پاکستان بھر میں کورونا سے بچاؤ کی ویکسین لگانے کے عمل کا آغاز

پاکستان بھر میں کورونا وائرس کی ویکسین لگانے کے عمل کا باقاعدہ آغاز ہوگیا، جہاں پہلے مرحلے میں کووڈ 19 کے دوران فرائض کی انجام دہی میں مصروف فرنٹ لائن ہیلتھ ورکرز کو یہ ویکسین لگائی جائے گی۔
اس سلسلے میں این سی او سی میں منعقدہ ایک خصوصی تقریب میں وفاقی وزیر ترقی و منصوبہ بندی اور نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر (این سی او سی) کے سربراہ اسد عمر نے قومی مہم کا آغاز کیا۔جہاں تمام صوبوں کے وزرائے اعلیٰ، گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کے وزیراعظم نے بذریعہ ویڈیو لنک تقریب میں شرکت کی، اس موقع پر تمام صوبوں میں بھی متعلقہ مقامات پر ویکسین لگانے کا عمل شروع کیا گیا۔اس موقع پر وفاقی وزیر اسد عمر نے کہا کہ میں تمام وزرائے اعلیٰ اور آزاد کشمیر کے وزیراعظم کا شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں اور یہ تقریب اس کا مظہر ہے کہ ملک پر جب مشکل وقت آتا ہے تو تمام پاکستانی ملک کر کام کرتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ تمام صوبوں، آزاد کشمیر، گلگت بلتستان اور وفاق نے اسلام آباد سے مل کر کام کیا ہے اور تقریباً ایک سال ہوگیا ہے اور ہم نے مشکل حالات اور خطرات پر قابو پانے میں سوچ سے بہتر نتائج آئے۔ اسد عمر کا کہنا تھا کہ آج کی تقریب کےلیے چینی حکومت اور چینی لوگوں کا شکریہ جنہوں نے ویکسین کے اس عمل کو ممکن بنایا، ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ ویکسین کے حصول میں وزارت صحت کا ایک خصوصی کردار رہا ہے اور میں سابق معاون خصوصی صحت ظفر مرزا کا بھی شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں۔ دوران گفتگو انہوں نے عثمان بزدار، مراد علی شاہ، محمود خان، جام کمال، وزیراعظم آزاد کشمیر فاروق حیدر، وزیراعلیٰ گلگت بلتستان خالد کی قیادت اور جدوجہد سے پاکستانی بھرپور فائدہ اٹھائیں گے۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ کورونا کے خلاف کام کرنے والوں میں ہمارے اصل ہیروز فرنٹ لائن ہیلتھ ورکرز ہیں، یہ لوگ ہماری قومی و سایسی قیادت سے زیادہ اہمیت ہے اور انہیں کے ساتھ آج پاکستان بھر میں ویکسینیشن کا آغاز ہورہا ہے۔ این سی او سی میں باقاعدہ کورونا مہم کے آغاز کے ساتھ ہی سندھ میں بھی اس مہم کو شروع کردیا گیا اور اس سلسلے میں ایک تقریب بھی منعقد کی گئی۔ تقریب میں وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ، وزیر صحت سندھ ڈاکٹر عذرا فضل پیچوہو اور دیگر افراد نے شرکت کی۔ ویکسنیشن کے آغاز کے موقع صوبائی وزیر صحت کا کہنا تھا کہ ہمارے پاس فرنٹ لائن ورکرز کے لیے 83 ہزار خوراکیں آئی ہیں اور آج سے یہ مہم شروع کر رہے ہیں جبکہ کراچی کے تمام اضلاع سمیت جامشورو اور بینظیر آباد میں بھی سینٹر کھولے گئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ہماری کوشش ہے کہ رواں ماہ کے آخر یا مار چ کے اوائل تک تمام ورکرز کو ویکسین فراہم کردی جائے جس کے بعد 60 سال سے بڑے بزرگوں کو دوسرے مرحلے میں ویکسین فراہم کی جائے گی۔