پاکستان میں امریکیوں کا قیام طویل ہونے کا امکان


کابل کے واحد بین الاقوامی ایئرپورٹ پر بم دھماکوں کے بعد پاکستانی حکومت نے امریکی اتحادی فوجیوں اور دیگر غیر ملکیوں کو اسلام آباد، لاہور اور کراچی پہنچنے اور قیام کی اجازت دینے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہیں 21 دن کے لیے ویزے جاری کیے گے ہیں۔ تاہم ان خدشات کا اظہار کیا جا رہا ہے کہ پاکستان پہنچنے والے امریکی فوجی افسران کا قیام غیر معینہ مدت کے لیے بھی ہو سکتا ہے۔
دفاعی تجزیہ کار ایئر وائس مارشل (ر) شاہد لطیف کے خیال میں افغانستان سے آنے والے غیرملکی فوجیوں کا پاکستان میں قیام بڑھنے کے واضح امکانات موجود ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ابھی تو یہ عارضی طور پر آئے ہیں لیکن بعد میں دباؤ بڑھ جاتا ہے اور پاکستان جیسی حکومتوں کے پاس ان کا قیام بڑھانے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں رہ جاتا۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت تو حکومت کہہ رہی ہے کہ یہ عارضی قیام ہے، لیکن میرے خیال میں افغانستان سے آنے والے یہ فوجی ادھر ہی رکیں گے۔‘
اس سے پہلے وزیر داخلہ شیخ رشید احمد نے اعلان کیا تھا کہ کابل سے پاکستان آنے والے امریکی فوجیوں کو ٹرانزٹ ویزے فراہم کیے گئے ہیں، جو ایک مخصوص مدت کے لیے ہیں۔ اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو میں انہوں نے غیر ملکی فوجیوں اور دیگر اہلکاروں کے پاکستان میں طویل قیام کو مسترد کیا۔انہوں نے کہا کہ پاکستان اپنی قومی اور بین الاقوامی ذمہ داریوں سے بخوبی آگاہ ہے اور انہیں پورا کیا جا رہا ہے۔
یاد رہے کہ گذشتہ ہفتے کابل ایئرپورٹ پر خودکش حملوں کے بعد غیرملکی اتحادیوں نے اپنے فوجیوں اور دیگر عملے کے انخلا کے عمل کو تیز کر دیا تھا، جو گذشتہ رات اختتام کو پہنچا دیا گیا۔جن زمینی راستوں سے غیر ملکیوں نے پاکستان افغان سرحد عبور کی، ان میں صوبہ خیبر پختونخوا کے قبائلی ضلع خیبر میں واقع طورخم اور بلوچستان میں چمن بارڈر شامل ہیں۔ 
کابل سے آنے والے غیر ملکیوں کے قیام کی غرض سے اسلام آباد، لاہور اور کراچی میں نجی ہوٹلوں کو ’مہمانوں‘ کو رہائش فراہم کرنے کی خاطر دیگر افراد کے لیے مزید بکنگز بند کرنے کی ہدایات جاری کی گئی تھیں۔ وزارت داخلہ کے سینئیر اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ہوائی جہازوں کے علاوہ افغانستان سے زمینی راستوں سے بھی غیر ملکی مہمان پاکستان پہنچے ہیں۔ جن زمینی راستوں سے غیر ملکیوں نے پاکستان افغان سرحد عبور کی، ان میں صوبہ خیبر پختونخوا کے قبائلی ضلع خیبر میں واقع طورخم اور بلوچستان میں چمن بارڈر شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جہازوں اور زمینی راستوں سے اسلام آباد، کراچی اور لاہور پہنچنے والے غیر ملکیوں کی تعداد تین ہزار سے زیادہ ہے، جن کی اکثریت کو نجی ہوٹلوں میں ٹھہرایا گیا ہے۔ ایک دوسرے حکومتی اہلکار نے بتایا کہ بعض سینئیر فوجی اہلکاروں کو ہوٹلوں کے علاوہ سرکاری رہائش گاہوں میں بھی ٹھہرایا گیا ہے۔
31 اگست کو کابینہ اجلاس کے وزیراطلاعات و نشریات فواد چوہدری نے بریفنگ کے دوران بتایا کہ افغانستان سے کل 10 ہزار 302 غیرملکی افراد پاکستان آئے جن میں 155 امریکی اور 545 افغان شامل ہیں۔ انہوں نے مزید بتایا کہ اب تک نو ہزار 32 افراد اپنے اپنے ملکوں کو روانہ ہو چکے ہیں جبکہ 1229 تاحال پاکستان میں موجود ہیں جو کسی وقت روانہ ہو جائیں گے۔ تاہم دفاعی تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ پاکستان پہنچنے والے امریکی فوجیوں کی ایک مخصوص تعداد یہاں غیر معینہ مدت تک قیام کرے گی تاکہ ایمرجنسی کی صورت میں وہ فوری طور پر افغانستان پہنچ سکیں۔
یاد رہے کہ اس سے پہلے وزیر اعظم عمران خان نے افغانستان میں فوجوں کے انخلا کے دوران یا اس کے بعد امریکہ کو پاکستان میں فوجی اڈوں کی فراہمی سے انکار کیا تھا۔ دوسری جانب پی ڈی ایم کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کراچی میں حکومت مخالف احتجاجی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے تحریک انصاف حکومت پر شدید تنقید کی اور کہا تھا کہ ’عمران خان نے امریکہ کو اڈے دینے سے تو انکار کیا لیکن اب امریکی فوجیوں کو ہوٹلوں میں ٹھہرایا جا رہا ہے۔ لہازا مجھے دال میں کچھ کالا نظر آ رہا ہے۔ دوسری جانب ایک سینئیر حکومتی عہدیدار نے بھی بتایا کہ افغانستان سے آنے والے ’مہمانوں‘ کو ویزہ تو ایک مہینے کا دیا گیا ہے، لیکن اس میں دو ماہ تک کی توسیع ہو سکتی ہے۔ بین الاقوامی امور کے استاد اور محقق پروفیسر ڈاکٹر رفعت حسین کے خیال میں افغانستان سے آنے والے غیر ملکیوں کو پاکستان میں قیام کی اجازت دینے کے پیچھے انسانی ہمدردی کے علاوہ کوئی دوسرا  فیکٹر بھی ضرور موجود ہے۔ اپنی بات کی وضاحت کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ’ٹرانزٹ کی سہولت تو چند ایک دن کے لیے بھی ہوسکتی تھی، جس کے ختم ہونے پر انہیں اگلی پرواز کے ذریعے بھیج دیا جاتا، لیکن ایسا نہیں ہے۔ وہ لمبے عرصے تک یہاں موجود رہے گے، جس سے ثابت ہوتا ہے کہ کوئی دوسری بات بھی ضرور ہے۔‘ رفعت حسین کے خیال میں: ’امریکہ اور دوسرے اتحادیوں نے جن افغان باشندوں کو ساتھ لے کر جانا تھا انہیں پاکستان کو آؤٹ سورس کیا گیا ہے اور اسی لیے انہیں زمینی راستوں سے یہاں پہنچایا گیا۔
تاہم اب دیکھنا یہ ہے کہ امریکی فوجیوں کے پاکستان میں غیر معینہ مدت تک قیام کے خدشات درست ثابت ہوتے ہیں یا نہیں ۔

Back to top button