پاکستان میں بھگت سنگھ کو کب ہیرو تسلیم کیا جائے گا؟


23 مارچ پاکستان کے لیے ایک بہت اہم دن، کیونکہ اس روز لاہور میں ’قرارداد پاکستان‘ پیش کی گئی جو تحریک پاکستان کے لیے ایک اہم سنگ میل تھا لہذا ہر سال یہ دن سرکاری سطح پر دھوم دھام کے ساتھ منایا جاتا ہے۔ لیکن 23 مارچ 1940 کو قرارداد پاکستان پیش ہونے سے نو سال پہلے 23 مارچ 1931 کو لاہور میں ہی برطانوی راج کے دوران تین آزادی پسند انقلابی نوجوان بھگت سنگھ، راج گرو اور سكھدیو کو پھانسی دے دی گئی تھی۔ان تینوں پنجابی سوشلسٹ حریت پسندوں پر برطانوی پولیس افسر سانڈرز کے قتل کا الزام تھا اور اسی جرم کی سزا میں انھیں پھانسی دی گئی۔ بھگت سنگھ اور ان کے ساتھی انقلاب پر یقین رکھتے تھے اور وہ بائیں بازو کی سیاست سے منسلک تھے۔ بھگت سنگھ اور ان کے ساتھیوں کی موت کے بعد وہ برطانوی راج کے خلاف جدوجہد کی عظیم علامت بن گئے۔
23 مارچ 2021 کو ان کی ہھانسی کو 90 برس ہورے ہو گے۔
23 مارچ کو پھانسی پانے والے 23 سالہ بھگت سنگھ کا تعلق لائل پور سے تھا، آج اس جگہ کا نام فیصل آباد ہے۔ جس وقت بھگت سنگھ کو پھانسی لگائی گئی اس وقت پاکستان کا تصور نہیں تھا اور برصغیر ایک تھا اور ہندو اور مسلمان دونوں انگریز راج کے خلاف لڑ رہے تھے۔ بعد ازاں دونوں ملکوں کی آزادی کے بعد انڈیا میں بھگت سنگھ کو تحریک آزادی کا عظیم ہیرو قرسر دیا گیا اور ان کو ’شہید‘ کا خطاب دیا گیا۔ لیکن پاکستان میں بھگت سنگھ کے بارے میں عوامی سطح پر زیادہ ذکر نہیں ہوتا۔ اس دوران جب ایک زمانے میں لاہور کے شادمان چوک کو بھگت سنگھ چوک کا نام دینے کا فیصلہ ہوا تو مذہبی شدت پسندوں کی طرف سے اسکی شدید مخالفت کی گئی اور پھر ایسا نہ ہو سکا۔ لیکن اس کا ہرگز مطلب نہیں کے بھگت ہمارا ہیرو نہیں اور اسکے پاکستان میں مداح موجود نہیں۔
طلبہ تنظیم پروگریسو سٹوڈنٹ کولیکٹوو کے سرکردہ رہنما حیدر علی بٹ کا کہنا ہے کہ آج کے نوجوان کو بھگت سنگھ کے بارے میں پڑھانا بہت ضروری ہے، کیونکہ بھگت ذات پات، رنگ، نسل اور طبقے کی بنیاد پر کسی پر جبر ہوتا نہیں دیکھ سکتا تھا، وہ طاقتور کے سامنے حق کی بات کرتا تھا۔ انھوں نے کہا کہ اگر ‘ہم آج کے سیاق و سباق میں بھگت سنگھ کو نوجوانوں کا آئیڈیل نہیں بنائیں گے، ان کے پیغامات اور نظریات لوگوں تک نہیں پہنچائیں گے تو جس تیزی سے یہ ملک تباہی کی جانب جا رہا اسے کوئی نہیں روک سکے گا۔’
اس معاملے پر سماجی رہنما عمار علی جان نے کہا کہ 1919 میں جلیاں والا باغ کی قتل و غارت کے بعد پورے بر صغیر میں عموماً خوف پایا جاتا تھا لیکن بھگت سنگھ نے اپنے عمل سے یہ ثابت کیا کہ اگر انسان کے اندر واقعی ہی آزادی کی جستجو ہو تو وہ ’ایسے کام کر جاتا ہے جس میں انسان کا جسم اور وجود بے معنی رہ جاتا ہے اور آپ کے اقدار آگے بڑھ جاتے ہیں۔