پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل کی بحالی کا فیصلہ چیلنج

وفاقی حکومت نے پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل (پی ایم ڈی سی) اور اس کے ملازمین کی بحالی کے سنگل رکنی بینچ کے دیے گئے فیصلےکے خلاف اسلام آباد ہائی کورٹ میں انٹرا کورٹ اپیل کے ذریعے چیلنج کردیا۔
تاہم اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ کی سربراہی میں 2 رکنی بینچ نے عدالت عالیہ کی سنگل رکنی بینچ کے فیصلے کے خلاف کوئی حکم امتناع جاری نہیں کیا لیکن پی ایم ڈی سی کے ملازمین اور دیگر فریقن سے جواب طلب کرلیا۔
دوران سماعت جسٹس اطہرمن اللہ نے درخواست گزار سے پوچھا کہ وہ دیے گئے فیصلے میں ان خرابیوں کے بارے میں بتائے جو اس اپیل کو دائر کرنے کی وجہ بنی، ساتھ ہی عدالت نے مذکورہ درخواست کو صدارتی آرڈیننس جاری کرنے سے متعلق دیگر معاملات کے ساتھ جوڑ دیا۔ جس کے بعد مذکورہ کیس کی سماعت 12 مارچ تک ملتوی کردی گئی۔
یاد رہے کہ 11 فروری کو اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس محسن اختر کیانی نے پی ایم ڈی سی کو منسوخ کرنے والے صدارتی آرڈیننس کو دائرہ اختیار سے باہر قرار دیا تھا اور وفاقی حکومت کو ہدایت کی تھی کہ وہ کونسل کے ملازمین کو بحال کرے، ساتھ ہی پی ایم سی کا قیام غیر قانونی قرار دیا تھا۔
خیال رہے کہ پی ایم ڈی سی کے ملازمین نے دعویٰ کیا تھا کہ پارلیمنٹ کا ایکٹ حکومت کو پی ایم ڈی سی تحلیل کرنے کا اختیار دیتا ہے لیکن اس نئے انتخابات جو ایک سال کے اندر ہونے ہیں، اس کے بعد ہونے والی نئی تعیناتیوں تک کونسل کے صدر، نائب صدر اور ایگزیکٹو کمیٹی برقرار رہے گی۔
درخواست میں کہا گیا کہ وفاقی حکومت کو انتظامی کمیٹی کے سربراہ کےلیے ایڈمنسٹریٹر کے طور پر ایک افسر مقرر کرنے کا اختیار دیا گیا تھا اور اس کا گریڈ 20 سے کم نہیں ہوتا۔
ساتھ ہی یہ بھی کہا گیا کہ ایڈمنسٹریٹر اور ایگزیکٹو کمیٹی نئے کونسل کے قیام تک اختیارات کا استعمال کرے گی۔ مذکورہ درخواست کے مطابق 2018 میں سپریم کورٹ نے آرڈیننس کے اجراء کےلیے معیار مقرر کیا تھا جس کی مذکورہ کیس میں بھی پیروی کی گئی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button