پاکستان میں ابھی تک کرونا وائرس کے مریض کم کیوں ہیں؟

جنوبی ایشیائی ممالک خصوصا پاکستان اور بھارت میں کرونا وائرس کے نسبتا تھوڑے مریض سامنے آنے کی بنیادی وجہ یہ نہیں کہ اس وائرس نے خطے کے لوگوں کو کم متاثر کیا ہے۔ کڑوا سچ یہ ہے کہ ان ممالک میں کرونا کی ٹیسٹنگ کٹس کی کمی کے باعث مشتبہ افراد کے تشخیصی ٹیسٹ انتہائی محدود تعداد میں کیے گئے ہیں لہذا مثبت رزلٹ آنے والوں کی تعداد بھی نہایت تھوڑی ہے۔ اصل حقیقت بہت خوفناک ہوسکتی ہے۔ ایسا بھی ہوسکتا ہے کہ جب ان ممالک کے لوگوں کو کرونا ٹیسٹ والی کی سہولت دستیاب ہو جائے اور لاکھوں افراد کے کرونا ٹیسٹ ہو جایئں تو ہزاروں کے رزلٹ مثبت بھی نکل آیئں۔ لیکن سچ جاننے کے لیے کرونا ٹیسٹنگ کٹس کا ہونا ضروری ہے۔
دنیا بھر میں مہلک کرونا وائرس کی وبا پھوٹنے کے بعد جنوبی ایشیائی ممالک میں اس وبا سے متاثر ہونے والوں کی قلیل مقدار کو دیکھتے ہوئے یہ خیال ظاہر کیا جا رہا تھا کہ شاید یہاں کی آب و ہوا یا لوگوں کی قوت مدافعت کی وجہ سے کیسز کم ہیں۔ تاہم ایک تازہ ریسرچ سے یہ پتا چلا ہے کہ جنوبی ایشیائی ممالک کے پاس کورونا کی ٹیسٹنگ کٹس کی کمی کی وجہ سے انتہائی محدود تشخیصی ٹیسٹ کیے گئے اس لیے یہاں کرونا سے متاثرہ افراد کی تعداد خطے کے دیگر ممالک کے مقابلے میں کم ہے۔ تاہم ماہرین کے مطابق کم تعداد میں کرونا کے تشخیصی ٹیسٹ کی سہولت ہونے کی وجہ سے جنوبی ایشیائی ممالک میں یہ وباء زیادہ مہلک ثابت ہوسکتی ہے۔ یاد رہے کہ وزیراعظم عمران خان بھی اپنے نشری خطاب میں کہہ چکے ہیں کہ ہر بخار کرونا وائرس کی وجہ سے نہیں ہوتا۔ لہذا میں لوگوں سے اپیل کروں گا کہ وہ منہ اٹھاکر کرونا ٹیسٹ کروانے کے لیے ہسپتالوں میں نہ پہنچ جائیں کیونکہ ہمارے پاس بڑی محدود تعداد میں ٹیسٹنگ کیٹس موجود ہیں۔
یاد رہے کہ بنگلہ دیش میں کرونا وائرس سے متاثر ہونے والے مریضوں کی کل تعداد اس وقت اڑتالیس ہے۔ افغانستان میں کرونا کے 114 کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔ ویتنام میں 179، سری لنکا 115 جبکہ بھوٹان میں کرونا کے مریضوں کی تعداد محض تین ہے۔ جنوبی ایشیائی ممالک میں آبادی کے اعتبار سے دو بڑے ممالک پاکستان اور بھارت کرونا کے مریضوں کے حوالے سے سرفہرست ہیں۔ پاکستان میں کرونا وائرس سے متاثرہ مریضوں کی تعداد 1526 جبکہ بھارت میں کل 980 مریض رپورٹ ہوئے ہیں حالانکہ اس کی آبادی سوا ارب ہے جبکہ پاکستان کی آبادی صرف پچیس کروڑ ہے۔
ماہرین نے ایک تازہ ریسرچ سے یہ ثابت کیا ہے کہ امریکہ، برطانیہ اور روس کے مقابلے میں جنوبی ایشیائی ممالک کے لوگ کرونا وائرس سے متائثرہ۔لوگوں میں بہت پیچھے ہیں۔ بنیادی وجہ یہ ہے کہ جنوبی ایشیا میں کورونا وائرس کی ٹیسٹنگ کے لیے ابھی تک مطلوبہ تعداد میں ٹیسٹنگ کٹس موجود نہیں ہیں۔
واضح رہے کہ 26 مارچ تک جنوبی ایشیا میں کرونا وائرس کے تقریباً 2081 متاثرین کی تصدیق ہوئی تھی۔ جنوبی ایشیا کے کُل تصدیق شدہ متاثرین میں صرف انڈیا اور پاکستان میں ہی مجموعی طور پر 92 فیصد متاثرین پائے جاتے ہیں۔ اب تک سب سے زیادہ تصدیق شدہ متاثرین پاکستان میں ہیں جن کی تعداد 1526 ہے مگر یہ شروع سے ہی ایسا نہیں تھا۔ انڈیا نے اپنے پہلے کیس کی تصدیق پاکستان سے کافی پہلے کر دی تھی۔ انڈیا میں پہلا کیس 30 جنوری کو سامنے آیا تھا جبکہ پاکستان نے اپنے پہلے کیس کی تصدیق 26 فروری کو کی یعنی انڈیا کے 26 دن کے بعد
26 فروری تک انڈیا اور پاکستان کے درمیان تصدیق شدہ متاثرین کی شرح ایک دوسرے سے ہم آہنگ تھی۔ انڈیا نے تین متاثرین کی تصدیق کی تھی، پاکستان نے دو، سری لنکا اور نیپال نے ایک ایک، اور بنگلہ دیش نے صفر متاثرین رپورٹ کیے تھے۔ مگر 26 فروری کے بعد انڈیا نے زیادہ متاثرین رپورٹ کرنے شروع کیے۔ ایک ہفتے کے اندر ہی انڈیا 28 متاثرین تک پہنچ گئے جبکہ پاکستان نے پانچ متاثرین رپورٹ کیے۔ بنگلہ دیش میں صفر جبکہ نیپال اور سری لنکا میں ایک ایک متاثرین تھے۔ ایک ہفتے بعد 11 مارچ کو انڈیا نے اپنے متاثرین کی تعداد میں 100 فیصد اضافے کی اطلاع دی۔ 30مارچ تک انڈیا میں کورونا وائرس کے متاثرین کی کُل تعداد 980 تک پہنچ گئی۔
یوں تو پاکستان میں متاثرین کی تعداد کم تھی لیکن ان میں بھی بہت جلد تیزی دیکھنے میں آئی۔ پاکستان میں متاثرین کی تعداد پانچ سے بڑھ کر 19 ہوگئی جو کہ تقریباً 400 فیصد کا اضافہ تھا ۔ تین دن بعد انڈیا نے 100 کا ہندسہ عبور کر لیا۔20 مارچ تک پاکستان نے کورونا وائرس کے لیے 1900 لوگوں کو ٹیسٹ کیا تھا جس میں 478 کے نتائج مثبت آئے۔ آسان الفاظ میں کہیں تو پاکستان میں ٹیسٹ کروانے والے ہر 10 لوگوں میں سے دو کے ٹیسٹ مثبت آئے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button