پاکستان میں سونا مہنگا ہونے کی اصل وجہ سامنے آ گئی

خالص سونے کی معاشی اہمیت کو مدنظر رکھتے ہوئے دنیا کے ترقی یافتہ ممالک میں مرکزی بینک بڑے پیمانے پر سونا ذخیرہ کرتے ہیں لیکن پاکستان اس اعتبار سے دنیا کے دیگر ممالک سے کہیں پیچھے ہے حتی کہ بھارت کے پاس پاکستان سے دس گنا زیادہ سونا موجود ہے۔ بھارت کے پاس اس وقت 654 ٹن سونا ہے جبکہ پاکستان کے پاس صرف 64 ٹن سونا موجود ہے لہذا پاکستان میں آئے روز سونے کی قیمتوں میں ہوشربا اضافے دیکھنے کو ملتا ہے اور اب یہاں سونے کی قیمت ایک لاکھ 29 ھزار روپے فی تولہ تک پہنچ چکی ہے۔
برے وقتوں میں کام آنے والی سنہری دھات سونے کو دنیا بھر کے مرکزی بینکوں کی جانب سے ذخیرہ کیا جاتا رہا ہے جس میں ہر آنے والے سال میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے، گزشتہ سال سونے کے ذخائر میں 650 ٹن کا اضافہ ہوا۔ ایک غیر ملکی رپورٹ کے مطابق عالمی وبا کرونا وائرس کے حملوں کے دوران متعدد ممالک کی جانب سے مرکزی بینکوں سے سونا واپس اپنے ملکوں میں ذخیرہ کیا جا رہا ہے جبکہ کرونا وائرس آنے سے قبل ہی عالمی معیشت کو وبا سے متعلق متنبہ کیا گیا تھا جس پر بہت سے ممالک نے پہلے سی ہی مزید سونا اپنے پاس جمع کرنا شروع کر دیا تھا۔ رپورٹ کے مطابق سال 2019 میں دنیا بھر کے مرکزی بینکوں میں 650 ٹن سونا جمع کیا گیا تھا جبکہ 2018 میں جمع کردہ سونے کی مقدار 656 ٹن تھی جو کہ گزشتہ 50 سالوں کے دوران جمع کی گئی سب سے زیادہ مقدار تھی۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اب دنیا بھر کے ممالک کی جانب سے بینکوں سے سونا نکالے جانے کی کوششیں کی جا رہی ہیں، زیادہ تر یہ سونا نکالے جانے کی کوششیں دنیا میں سب سے بڑی تعداد میں سونا ذخیرہ کرنے والے دو بڑے بینک نیو یارک فیڈرل ریزرو اور بینک آف انگلینڈ میں دیکھی جا رہی ہیں۔ رواں سال کے پہلے چھ مہینوں کے دوران سونے کی قدر میں خاطر خواہ اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، دوسری جانب اس سال ترکی کے مرکزی بینک کی جانب سے 148 ٹن سونا خریدا گیا ہے جس کے بعد ترکی اس سال کا سب سے زیادہ سونا خریدنے والا ملک بن گیا ہے۔اس صورتحال میں پولینڈ نیشنل بینک کے گورنر ایڈم گلاپنسکی کا کہنا ہے کہ سونا ملک کی طاقت کی علامت ہے۔ ورلڈ گولڈ کونسل کی جانب سے مرتب کردہ نئے اعداد و شمار کے مطابق دنیا میں سونے کے سب سے زیادہ ذخائر رکھنے والے 10 ممالک کی فہرست میں امریکا پہلے نمبر پرہے جس کے پاس 8,133.5 ٹن سونا ہے جو کہ غیر ملکی ذخائر کے فیصدکے لحاظ سے 78.9 فیصد بنتا ہے، امریکا کے پاس 3 ممالک کے مجموعی سونے کے برابر سونا ہے۔ اس فہرست میں دوسرے نمبر پر جرمنی ہے ، جرمنی کے پاس 3,363.6 ٹن سونا ہے جو کہ غیر ملکی ذخائر کے فیصد کے لحاظ 75.2 فیصد بنتا ہے، 2012ء اور 2017ء کے درمیان جرمنی نے پیرس اور نیو یارک سے اپنے بیشتر بڑے ذخائر تقریباً 674 ٹن سونا وطن واپس منتقل کر لیا تھا۔ اٹلی اس فہرست میں تیسرے نمبر پر ہے ، ااٹلی کے پاس 2,451.8 ٹن سونا ہے، غیر ملکی ذخیرہ کے لحاظ سے یہ دنیا کا 70.8 فیصد سونا بنتا ہے ، دیگر کئی ممالک کی طرح اٹلی کے پاس بھی اپنا سونا موجود نہیں ہے۔ اٹلی نے یہ سونا دنیا کے دیگر بینکوں میں ذخیرہ کیا ہوا ہے۔ فہرست میں فرانس کا نمبر چوتھا ہے ، فرانس کے پاس 2,436 ٹن سونا ہے، غیر ملکی ذخیرہ کے لحاظ سے یہ سونا 65 فیصد بنتا ہے، فرانس کا بیشتر سونا 1950ء اور 1960ء کی دہائی کے دوران حاصل کیا گیا تھا۔ روس کا اس فہر ست میں نام پانچویں نمبر پر آتا ہے ، روس کے پاس 2,299.2 ٹن سونا موجود ہیں جو کہ غیر ملکی ذضائر کے مطابق 22.6 فیصد بنتا ہے ، گذشتہ سات سالوں سے روسی سنٹرل بینک سونے کا سب سے بڑا خریدار رہا ہے اور صرف دو سالوں میں اس کے ذخائر میں 400 ٹن سے زیادہ کا اضافہ ہوا ہے۔
چین سونا ذخیرہ کرنے والے بڑے ممالک کی فہرست میں چھٹے نمبر پر براجمان ہے ، چین کے پاس 1,948.3 ٹن سونا ہے جبکہ یہ فیصد کے لحاظ سے 3.4 فیصد بنتا ہے ، چین دنیا کا سب سے بڑا سونے کا پروڈیوسر ہے، جو عالمی طور پر کان کی پیداوار کا 12 فیصد بنتا ہے، چین سب سے بڑا سونے کا صارف بھی ہے، چین میں بڑھتے ہوئے متوسط طبقے کی وجہ سے سونے کی مقامی مانگ میں اضافہ ہوا ہے۔ سوئٹزرلینڈ کے پاس 1,040 ٹن سونا ہے جبکہ فیصد کے لحاظ سے یہ 6.5 فیصد بنتا ہے ، سوئٹزرلینڈ فی کس سونے کے سب سے بڑے ذخائر کا مالک ہے۔ اس کا بیشتر سونے کا کاروبار ہانگ کانگ اور چین کے ساتھ ہے۔ جاپان اس فہرست میں آٹھویں نمبر پر ہے، جاپان کے پاس 765.2 ٹن سونا ہے جبکہ فیصد کے لھاظ سے یہ سونا 3.1 فیصد بنتا ہے جبکہ جاپان دنیا کی تیسری سب سے بڑی معیشت کی حیثیت رکھتا ہے۔ بھارت کا اس فہر ست میں نواں نمبر ہے ، بھارت کے پاس 654.9 ٹن سونا ہے جبکہ یہ دوسرے ملکوں کے فیصد کے لحاظ سے 7.5 فیصد بنتا ہے ، ہندوستان سونے کا دوسرا سب سے بڑا صارف ہے۔ سونے کے سب سے زیادہ ذخائر رکھنے والے ملکوں میں نیدر لینڈ کا دسواں نمبر ہے، نیدر لینڈ کے پاس 612.5 ٹن سونا ہے جبکہ غیر ملکی ذخائر میں فیصد کے لحاظ سے 70.9 فیصد بنتا ہے ،2014 میں نیدرلینڈ نے اپنے سونے کے 20 فیصد ذخائر کو نیو یارک فیڈ کے والٹ سے اپنے دارالحکومت ایمسٹرڈیم میں منتقل کر لیا تھا۔
پاکستان اس فہرست میں کئی سو ملکوں سے نیچے ہے۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق اس وقت پاکستان کے پاس زیادہ سے زیادہ 64 ٹن سونا ہے جو ہمسایہ ملک بھارت کے معاملے میں دس گنا کم ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان کی معیشت زبوں حالی کا شکار ہے اور ملک میں سونے کی قیمتیں مسلسل بڑھ رہی ہیں۔
