پاکستان میں سویلین بالادستی بحال کرنے کا نسخہ کیا ہے؟

 

 

 

معروف تجزیہ کار حفیظ اللہ خان نیازی نے موجودہ سیاسی صورت حال پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستانی عوام کو مایوس ہونے کے بجائے ترکی کی سیاسی تاریخ سے سبق سیکھنا چاہیے، جہاں 80 برس سے زائد عرصے تک فوج سیاسی اور ریاستی نظام پر غالب رہی، تاہم وہاں کی سیاسی قیادت کی مسلسل جدوجہد کے نتیجے میں نہ صرف آئین میں بنیادی تبدیلیاں کی گئیں بلکہ فوج کی بالادستی ختم کر کے سول بالادستی قائم کر لی گئی۔

 

روزنامہ جنگ کے لیے سیاسی تجزیے میں حفیظ اللہ خان نیازی کہتے ہیں کہ ترکی کی مثال ثبوت ہے کہ اگر سیاسی قیادت استقامت، حکمت عملی اور جرات کا مظاہرہ کرے تو وقت کے ساتھ ریاستی ڈھانچے کو آئینی دائرے میں واپس لایا جا سکتا ہے۔ قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ حفیظ اللہ نیازی تحریکِ انصاف کے بانی عمران خان کے بہنوئی ہیں، جبکہ انکے بیٹے حسان نیازی کو 9 مئی کو فوجی تنصیبات پر حملوں کے الزام میں طویل قید کی سزا بھی ہو چکی ہے۔ اس پس منظر کے باوجود حفیظ نیازی نے کسی سیاسی جماعت کی وکالت کے بجائے آئینی بالادستی اور سول حکمرانی کے اصولوں پر بات کی ہے۔ انہوں نے ذاتی وابستگیوں اور جذبات سے بالاتر ہو کر ترکی کی تاریخ کے تناظر میں یہ مؤقف اختیار کیا ہے کہ ریاست چلانا فوج کا نہیں بلکہ منتخب سیاسی قیادت کا کام ہوتا ہے۔ وہ ترکی میں تقریباً 80 برس تک جاری فوجی بالادستی، اس کے بتدریج خاتمے اور صدر رجب طیب اردوان کے دور میں مکمل سول بالادستی کے قیام کو پاکستانی عوام کے لیے ایک عملی مثال قرار دیتے ہیں، اور اس بات پر زور دیتے ہیں کہ اگر سیاسی قیادت جرات، اتحاد اور بالغ نظری کا مظاہرہ کرے تو پاکستان میں بھی وقت کے ساتھ مثبت تبدیلی ممکن ہے۔

 

حفیظ اللہ خان نیازی کے مطابق ریاست چلانا فوج کا نہیں بلکہ منتخب سیاست دانوں کا کام ہوتا ہے، لیکن ترکی میں ایک طویل عرصے تک فوج نے نہ صرف اقتدار پر قبضہ کیے رکھا بلکہ آئین میں بھی اپنے لیے خصوصی کردار طے کروا لیا۔ وہ بتاتے ہیں کہ ترکی میں فوج جب چاہتی براہ راست اقتدار سنبھال لیتی، پھر مارشل لا نافذ ہوتا یا پس پردہ سیاسی معاملات کنٹرول کیے جاتے رہے۔

 

حفیظ نیازی کہتے ہیں کہ پہلی جنگ عظیم میں عثمانی سلطنت کی شکست کے بعد ترکی شدید بحران کا شکار ہوا۔ 1919 سے 1923 کے دوران مصطفیٰ کمال اتاترک نے جنگِ آزادی کی قیادت کی، یونانی افواج کو شکست دی اور 1923 میں جمہوریہ ترکی کا اعلان کیا۔ بعد ازاں 1924 میں خلافت کا خاتمہ کر دیا گیا۔ اس کے بعد تقریباً آٹھ دہائیوں تک ترکی ایک سخت سیکولر کمالسٹ نظام کے تحت چلتا رہا جہاں فوج کو ریاست کا حتمی محافظ سمجھا جاتا تھا۔ 1970 کی دہائی میں رجب طیب اردوان نے سیاست کا آغاز کیا اور نجم الدین اربکان کی اسلامی تحریک سے وابستہ رہے۔ 1997 میں فوجی مداخلت اور اسلامی جماعتوں پر پابندی کے بعد اردوان نے 2001 میں جسٹس اینڈ ڈیولپمنٹ پارٹی کی بنیاد رکھی، جو سیاسی اسلام اور جمہوریت کے امتزاج کے باعث عوام میں مقبول ہوئی۔

