پاکستان میں بھارت سے چلنے والا کرکٹ جوا ریکٹ بے نقاب

آئی ایس آئی نے ایک بڑی کارروائی کرتے ہوئے پاکستانی کرکٹ کو بد نام کرنے کی ایک گھناؤنی بھارتی سازش ناکام بنا دی ہے اور ایک بین الاقوامی جواری ریکٹ کے چار سرکردہ پاکستانی کارندے گرفتار کرلیے ہیں جن میں سے تین ہندو شہری ہیں۔ جن کے بھارت میں رابطے تھے۔ گرفتار ملزمان میں جبار عرف پان منڈی، مہیندر کمار، نریش کمار اور نریش کمار عرف جانی شامل ہیں۔ دوران تحقیقات گرفتار ملزمان کے بھارتی بکیوں سے تانے بانے ملنے کا انکشاف ہوا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستانی کرکٹر عمراکمل کو بھی پی ایس ایل سے باہر کرنے کی بنیادی وجہ ان کا اس ریکٹ کے ساتھ تعلق پکڑا جانا تھا۔ اس مافیا کے سب سے اہم بکی اور پاکستانی سرغنہ کی شناخت جبار عرف پان منڈی کے نام سے ہوئی یے۔
باخبر ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ جیسے ہی کرکٹ بورڈ کے سربراہ احسان مانی کو اس جواری مافیا کے حوالے سے انفارمیشن ملی تو انہوں نے فوری طور پر وزیراعظم عمران خان کو اعتماد میں لیا لیکن بڑا مسئلہ یہ تھا کہ اس سارے معاملے میں کم از کم 6 سابق آئی جی حضرات اور اور چند سینئر فوجی افسران کا بھی نام آرہا تھا چنانچہ وزیراعظم نے فیصلہ کیا کہ پی ایس ایل کو بچانے اور اس جواری مافیا کا قلع قمع کرنے کے لیے آئی ایس آئی کی خدمات حاصل کی جائیں۔
چنانچہ ذرائع دعوی کرتے ہیں کہ وزیراعظم نے آئی ایس آئی کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید کو اس کیس سے نمٹنے اور بین الاقوامی جواری مافیا کو گرفتار کرنے کی ذمہ داری سونپی جو انہوں نے احسن طریقے سے نبھائی۔
ذرائع کے مطابق ملزمان سے برآمد ہونے والے لیپ ٹاپس اور موبائل فونز سے بھی تحقیقاتی اداروں کو جوئے کی غرض سے بھاری رقوم کی ادائیگی کی رسیدوں، تصاویراور دیگر دستاویزات سمیت اہم ثبوت ملے ہیں جن کو بنیاد پر تحقیقات کو آگے بڑھایا جا رہا ہے اور جلد مزید گرفتاریاں متوقع ہیں۔

ملزمان سے حاصل ثبوتوں اور تحقیقات سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ ملزمان حوالہ ہنڈی کے کام میں بھی ملوث تھے۔ ملزمان کی بیرون ملک مقیم پاکستان دشمن عناصر کے ساتھ ہونے والی واٹس ایپ کنورسیشن میں پی ایس ایل فائیو کو بدنام کرنے اور ناکام کرنے کی سازش کا انکشاف ہوا۔ ملزمان بے نامی اکاؤنٹس کے ذریعے فنڈز ٹرانسفر کرتے رہے ہیں جبکہ گرفتار ملزمان کو انٹرنیٹ کے ذریعے بیرون ملک سے ہدایات ملنے کا انکشاف ہوا ہے۔ بین الاقوامی گروہ کے کارندوں کی گرفتاری کے بعد ان کے انکشافات پر مختلف علاقوں میں چھاپے مار کر مختلف بکیوں کی گرفتاریاں بھی عمل میں لائی گئی ہیں جبکہ کارندوں کے رابطے میں رہنے والے مختلف سرکاری عہدیداران کو بھی حراست میں لیا گیا ہے۔
گرفتار ملزمان سے حاصل کردہ معلومات کی روشنی میں سیکیورٹی اداروں نے کراچی کے پوش علاقے میں 21 فروری 2020 کو کارروائی کرتے ہوئے سب سے بڑے بکی جبار عرف پان منڈی نامی شخص کو مختلف بکیز سے رابطے اور پی ایس ایل فائیو میں سٹہ کرانے کی کوشش کرنے کے الزام میں حراست میں لیا ، تحقیقات کے دوران جبار نے طوطے کی طرح تمام رازوں سے پردہ اٹھا دیا کہ کس طرح وہ اور اس کے ساتھی بھارتی مافیا کے ساتھ مل کر پی ایس ایل 5 کو نقصان پہنچانا چاہتے تھے۔


