پاکستان میں ایڈز کی وبا بے قابو کیوں ہوتی جا رہی ہے؟

پاکستان میں ایڈز کی وبا بے قابو ہونے کے بعد رجسٹرڈ مریضوں کی تعداد 2 لاکھ 10 ہزار سے تجاوز کر گئی ہے جبکہ غیر رجسٹرڈ کیسز کی تعداد اس سے دگنی بتائی جا رہی ہے۔ ایڈز کے رجسٹرڈ مریضوں میں 41 ہزار خواتین اور ساڑھے 4 ہزار بچے بھی شامل ہیں۔ ایڈز سے گزشتہ ایک سال میں 9 ہزار 600 افراد انتقال کر چکے ہیں۔ صوبہ سندھ میں رواں سال 3 ہزار 515 نئے کیسز رجسٹرڈ ہوئے ہیں۔ جبکہ 17 ٹریٹمنٹ سینٹر قائم ہیں۔ صوبہ بھر میں مجموعی طور پر 19 ہزار 766 ایچ آئی وی متاثرہ افراد رجسٹرڈ ہیں۔ ایڈز کے مریضوں کی تعداد میں اضافے کے بنیادی اسباب ہم جنس پرستی، تھیلسیمیا، ہیموفیلیا کے مریض، غیر معیاری خون کی منتقلی اور استعمال شدہ سرنجوں کا استعمال ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق سال 2021 تک پاکستان میں ایڈز کے رجسٹرڈ مریضوں کی تعداد 2 لاکھ 10 ہزار سے تجاوز کر چکی ہے جس میں سب سے زیادہ تعداد ایک لاکھ 70 ہزار مرد اور خواجہ سراؤں کی ہے۔ جبکہ 41 ہزار خواتین اور 4 ہزار 600 بچے بھی شامل ہیں۔ سندھ میں حال ہی میں دس لاکھ سے زائد افراد کا ایچ آئی وی سٹیٹس معلوم کرنے کے لیے اسکریننگ کی گئی تھی جن میں سے 3 ہزار 515 پازیٹیو نکلے ہیں۔ یوں مثبت کیسز کی شرح 0.34 فیصد بنتی ہے۔
طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ ایڈز کا مرض ایک وائرس ایچ ائی وی کے ذریعے پھیلتا ہے جسے جسمانی مدافعتی نظام ناکارہ بنانے والا وائرس بھی کہا جاتا ہے۔ عام طور پر یہ جنسی بے راہ روی، ایڈز کے وائرس سے متاثرہ سرنج اور سوئیاں دوبارہ استعمال کرنے، وائرس سے متاثرہ اوزار جلد میں چبھنے، جیسے ناک، کام چھیدنے والے اوزار، دانتوں کے علاج میں استعمال ہونے والا آلات، حجام کے آلات اور سرجری کے لیے دوران استعمال ہونے والے آلات سے کسی فرد میں منتقل ہوسکتا ہے۔ درحقیقت ایڈز ایچ آئی وی وائرس کی آخری سٹیج کو کہا جاتا ہے، اگر ایچ آئی وی کا علاج نہ کرایا جائے تو مدافعتی نظام تباہ ہوکر ایڈز کی شکل اختیار کرلیتا ہے۔
ایڈز کی ابتدائی علامت معمولی زکام ہو سکتا ہے جس پر عموماً دھیان نہیں دیا جاتا جبکہ ایڈز کا مریض مہینوں یا برسوں تک صحت مند بھی نظر آتا ہے یعنی وہ بتدریج ایڈز کا مریض بنتا ہے۔ دیگر بڑی علامات میں بہت کم وقت میں جسمانی وزن دس فیصد سے کم ہوجانا، ایک مہینے سے زیادہ اسہال رہنا، ایک مہینے سے زیادہ بخار رہنا وغیرہ۔ ایڈز سے بچنے کے لیے ہمیشہ اپنے شریک حیات تک محدود رہیں اور جنسی بے راہ روی سے بچیں، اگر انجیکشن لگوانا ہے تو ہمیشہ نئی سرنج کا استعمال کریں، خون کی منتقلی اسی صورت میں کروائیں جب ضروری ہو جبکہ اس بات کو یقنی بنائیں کہ خون ایڈز کے وائرس سے پاک ہو۔ یہ مرض کسی مریض کے ساتھ گھومنے، ہاتھ ملانے یا کھانا کھانے سے نہیں پھیلتا، لہذا مریض سے دور بھاگنے کی ضرورت نہیں۔
اگر ایچ آئی وی وائرس کی تشخیص کے بعد علاج نہ کرایا جائے تو اس سے دیگر امراض جیسے تپ دق، بیکٹریل انفیکشن، کینسر اور سرسام کا خطرہ بڑھتا ہے، ایچ آئی وی لاعلاج مرض ہے مگر علاج سے اس وائرس کو کنٹترول کرکے مریض صحت مند زندگی گزار سکتا ہے۔ پاکستان بھر میں ایچ آئی وی ایڈز کے لیے 33 مراکز موجود ہیں جہاں مفت ٹیسٹ اور ادویات فراہم کی جاتی ہیں۔
