پاکستان میں شوہر کے ہاتھوں ریپ پر بات کرنا مشکل کیوں ہے؟

خواتین کے خلاف تشدد کے خاتمے کی عالمی مہم کے زور پکڑنے کے بعد پاکستان میں میریٹل ریپ Marital Rape یا شوہر کے ہاتھوں ریپ ہونے والی خواتین کے حقوق کی بات بھی کی جا رہی ہے۔ رواں برس ٹی وی ڈرامہ ‘قصہ مہر بانو کا‘ اپنے ایک مکالمے کی وجہ سے بہت زیر بحث رہا۔ ایک منظر میں بیوی اپنے شوہر سے کہتی ہے، ”محبت اور نکاح کے نام پر کیا جانے والا ظلم بھی ظلم ہی ہوتا ہے۔‘‘ اس مکالمے کا پس منظر شوہر کا بیوی کی رضامندی اور مرضی کے بغیر اس سے سیکس کرنا تھا۔ میریٹل ریپ جیسے حساس موضوع پر بات کرنے کی وجہ سے جہاں اس ٹی وی ڈرامے کو بہت سراہا گیا وہیں شدید تنقید کا نشانہ بھی بنایا گیا۔ یاد رہے کہ خواتین کے خلاف کیے جانے والے مختلف اقسام کے تشدد کی اقوام متحدہ کی فہرست میں میریٹل ریپ بھی شامل ہے۔
دنیا کے بہت سے ترقی یافتہ ممالک میں میریٹل ریپ کو نہ صرف سماجی سطح پر تشدد سمجھا جاتا ہے بلکہ اس کے خلاف سخت قوانین بھی بن چکے ہیں۔ مگر پاکستانی میں اس موضوع پر بہت کم بات ہوتی ہے۔ خواتین کے حقوق کی سرگرم رکن اور قائد اعظم یونیورسٹی میں جینڈر سٹڈیز ڈیپارٹمنٹ کی سابق سربراہ فرزانہ باری اس کی جڑیں پدرسری معاشرے میں دیکھتی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ”ہمارے معاشرے کا ڈھانچہ آج بھی صدیوں سے رائج پدرسری اقدار پر مضبوطی سے استوار ہے، جس میں خواتین کا کردار مرد کی تسکین اور اس کا وارث پیدا کرنے تک محدود ہے۔ عورت کو شادی سمیت کسی بھی سماجی معاہدے میں برابر کا انسان تصور نہیں کیا جاتا۔‘‘
وہ کہتی ہیں، ”ہمارا معاشرہ تو ابھی تک محفوظ جنسی تعامل پر متفق نہیں، میریٹل ریپ پدرسری اقدار کو اپنے زخموں پر نمک محسوس ہوتا ہے۔ سو اسے برداشت نہیں کیا جاتا۔ اسے یہود و ہنود کی سازش اور اپنی معاشرتی اقدار کے منافی قرار دیا جاتا ہے۔ اس لیے لوگ خوفزدہ ہوتے ہیں۔ سماجی دباؤ خواتین کو اپنے خلاف ہونے والے تشدد پر آواز تک نہیں اٹھانے دیتا۔‘‘
اسلام آباد ہائی کورٹ سے وابستہ نامور وکیل اور سماجی دانشور آصف محمود کہتے ہیں کہ ”تعزیرات پاکستان کی دفعہ 375 کے مطابق میریٹل ریپ بھی ریپ ہی سمجھا جائے گا۔‘‘ وہ کہتے ہیں،”حدود آرڈیننس میں ریپ کی تعریف میں ازدواجی رشتے کا ذکر بطور استثنا موجود تھا لیکن بعد میں نکال دیا گیا۔ اب اگر یہ فعل کسی کی مرضی کے بغیر یا جبری طور پر کیا جاتا ہے یا موت اور جسمانی ضرر کی دھمکی سے رضامندی حاصل کی جاتی ہے تو یہ ریپ ہو گا۔‘ آصف محمود اس بات سے اتفاق کرتے ہیں کہ اس امر پر اختلافی آرا موجود ہیں کہ میریٹل ریپ کو ریپ سمجھا جائے گا یا تشدد کے باب میں دیکھا جائے گا۔ سپریم کورٹ کے شریعت اپیلٹ بینچ کے رکن اور اسلامی نظریاتی کونسل کے سابق چیئرمین ڈاکٹر خالد مسعود کہتے ہیں کہ ’’فقہ میں مرد اور عورت کی حیثیت برابری کی نہیں اس لیے ہمارے قوانین میں اسے ریپ نہیں کہا جا سکتا بلکہ یہ عورت کی ذمہ داری ہے کہ وہ مرد کی ضروریات پوری کرے۔‘‘ ان کا کہنا تھا کہ شادی کے تعلق میں عورت مرد کی ملکیت بن جاتی ہے اور جب رخصتی ہو گئی تو وہاں مرد کی اطاعت اس کے لیے لازمی ہے، اسی لیے اسے بیت الطاعة کہتے ہیں، کہ ”ایسی بہت سی مباحث ہیں جن کی وجہ سے شوہر کا بیوی سے زبردستی جنسی عمل ریپ نہیں قرار دیا جا سکتا۔‘‘
خواتین کے تحفظ اور ان کے مسائل کے حل کے لیے قائم کردہ صوبائی ادارے پنجاب کمیشن آن اسٹیٹس آف ویمن سے وابستہ قانونی مشیر آمنہ آصف کہتی ہیں کہ یہ قوانین واضح نہیں، ان میں ابہام پایا جاتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جب قانونی حوالے سے پیچیدگی موجود ہو تو عوامی سطح پر ایسے مسائل کے بارے میں بات کرنا اور ان کی تدارک کی کوششیں نہایت مشکل ہو جاتی ہیں، ”اس لیے واضح قانون سازی کی اشد ضرورت ہے۔ میریٹل ریپ کو روکنے کے لیے قانونی اور سماجی دونوں سطح پر کام کرنے کی ضرورت ہے۔‘‘
ڈاکٹر فرزانہ باری کا کہنا ہے کہ اس معاملے میں نصاب اور میڈیا اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ نصاب میں یہ چیزیں کسی نہ کسی سطح پر شامل ہونی چاہیں، اس سے لڑکوں کو پتہ چلے گا کہ ایسا کرنا غیر انسانی رویہ اور تشدد ہے جبکہ لڑکیاں آگاہ ہوں گی کہ ان کے حقوق کیا ہیں۔ جب خواتین کو پتہ ہی نہیں ہو گا کہ یہ ان کے حقوق کی خلاف ورزی ہے تو وہ کیسے آواز اٹھائیں گی۔‘‘ وہ مزید کہتی ہیں کہ ”میڈیا نے بہت سارے حساس موضوعات کی حساسیت کم کی ہے۔ سو میریٹل ریپ کے حوالے سے پر لکھا جانا چاہیے، دکھایا جانا چاہیے، بولا جانا چاہیے۔ اس موضوع پر ٹی وی ڈرامے اور فلمیں بننی چاہییں۔ جب تک بات نہیں ہوگی، بات بنے گی نہیں۔
