پاکستان میں احتجاجی سیاست کی وجہ غیرموثر پارلیمنٹ ہے؟

پاکستان میں جمہوریت کی بقا اور ملکی سلامتی، حقیقی آزادی کے نام پر کیے جانے والے احتجاج، اور مظاہرے خود ملکی سلامتی اور جمہوریت کیلئے بڑا خطرہ بن گئے ہیں، تقریباً ہر چھوٹی بڑی سیاسی و مذہبی جماعت اپنے مطالبات منوانے کی خاطر دھرنوں یا مارچ کا سہارا لے چکی ہے۔ عمران خان کا حالیہ ’حقیقی آزادی مارچ‘ ان کا پہلا پاور شو نہیں تھا، اس سے پہلے پیپلز پارٹی، مسلم لیگ ن، جمیعت علمائے اسلام، جماعت اسلامی اور تحریک لبیک بھی مختلف اوقات میں دھرنوں اور مارچ کا کھیل کھیلتی رہی ہیں۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر معاملات پارلیمنٹ میں حل ہو رہے ہو مسائل کو سڑکوں پر لانے کی ضرورت رہ ہی نہیں جاتی۔ انکامکہنا ہے کہ پاکستان میں پارلیمنٹ کا غیر موثر ہونا ہی وہ سب سے بڑی اور بنیادی وجہ ہے جو سیاسی جماعتوں اور رہنماوں کو آئے دن سڑکوں پر نکلنے پر مجبور کرتی ہے۔ انکا کہنا ہے کہ مضبوط جمہوریتوں کے برعکس پاکستان میں اہم قومی فیصلے پارلیمان سے باہر ہوتے ہیں۔ مسئلہ یہ ہے کہ ہماری پارلیمنٹ ایک موثر ادارے کے طور پر اپنی افادیت کھو چکی ہے اس لیے اب وہاں شور و غوغا تو بہت ہوتا ہے لیكن كام بالکل بھی نہیں ہوتا، اسی لئے قانون سازی بھی صدارتی آرڈیننسز کے ذریعے ہوتی ہے۔ اسکے علاوہ قانون سازوں کی اپنی ذمہ داریوں میں عدم دلچسپی نے بھی اسمبلیوں کو شہریوں کے تحفظات کی نمائندگی کرنے میں غیر موثر اور بے معنی بنا دیا ہے۔
دنیا كے مختلف ممالک كی پارلیمانوں كی بین الاقوامی تنظیم انٹر پارلیمینٹری یونین کے مطابق دور حاضر کی جدید جمہوری پارلیمان کا عوام کے سماجی اور سیاسی طور پر مختلف گروہوں کا نمائندہ ہونا ضروری ہے، پارلیمان مختلف ذرائع ابلاغ کے ذریعے قوم کے سامنے کھلی کتاب کی مانند ہونی چاہئے، عام شہریوں کی پارلیمان تک رسائی ضروری ہو، اور اس مقصد کے لیے پارلیمان بذریعہ معاشرے میں موجود مختلف تنظیموں اور سول سوسائٹی کی تحریکوں کے اپنے کام میں عوام کو شامل کرے، پارلیمان کے اراکین کیلئے ضروری ہے کہ وہ اپنے کام اور طرز عمل سے متعلق اپنے ووٹرز کو جوابدہ ہوں، پارلیمان اس صورت موثر ہو سکتی ہے جب وہ آئندہ نسلوں کی ضروریات کو
فہم میں رکھ کر قانون سازی کرے۔
سینئیر صحافی اور انسانی حقوق کے عملبردار مرحوم آئی اے رحمن نے گذشتہ سال ایک مضمون میں لکھا تھا کہ پارلیمان کو مضبوط اور متکبر ایگزیکٹیو میں اسے ربڑ سٹیمپ کے طور پر استعمال کرنے کے رجحان پر قابو پانے کے لیے عوام کا اعتماد حاصل کرنا ہوگا۔ انکا کہنا تھا کہ پارلیمان کو مضبوط اور موثر بنانے کے لیے ریاستی اداروں اور سیاسی رہنماوں کو بیٹھنا ہوگا تاکہ رولز آف دا گیم طے کیے جا سکیں، جب تک ایک وسیع اتفاق رائے قائم نہیں ہوتا یہ سرکس یوں ہی جاری رہے گا۔
تجزیہ کاروں کے خیال میں پاکستان جمہوری رویوں میں ایک منفرد ملک ہے، جہاں جو پارٹیاں اشرافیہ کے قبضے میں ہیں اور پارلیمان میں موجود ہیں وہی لانگ مارچ اور احتجاج كا راستہ اختیار كر رہی ہیں، جسے آئین كے مطابق قرار دیتے ہوئے ظاہری طور پر عوامی رنگ دیا جاتا ہے۔ انکا کہنا ہے کہ پارلیمان میں نمائندگی رکھنے والی سیاسی جماعتوں کا سڑک پر احتجاج کرنا جمہوری روایات کے خلاف ہے۔ انکے مطابق پاکستان میں پارلیمان کو موثر بنانے کے علاوہ معاشرے میں عمومی جمہوری اقدار اور سیاسی جماعتوں میں جمہوریت کا فروغ وہ اقدامات ہیں جن سے سڑکوں پر احتجاج کی سیاست کی حوصلہ شکنی ممکن ہو سکتی ہے۔