ڈاکٹر عذرا فضل پیچوہو کا کہنا تھا کہ اس کے بعد دیگر جوان لوگوں کو ویکسین فراہم کی جائے گی تاہم میری گزارش ہے کہ جب تک 80 سے 90 فیصد لوگوں کو ویکسین نہیں لگ جاتی آپ ماسک نہیں اتاریے گا۔ بات کو آگے بڑھاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میں تمام لوگوں سے درخواست کرتی ہوں کہ وہ ویکسین لگائیں کیونکہ یہ ایک قومی فریضہ ہے۔ علاوہ ازیں وزیراعلیٰ مراد علی شاہ نے خطاب میں کہا کہ آج ایک تاریخی دن ہے، میں اپنے چینی حکومت اور چینی بھائیوں کا بہت شکرگزار ہوں جنہوں نے ایک مرتبہ پھر مشکل وقت میں پاکستان کا ساتھ دیا۔
خیال رہے کہ ملک بھر میں کورونا وائرس کو تقریباً ایک سال کا عرصہ گزرنے اور اس دوران 5 لاکھ سے زائد کیسز اور ساڑھے 11 ہزار سے زائد اموات کے بعد حکومت نے فرنٹ لائن ورکرز کو ویکسین لگانے کا عمل گزشتہ روز شروع کردیا تھا تاہم ملک بھر میں مہم کا باقاعدہ آغاز آج سے کیا گیا۔گزشتہ روز وزیراعظم عمران خان کی موجودگی میں پہلے ہیلتھ کیئر ورکر کو کورونا وائرس کی ویکسین لگائی گئی تھی۔
واضح رہے کہ پیر کو کورونا وائرس کی چینی ویکسین کی پہلی کھیپ چین سے نور خان ایئربیس اسلام آباد پہنچی تھی۔بعد ازاں وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے چینی سفیر نانک رانگ سے سائنو فارم کی ویکسین کی 5 لاکھ خوراکوں کی کھیپ وصول کی تھی۔ملک بھر میں ویکسینیشن کےلیے آڈلٹ ویکسینیشن مراکز قائم کیے جا چکے ہیں اور ویکسینیشن کا تمام تر عمل ڈیجیٹل میکانزم سے کنٹرول کیا جائے گا۔این سی او سی پوری ویکسینیشن مہم کے دوران نرو سینٹر کے طور پر کام کرے گا اور ویکسینیشن کےلیے صوبے، اضلاع اور تحصیل کی سطح پر بھی کور سینٹرز قائم کئے گئے ہیں۔
پہلا مرحلہ: تمام شہری بمعہ فرنٹ لائن ہیلتھ کیئر ورکرز ایس ایم ایس کے ذریعے ’1166‘ پر اپنا قومی شناختی کارڈ نمبر بھیجیں گے یا رجسٹریشن کےلیے نیشنل امیونائزیشن منیجمنٹ سسٹم کی ویب سائٹ کا استعمال کریں گے۔
دوسرا مرحلہ: تصدیق کے بعد موجودہ پتے کی بنیاد پر نامزد آڈلٹ ویکسین سینٹر اور پن کوڈ شہریوں کو بذریعہ ایس ایم ایس بھیجا جائے گا۔
تیسرا مرحلہ: اگر نامزد اے وی سی شہریوں کی موجودہ تحصیل سے باہر ہے تو شہری ایس ایم ایس موصول ہونے کے 5 دن کے اندر این آئی ایم ایس کی ویب پورٹل یا 1166 ہیلپ لائن پر کال کرکے اپنا اے وی سی تبدیل کرسکتا ہے۔
چوتھا مرحلہ: مقررہ ویکسین سینٹر پر ویکسین کی دستیابی پر اپائنمنٹ کی تاریخ سے قبل شہریوں کو ایس ایم ایس بھیجا جائے گا۔
پانچواں مرحلہ: کامیاب رجسٹریشن کے بعد شہری اپنا شناختی کارڈ اور موصول شدہ پن کوڈ (لازمی) کے ساتھ مقررہ تاریخ اور وقت پر اے وی سی آئیں گے۔
چھٹا مرحلہ: اے وی سی میں ویکسین اسٹاف شناختی کارڈ اور پن کوڈ کی تصدیق کرے گا۔
ساتواں مرحلہ: تصدیق کے بعد شہریوں کو ویکسین لگائی جائے گی اور انتظامیہ این آئی ایم ایس میں تفصیلات کا اندراج کرے گی اور شہری کو ایس ایم ایس کے ذریعے تصدیقی پیغام بھیجا جائے گا، مزید یہ ویکسین کے بعد 30 منٹ تک شہری کو نگرانی کےلیے وہاں موجود رہنا ہوگا۔
آٹھواں مرحلہ: اس طریقہ کار سے وفاقی، صوبائی اور ضلعی محکمہ صحت کےلیے ریئل ٹائم ڈیش بوڈ خود کار طریقے سے تیار ہوگا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button