 

حفیظ نیازی کے مطابق اگرچہ 2002 میں اردوان کی جماعت اقتدار میں آ گئی، تاہم 2003 میں وزیر اعظم بننے کے بعد اردوان کو شدید سول ملٹری تناؤ کا سامنا رہا۔ اسکے باوجود انہوں نے تدبر، سیاسی حکمت عملی اور آئینی اصلاحات کے ذریعے بتدریج فوج کے اثر و رسوخ کو کم کیا۔ 2007 کے صدارتی بحران، یورپی یونین سے متعلق اصلاحات اور 2010 کے آئینی ریفرنڈم کے ذریعے فوج کے آئینی کردار کو ختم کر دیا گیا۔ 2016 میں ترکی میں فوج اور ایئر فورس کے ایک حصے نے بغاوت کی کوشش کی، تاہم ترک عوام کی مدد سے صدر اردوان نے اس بغاوت کو ناکام بنا دیا۔ یوں 80 سالہ فوجی بالادستی کے دور کا مکمل خاتمہ ہوا اور ترکی میں سویلین حکمرانی مضبوط ہو گئی۔

 

حفیظ اللہ خان نیازی کے مطابق فوجی تسلط کے خاتمے کے بعد ترکی نے معاشی اور سیاسی ترقی کی۔ 2000 میں ترکی شدید معاشی بحران، مہنگائی اور ڈیفالٹ کے خطرے سے دوچار تھا، جبکہ 2025 تک اس کی معیشت 274 ارب ڈالر سے بڑھ کر 1.6 کھرب ڈالر تک پہنچ چکی ہے۔ فی کس آمدن تقریباً 2 ہزار ڈالر سے بڑھ کر 18 ہزار ڈالر کے قریب ہو چکی ہے، اور ترکی آج ایک مؤثر علاقائی طاقت بن چکا ہے۔ حفیظ نیازی پاکستان کے تناظر میں لکھتے ہیں کہ افسوسناک حقیقت یہ ہے کہ یہاں کی سیاسی قیادت آپس میں الجھی ہوئی ہے، جس کا فائدہ فوج کو پہنچتا ہے۔ ان کے مطابق حالیہ آئینی ترامیم کے بعد پاکستان میں فوج کا سیاسی کردار مزید مضبوط ہو چکا ہے۔

نئی ٹیموں کی فروخت سے PSL کی کمرشل ویلیو میں ہوشربا اضافہ

انکا کہنا ہے کہ پاکستان کی موجودہ سیاسی قیادت فہم، دیانت اور قومی یکجہتی سے محروم نظر آتی ہے، تاہم عوام کو مایوسی ہونے کی بجائے ترکی کی مثال سے سبق سیکھنے کی ضرورت ہے۔ اگر پاکستانی سیاست دان ذاتی مفادات سے بالاتر ہو کر قومی مفاد کو ترجیح دیں، ایک دوسرے کے خلاف جھوٹ اور الزام تراشی سے باز آئیں اور اتحاد پیدا کریں تو پاکستان بھی ایک مستحکم اور خوشحال ملک بن سکتا ہے۔ ان کے مطابق اگرچہ ان کی زندگی میں ایسا ممکن نہ ہو، لیکن انہیں امید ہے کہ نوجوان نسل کو مستقبل میں ایسی قیادت ضرور ملے گی جو ملک کو درست سمت میں لے جائے گی۔

انہوں نے آخر میں اس یقین کا اظہار کیا کہ قربانیوں سے وجود میں آنے والی یہ مملکت بالآخر آئین کے مطابق سویلین بالادستی حاصل کرنے میں سرخرو ہو کر رہے گی۔

Back to top button