پاکستان بمقابلہ جنوبی افریقہ: کیا بابر اعظم بھی مصباح کی تاریخ دہرا سکیں گے؟

نسلی امتیاز کے خاتمے کے بعد سے جب جنوبی افریقہ کی ٹیم انٹرنیشنل کرکٹ میں واپس آئی ہے، تب سے ہی پاکستان کےلیے سخت ترین حریف ثابت ہوئی ہے۔
اس قدر کہ 29 سال میں صرف ایک بار ایسا ہوا کہ پاکستان جنوبی افریقہ میں کوئی سیریز جیتنے میں کامیاب ہوا۔ وہ بھی کوئی ٹیسٹ سیریز نہیں تھی بلکہ تین میچز کی ون ڈے سیریز تھی جو پاکستان مصباح الحق کی قیادت میں 2-1 سے جیتا۔ جنوبی افریقی سرزمین پہ کوئی ٹیسٹ سیریز جیتنا ابھی تک پاکستان کےلیے خواب ہی ہے۔ حتیٰ کہ اپنی ہوم کنڈیشنز میں بھی پاکستان صرف ایک بار جنوبی افریقہ کو زیر کر پایا اور وہ بھی کوئی اٹھارہ سال پہلے جب دو ٹیسٹ میچز کی سیریز میں اسے ایک صفر سے کامیابی حاصل ہوئی تھی۔ جنوبی افریقہ کے خلاف تاریخی طور پہ پاکستان کی مشکلات کا اندازہ اس امر سے بھی کیا جا سکتا ہے کہ جب 2010 میں ہوم کرکٹ کے خاتمے کے بعد مصباح کی قیادت میں پاکستان نے عرب امارات کو اپنا ‘فورٹریس’ بنایا تو انگلینڈ، آسٹریلیا تک کو کلین سویپ کر چھوڑا مگر جنوبی افریقہ کے ساتھ معاملات کبھی بھی ڈرا سے آگے نہ بڑھ سکے۔ اس میں دو رائے نہیں کہ کوئنٹن ڈی کوک کی یہ ٹیم شاید جنوبی افریقی تاریخ کی کمزور ترین ٹیسٹ ٹیم تھی مگر یہ امر بھی ملحوظِ خاطر رکھنا چاہیے کہ بابر اعظم کی قیادت میں کھیلتی یہ پاکستانی ٹیم بھی بہت تجربہ کار نہیں ہے۔ لیکن پھر بھی جنوبی افریقہ جیسی ایلیٹ ٹیم کو کلین سویپ کرکے عالمی درجہ بندی میں پانچویں نمبر پہ آ گئی اور یہ 2017 کے بعد اب تک پاکستان کی بہترین رینکنگ ہے۔ گو اس معمولی بہتری سے ٹیسٹ چیمپئین شپ کے فائنل تک رسائی ناممکن ہے مگر یہ پاکستانی ٹیسٹ کرکٹ کی نشاۃِ ثانیہ کا نقطۂ آغاز ضرور ثابت ہو سکتی ہے۔مصباح الحق نے بجا طور پہ اس جیت کو ‘تازہ ہوا کا جھونکا’ قرار دیا۔ انگلینڈ اور نیوزی لینڈ کے دوروں کے بعد جس طرح کا دباؤ ڈریسنگ روم پہ تھا، اس میں یہ واضح برتری بلاشبہ تازہ ہوا کا جھونکا ہی ہے۔ پاکستان کےلیے یہ جیت بہت خاص یوں ہے کہ ہوم کنڈیشنز میں پاکستان سے توقع یہی تھی کہ وہ سست رفتار اسپن وکٹوں پہ یاسر شاہ کی مہربانی سے سیریز جیتے گا۔ اور ایسا ہونا بعید بھی نہیں تھا مگر ایسی جیت شاید تازہ ہوا کا جھونکا ثابت نہ ہو پاتی۔ کیوں کہ عرب امارات کے سات ناقابلِ تسخیر سالوں میں بھی پاکستانی فتوحات میں بنیادی کردار سعید اجمل، ذوالفقار بابر، عبدالرحمان اور یاسر شاہ جیسے اسپنرز ادا کرتے رہے۔ فاسٹ بولرز کا ان فتوحات میں حصہ کم کم ہی رہا اور اسی وجہ سے ڈومیسٹک سرکٹ میں بھی ‘طلب و رسد’ کے اصول کے تحت فاسٹ بولنگ ٹیلنٹ جھڑنے لگا۔ یہاں تک کئی مبصرین طنزاً کہا کرتے کہ ایسی فتوحات کا کیا فائدہ جہاں بدوؤں کے خالی میدانوں میں مردہ وکٹوں پہ اسپنرز کے ذریعے ٹیمیں پھنسا لی جائیں اور نوجوان کھلاڑی فاسٹ بولر بننے کے خواب دیکھنا ہی چھوڑ دیں۔ اس سیریز کے پہلے میچ میں بھی پاکستان کی فتح اسپنرز کی ہی مرہونِ منت رہی اور توقع یہی تھی کہ راولپنڈی ٹیسٹ میں بھی وکٹ کو جس قدر خشک کر ڈالا گیا تھا، سپنرز ہی بساط پلٹیں گے مگر ایسا نہ ہوا۔کوئی بھی میزبان ٹیم کبھی اپنا ہوم ایڈاوانٹیج اٹھا کر کسی کی جھولی میں نہیں ڈال دیتی۔ پاکستان کی بھی کوشش یہی تھی کہ راولپنڈی کی تیز وکٹ کہیں مہمان پیسرز کے حق میں نہ جھک جائے، اسی لیے میچ سے دو روز پہلے وکٹ کو خوب دھوپ لگوا کر خشک کرنے کی کوشش کی گئی۔ لیکن تیسرے دن شام کے سیشن کے سوا یہ وکٹ کبھی بھی اسپنرز کی جنت ثابت نہ ہوئی۔ پہلی اننگز میں نورکیہ اور حسن علی نے اپنی دھاک بٹھائی تو دوسری اننگز میں بھی حسن علی کے ہمراہ شاہین آفریدی میلہ لوٹ لیے۔پاکستان کےلیے فاسٹ بولرز کی ایسی فارم نہایت حوصلہ افزا ہے۔ آنے والے چند مہینوں میں اسے انگلینڈ، آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ جیسی ٹیموں کی میزبانی کرنا ہے، فاسٹ بولنگ کے یہ ذخائر ان سیریز میں فیصلہ کن ثابت ہو سکتے ہیں۔ ثانیاً اگر یہ ٹیم اپنا یہی وننگ کمبی نیشن برقرار رکھ پائی تو ٹیسٹ چیمپئن شپ کے اگلے سائیکل میں یہ ہوبہو وہی کر سکتی ہے جو اس سائیکل میں اس نیوزی لینڈ ٹیم نے خلافِ توقع فائنل میں پہنچ کر کیا جو کسی مبصر، شائق یا پنڈت کے تخمینوں اندازوں میں موجود تک نہ تھی۔ پاکستان کی ٹیسٹ کرکٹ تاریخ کا بلند ترین لمحہ وہ تھا جب قذافی اسٹیڈیم لاہور میں آئی سی سی نے ٹیسٹ چیمپئن شپ کا میس مصباح الحق کے حوالے کیا تھا۔ اس وقت موجودہ ٹیسٹ ٹیم بھی ڈیڑھ سال کے تجربات سے گزر کر ایسے سانچے میں ڈھل چکی ہے جس کے پاس زبردست اٹیک بولرز، مستحکم مڈل آرڈر، بہترین وکٹ کیپر بلے باز اور فہیم اشرف کی شکل میں ایک بہترین فاسٹ بولنگ آل راؤنڈر بھی موجود ہے۔ یہ کہنا بہت قبل از وقت ہے لیکن اگر سمت درست رہی تو شاید بابر بھی مصباح کی تاریخ دہرا سکیں گے۔ فی الوقت مصباح الحق اور بابر اعظم تازہ ہواؤں کے جھونکوں سے بخوبی لطف اٹھا سکتے ہیں۔ کیونکہ اب کوئی تجزیہ کار اس طنز کے نشتر تو نہیں برسا سکتا کہ بدوؤں کے خالی میدانوں میں سپنرز کے بل پہ کسی ورلڈ کلاس ٹیم کو ڈھیر کر لیا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button