پاکستان سمیت دنیا بھرمیں ماؤں کا عالمی دن

دنیا کے دیگرملکوں کی طرح پاکستان میں بھی ماؤں کا عالمی دن منایا جارہا ہے۔ ہرسال مئی کے دوسرے اتوار کو ماؤں کے دن کے طور پر منایا جاتا ہے۔ یہ دن ماؤں کے نام ہوتا ہے۔ ماں وہ ذات ہوتی ہے جو نسل انسانی کو ناصرف آگے بڑھاتی ہے بلکہ اس کی گود ہی انسانی کی پہلی تعلیمی درس گاہ ہوتی ہے۔
پاکستان سمیت دنیا کے درجنوں ممالک میں ہر سال مئی کے دوسرے ہفتے ماؤں کا عالمی دن منایا جاتا ہے اور اس بار یہ 10 مئی کو منایا جا رہا ہے۔مدرز ڈے کا کوئی ایک دن یا تاریخ مقرر نہیں ہے، درجنوں ممالک اس دن کو دوسرے مہینوں میں بھی مناتے ہیں، یہ دن جنوری، فروری اپریل اور مئی سمیت کچھ ممالک میں دسمبر میں بھی منایا جاتا ہے تاہم زیادہ ممالک میں اس دن کو مئی کے دوسرے اتوار کو منایا جاتا ہے۔
اس دن کو کسی عالمی ادارے کے تحت نہیں منایا جاتا بلکہ تمام ممالک کی حکومتوں نے اس دن کو منانے کا اعلان کیا جب کہ عالمی فلاحی تنظیموں سمیت تمام ممالک کی مقامی مذہبی و فلاحی تنظیموں نے بھی اس دن کو منانے کی حمایت کی۔عالمی طور پر منائے جانے والے دنوں میں سے یہ واحد دن ہے جو سال کے 12 میں سے تقریبا 8 مہینوں میں مختلف دنوں میں دنیا کے مختلف ممالک اور خطوں میں منایا جاتا ہے، عام طور پر کسی بھی عالمی دن کو دنیا بھر میں ایک ہی دن منایا جاتا ہے۔مدرز ڈے یعنی ماؤں کے دن منانے کا آغاز 106 سال قبل امریکی خاتون اینا ہاروس کی کوششوں سے ہوا، وہ چاہتی تھیں کہ والدہ کو خراج تحسین پیش کرنے کے لیے اس دن کو ایک مقدس دن کے طور پر سمجھا اور منایا جائے۔اینا ہاروس کی کوششوں کے نتیجے میں 8 مئی 1914 کو امریکا کے اس وقت کے صدر ووڈرو ولسن نے مئی کے دوسرے اتوار کو سرکاری طورپر ماؤں کا دن قرار دیا اور پھر گزرتے وقت کے ساتھ دیگر ممالک نے بھی ماؤں کو خراج تحسین پیش کرنے کے لیے اس دن کو منانے کا اعلان کیا۔
مدرز ڈے کے موقع پر دنیا بھر میں اہم شخصیات اپنی ماؤں سے محبت کا اظہار کرتے ہوئے ان کے ساتھ سوشل میڈیا پر تصاویر شیئر کرتے ہیں جب کہ کئی شخصیات انہیں خراج تحسین پیش کرنے کے لیے ان کی قربانیوں کا اعتراف بھی کرتے ہیں۔اس سال ایک ایسے موقع پر پاکستان سمیت کئی ممالک میں مدرز ڈے منایا جا رہا ہے جب کہ دنیا بھر کی مائیں ایک بار پھر کورونا وائرس کی وبا کے باعث اپنے بچوں کی حفاظت کے لیے فکرمند و کوشاں ہیں۔وبا کے ان دنوں میں دنیا بھر میں ماؤں کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے ان کے بچے ان کی خدمات اور قربانیوں کا اعتراف کر رہے ہیں۔
سماجی روابط کی ویب سائٹس پر اس دن کی مناسبت سے ماں تجھے سلام کا ہیش ٹیگ ٹاپ ٹرینڈ کررہا ہے جبکہ مدرز ڈے اور ہیپی مدر ڈے کے ہیش ٹیگز بھی ٹرینڈ کررہے ہیں۔دنیا بھر کے اکثر ممالک کی طرح پاکستان میں سیاسی، سماجی، شوبز، کھیل سے وابستہ شخصیات نے ’ مدرز ڈے ‘ کے موقع پر اپنی والدہ کو خراج تحسین پیش کیا۔سوشل میڈیا پر زیادہ تر افراد نے ماؤں کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے لکھا کہ یہ مائیں ہی ہیں جنہوں نے دنیا میں آنے والی آفتوں اور بیماریوں کا ڈٹ کر مقابلہ کیا تاکہ ان کے بچے محفوظ اور صحت مند رہیں۔
ماؤں کے عالمی دن کے موقع پر کرکٹر بابر اعظم نے اپنی والدہ کے ساتھ تصویر شیئر کرتے ہوئے ان کی قربانیوں کا ذکر کیا اور بتایا کہ انہوں نے جب زندگی میں پہلی بار بلا خریدا تو وہ انہوں نے اپنی والدہ کے دیے ہوئے پیسوں سے خریدا۔انہوں نے بتایا کہ والدہ نے انہیں اپنی بچت میں سے 1500 روپے دیے تاکہ وہ اپنا بلا خرید کر سکیں۔


معروف اداکارہ و میزبان ثمینہ پیرزادہ نے بھی مدرز ڈے کے موقع پر اپنی والدہ کو خراج تحسین پیش کیا اور ساتھ ہی انہوں نے ماؤں کو معجزاتی ورکر بھی قرار دیا۔


اداکارہ عائزہ خان نے بھی مدرز ڈے کے موقع پر انسٹاگرام پوسٹ میں اپنی بیٹی کے ساتھ تصاویر شیئر کیں اور جہاں انہوں نے اپنی والدہ سے محبت کا اظہار کیا، وہیں انہوں نے خود والدہ ہونے پر بھی شکرانے ادا کیے۔
https://www.instagram.com/p/B__rQXAA904/?utm_source=ig_embed
اداکارہ ایمن خان نے بھی مدرز ڈے کے موقع پر اپنی والدہ اور بہن کے ساتھ تصویر شیئر کی اور والدہ سے محبت کا اظہار کیا۔


سابق کرکٹر وسیم اکرم کی اہلیہ شنیرا اکرم نے بھی مدرز ڈے کے موقع پر اپنی والدہ کے ساتھ تصویر شیئر کرتے ہوئے انہیں خراج تحسین پیش کیا۔


گلوکارہ و اداکارہ میشا شفیع نے بھی مدرز ڈے پر اپنی والدہ سے محبت کا اظہار کیا اور ان کی ایک ویڈیو شیئر کی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button