ملزم جبار عرف پان منڈی نے بتایا کہ وہ 1995 سے 2009 تک اشرف بکی کے ساتھ مل کر کرکٹ میچوں پر سٹہ لگاتا رہا ، ملزم نے پی ایس ایل 5 کے کوئٹہ اور اسلام آباد کے درمیان کھیلے جانے والے میچ کے دوران لاکھوں روپے کا سٹہ لگایا جس میں اسے نقصان اٹھانا پڑا ، ملزم 1995 سے مختلف بکیز کے ساتھ مل کر میچوں پر سٹہ لگاتا رہا۔ 2002 میں ملزم نے اشرف بکی کے ساتھ مل کر آسٹریلیا میں کھیلی جانے والی ایشز سیریز پر سٹہ لگا کر کروڑوں روپے جیتے،2002 میں ملزم کے انڈر ورلڈ ڈان سلیم ڈالر سے مراسم بڑھے اور وہ اس کے ساتھ ملکر نہ صرف میچز پرسٹہ لگاتا بلکہ جوا جیتنے پر رقص وسرود کی محفلیں بھی سجاتا جہاں اس کی متحدہ کے ٹارگٹ کلرزسعید بھرم اور عارفین سے دوستی ہو گئی اور وہ سیاسی اور عسکری تحفظ میں کھل کر میچز پر سٹہ لگانے لگا۔ جس کے بعد اس نے نہ صرف پاکستان بلکہ دیگر ممالک کے بکیوں کے ساتھ ملکر میچز پر سٹہ لگانا شروع کر دیا۔ ، ملزم کا کراچی کے پوش علاقے میں بنگلہ تھا جہاں وہ اپنے ساتھیوں کے ساتھ مل کر ڈانس پارٹیاں کرتے اور جن میں مختلف پولیس اور عسکری افسران سمیت اعلی پولیس اور ایف آئی اے حکام بھی شرکت کرتے تھے۔
بتایا گیا ہے کہ ملزم کے اعلیٰ سیکیورٹی حکام سے بھی رابطے میں تھے۔ ملزمان سے برآمد ہونے والے لیب ٹاپس اور موبائل فونز کے ذریعے پی ایس ایل فائیو کو بدنام کرنے کیلئے ملزمان کے ملک کے مختلف بینکوں میں بے نامی اکاؤنٹس کی موجودگی کا انکشاف ہوا جبکہ تحقیقات کے دوران پی ایس ایل 5 کو بدنام کرنے میں انٹرنیشنل مافیا کے ملوث ہونے کے ثبوت بھی سامنے آئے ہیں۔
سب سے بڑے بکی جبار عرف پان منڈی کے موبائل فونز میں موجود دستاویزات، تصاویر اور جمع کرائی گئی رقوم کی رسیدوں سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ ملزم انٹرنیٹ اور ویب پورٹل کے ذریعے بیرون ملک گروپ کے سرغنہ دبئی میں مقیم لال چند کے ساتھ رابطے میں تھا۔ تحقیقاتی اداروں نے بکیوں سے ملنے والی معلومات کی روشنی میں مختلف سرکاری عہدوں پر تعینات افراد کے خلاف شکنجہ سخت کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور ان سے مزید اہم انکشافات کی توقع کی جا رہی ہے۔
ذرائع کا دعوی ہے کہ پی ایس ایل فائیو کو آخری ایڈیشن بنانے کے لیے بھارتی بکی مافیا نے گھناؤنا جال بچھایا اور پاکستان کو دنیا بھر میں بدنام کرنے کے لیے ایسی چال چلی کہ اگر یہ ریکٹ پکڑا نہ جاتا تو پاکستانی کرکٹ اور کرکٹر دنیا بھر میں رسوا ہو جاتے۔



