دونوں بار ہیٹ ٹرک نہ ہو سکی۔ عمرگل 2012 کے ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں جنوبی افریقہ کے خلاف اس میچ کو کبھی نہیں بھولتے جس میں انہوں نے اپنی بیٹنگ سے پاکستان کو دو وکٹوں کی ڈرامائی جیت سے ہمکنار کیا تھا۔ اس میچ میں میں نے اے بی ڈی ویلیئرز کو آؤٹ کیا تھا۔ ہمیں جیتنے کےلیے 134 رنز بنانے تھے لیکن 76 کے اسکور پر سات وکٹیں گرگئی تھیں۔ ڈگ آؤٹ میں ہر کوئی مایوس تھا اور یہی سوچ رہا تھا کہ ہم یہ میچ ہارگئے ہیں۔ میں جب کھیلنے گیا تو عمر اکمل کریز پر تھے۔ مجھے ان پر اعتماد تھا کہ وہ کچھ کر سکتے ہیں۔ انہوں نے مجھ سے کہا کہ آپ جتنا ممکن ہو سکے کریز پر ٹھہریں لیکن چونکہ میں نیٹ پریکٹس میں بیٹنگ بڑے شوق سے کرتا تھا لہٰذا میرے اندر کا بیٹسمین جاگ اٹھا اور میرے شاٹس لگنے لگے۔ یہ دیکھ کر عمر اکمل نے مجھ سے کہا کہ اب آپ اٹیک کریں اور میں آخر وقت تک آپ کا ساتھ دینے کی کوشش کرتا ہوں۔ میں نے32 رنز کی اننگز کھیلی تھی جس میں تین چھکے اور دو چوکے شامل تھے اور اس اننگز نے مجھے مین آف دی میچ بھی بنوایا تھا۔ عمرگل کی فاسٹ بولنگ میں یارکر اور ریورس سوئنگ ان کے سب سے مہلک وار تھے۔ عمرگل کہتے ہیں کہ انڈین فاسٹ بولر عرفان پٹھان کو دیکھ کر انہوں نے ریورس سوئنگ سیکھی۔ میں آسٹریلیا اور بھارت کا میچ دیکھ رہا تھا جس میں عرفان پٹھان نے ریورس سوئنگ پر میتھیو ہیڈن کو بولڈ کیا تھا۔ اس وقت وسیم اکرم کمنٹری کر رہے تھے اور ان دنوں انہوں نے عرفان پٹھان کی بولنگ پر کام بھی کیا تھا۔ میں نے عرفان پٹھان کے اس بولڈ کی وڈیو بار بار دیکھی۔ میں نے اس پر بہت محنت کی جس سے مجھے پتہ چلا کہ ریورس سوئنگ کیسے کی جاتی ہے اور جب ہم 2007 میں ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کےلیے جنوبی افریقہ جا رہے تھے تو میں نے یارکر پر بہت زیادہ توجہ دی۔ کیوں کہ ٹی ٹوئنٹی ایک تیز فارمیٹ ہے اور اس میں جب تک آپ کی بولنگ میں کوئی مؤثر اور خطرناک گیند نہیں ہوگی تو آپ کا بچنا مشکل ہے۔ جس طرح بیٹسمین کو اپنے کسی ایک شاٹ پر مکمل اعتماد ہوتا ہے مجھے ہمیشہ اپنی یارکر گیند پر بھروسہ رہتا تھا۔ پاکستانی کرکٹ ٹیم کے ہیڈ کوچ مصباح الحق کو اپنی کپتانی کے دنوں میں عمرگل کی یارکر، باؤنسرز اور ریورس سوئنگ یاد ہیں جن کے ذریعے وہ حریف بیٹسمینوں کو سنبھلنے نہیں دیتے تھے۔
مصباح الحق کہتے ہیں کہ عمرگل ایک ایسے بولر تھے جن میں اوور کی چھ کی چھ گیندیں صحیح جگہ پر یارکر کرانے کی غیر معمولی صلاحیت موجود تھی آج کے دور میں یہ صلاحیت انڈین بولر بمراہ میں ہے۔ اُس دور میں شاہد آفریدی اور سعید اجمل درمیان کے اوورز کراتے تھے اور عمرگل اننگز میں سولہواں، اٹھارہواں اور بیسواں اوور کرا کر صورت حال بدل دیتے تھے۔ مجھے یاد نہیں کہ ان کی یارکر صحیح نشانے پر نہ گئے ہوں اور اس پر ہٹ لگی ہو۔ ان کے پاس ریورس سوئنگ تھی اور وہ باؤنسر کا بہت اچھا استعمال کرتے تھے۔ مصباح الحق کہتے ہیں عمرگل نے ایک پُرجوش بولر کی حیثیت سے کرکٹ کھیلی اور اپنی انفرادی کارکردگی سے میچ جتوائے ہیں۔اس دور میں پاکستانی ٹیم کی ٹی ٹوئنٹی کی فتوحات میں عمرگل کا کردار نمایاں تھا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button