‘ انھوں نے کہا کہ جلیانوالا باغ کے قتل عام کا بدلہ لینے کے لیے ’بھگت سنگھ نے خود کو تختہ دار تک پہنچایا اور اس بات کو ثابت کیا کہ طاقت کبھی بھی انسان پر حاوی نہیں ہو سکتی۔ چاہے جتنے بھی مشکل حالات ہو متبادل ممکن ہے۔ عمار علی جان نے کہا کہ اس وقت برصغیر میں ایک بحران ہے۔ انڈیا میں بھگت سنگھ کی سوچ اور اقدار کے دشمن ’فاشسٹ‘ اقتدار میں ہیں جبکہ پاکستان میں ’عجیب صورت حال ہے کہ ہم نے ابھی تک یہ مانا ہی نہیں ہے کہ وہ ہمارا ہیرو ہے، یہ سب صرف ان کے نام کی وجہ سے کیونکہ وہ ایک سکھ تھا لیکن یہ بھی ایک سچ ہے کہ وہ ذات پات اور مذہب کی تقسیم پر یقین نہیں رکھتا تھا۔‘
جب عمار جان سے پوچھا گیا کہ انڈیا میں تو قوم پرست قوتیں بھی بھگت سنگھ کو اپنا ہیرو قرار دیتی ہیں اور حال ہی میں وزیر اعظم نرندر مودی نے بھی بھگت کو خراج عقیدت پیش کیا ہے، تو عمار نے کہا کہ یہ کسی ہیرو کو زیرو کرنے کا طریقہ ہے جس کا ذمہ دار مودی تو ہوسکتا ہے لیکن بھگت سے نہیں۔ یہ کسی ہیرو کے ساتھ ذیادتی یے کہ آپ اس کے نظریات کو اور اس کی جدوجہد کو نظر انداز کر دو اور اس کو ہندو مسلم اور سکھ عیسائی کی بنیاد پر تقسیم کر دو۔ انھوں نے کہا کہ سچ تو یہ ہے کہ بھگت سنگھ پورے برصغیر کا ہیرو تھا جس کی جدوجہد کے نتیجے میں ہندوستان اور پاکستان کو آزادی ملی۔ حقیقت یہ ہے کہ بھگت سنگھ نے انڈیا میں مذہب کے نام پر فاشزم کو مکمل طور پر رد کیا تھا۔ بھگت سنگ سوشلسٹ تھا وہ کسانوں اور مزدوروں کی جدوجہد پر یقین رکھتا تھا اس وقت جو اس وقت انڈیا میں حکومت ہے وہ کارپوریٹ فاشسٹ حکومت ہے یا وہ امیروں کے لیے کام کر رہی ہے یا وہ مذہبی بنیادوں پر کام کر رہی ہے۔‘
بھگت سنگھ کی برسی کے موقعے پر پاکستان اور انڈیا میں موجود صارفین نے ٹوئٹر کے پلیٹ فارم کو استعمال کرتے ہوئے بر ضغیر کی تاریخی انقلابی شخصیت کے بارے میں اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ دلی سے تعلق رکھنے والے مشہور تاریخ دان سید عرفان حبیب نے بھگت سنگھ کو ان کی برسی پر اپنی ٹویٹ میں خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ آئیے ہم آج بھگت سنگھ کو یاد کریں جن کے خیالات آج بھی اہم ہیں۔
پاکستان کی سماجی حقوق پر کام کرنے والی کارکن اور ایسوسی ایٹ پروفیسر ندا کرمانی نے ٹویٹ میں کہا کہ نہرو اور جناح دونوں بھگت سنگھ کی انقلابی سوچ کے مخصوص پہلوں کی حمایت کرتے تھے۔ افسوس کے ان کی پھانسی کے 88 سال بعد پاکستان کی اکثریت ان کی انسانیت کے لیے اور ناانصافی کے خلاف جدوجہد کے بارے میں ناواقف ہے۔ ایک اور پاکستانی صارف باول بلوچ نے لکھا کہ آج کے دن ایک حقیقی انقلابی کو پھانسی ہر لٹکایا گیا تاہم پھندا صرف ان کی روح اور جسم کو الگ کر سکا۔ ان کے مضبوط اور انقلابی خیالات نہ صرف بھارت کے بلکہ پاکستان کے مظلوم طبقے کی بھی حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button