پاکستان میں صحافتی آزادیاں محدود اور پابندیاں سخت

موجودہ حکومت کے برسر اقتدار آنے کے بعد سے پاکستان میں صحافتی آزادیاں ہر گزرتے دن کے ساتھ محدود کی جارہی ہیں جس کی نشاندہی اب بین الاقوامی صحافتی تنظیمیں بھی کر رہی ہیں۔
دنیا بھر میں آزادی اظہار کو یقینی بنانے کے لئے کام کرنے والی تنظیم رپورٹرز ودآؤٹ بارڈرز یعنی آر ایس ایف نے ورلڈ پریس فریڈم انڈیکس یعنی آزادی صحافت کی فہرست برائے سال 2020 جاری کردی ہے جس کے مطابق پاکستان 180 ممالک میں سے مزید 3 درجے تنزلی کے ساتھ 145 نمبر پر پہنچ گیا ہے جس کی بنیادی ذمہ داری پاکستانی فوجی اسٹیبلشمنٹ پر عائد ہوتی ہے۔
خیال رہے کہ یہ رپورٹ ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب پاکستان کے سب سے بڑے میڈیا گروپ جنگ /جیو کے ایڈیٹر ان چیف میر شکیل الرحمن کی نیب کے ہاتھوں 34 برس پرانے ایک من گھڑت پراپرٹی کیس میں گذشتہ کئی ہفتوں سے بلا جواز نیب کی زیر حراست ہیں۔ صحافتی، سیاسی ، قانونی اور سماجی حلقوں میں یہ رائے پائی جاتی ہے کہ میر شکیل کی گرفتاری اسی جابرانہ حکومتی پالیسی کا تسلسل ہے جس کے تحت پچھلے 20 ماہ سے آزاد میڈیا کی آواز کو مسلسل دبایا جارہا ہے۔
بین الاقوامی میڈیا تنظیم کمیٹی ٹو پروٹیکٹ جرنلسٹس اور ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان سمیت رپورٹرز ود آئوٹ بارڈرز بھی میر شکیل کی گرفتاری کی مذمت کرچکا ہے اوراسے پریس کی زبان بندی کا حربہ قراردیا ہے۔ میڈیا کی آزادی پر یقین رکھنے والوں کا کہنا ہے کہ جب پاکستان کے سب سے بڑے میڈیا گروپ کے سربراہ کے ساتھ یہ سلوک روا رکھا جائے گا تو باقی چھوٹے میڈیا گروپس کس کھیت کی مولی ہیں۔ یہ پاکستان کی واحد حکومت ہے جس کے اقتدار میں آنے کے بعد سے اپنائی جانے والی میڈیا دشمن پالیسیوں سے پانچ ہزار سے زائد میڈیا ملازمین بے روزگار ہو چکے ہیں اور اخبارات اور نیوز چینلز بند ہو رہے ہیں۔
موجودہ حکومت کی میڈیا مخالف سوچ کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ اب اس نے ایف آئی اے اور پیمرا کے بعد نیب کو بھی میڈیا کے خلاف استعمال کرنا شروع کر دیا ہے۔ رپورٹرز ود آؤٹ بارڈرز کی جاری کردہ تازہ فہرست میں صحافتی پابندیوں کے حوالے سے سب سے پہلا نمبر ناروے کے پاس ہے جس کے بعد دیگر اسکینڈے نیوین ممالک آتے ہیں جبکہ فہرست کے سب سے نچلے درجے پر شمالی کوریا براجمان ہے۔ اس سال چین کا نمبر 177واں ہے۔ خطے کے دیگر ممالک جن کے درجے میں صحافتی آزادیوں کے حوالے سے مذید تنزلی آئی ان میں بھارت کی رینکنگ گزشتہ برس کے 140 سے کم ہو کر 142 پر آ گئی، ایران کی پوزیشن 173 اور افغانستان کی 122ویں درجے پر آگئی ہے۔
آر ایس ایف کے مطابق پاکستان میں میڈیا اداروں کو سرکاری اشتہارات بند کرنے کی دھمکی سے ڈرایا جاتا ہے اور جو ٹی وی چیننلز اپوزیشن نمائندوں کو کوریج دیتے ہیں ان کے ٹرانسمیشن سگنلز بلاک کر دئیے جاتے ہیں۔ آر ایس ایف کا کہنا تھا کہ اسی طرح جو صحافی فوج کی ریڈ لائن میں داخل ہونے کی جرآت کرتے ہیں انہیں ہراسانی کی مہم کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔آر ایس ایف نے مزید کہا کہ روایتی میڈیا کو زیر کرنے کے بعد پاکستانی فوجی اسٹیبلشمنٹ اپنی نظر میں ناپسندیدہ مواد کو انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا سے بھی صاف کرنے لگی ہے، حد تو ی ہے کہ حکومت آن لائن ’قواعد‘ نافذ کرنا چاہتی ہے جس کا واضح مطلب مذید سینسر شپ ہے۔
دوسری جانب صحافیوں کو فیلڈ میں بدستور خطرات کا سامنا ہے بالخصوص بلوچستان اور خیبرپختونخوا میں جہاں رپورٹرز سیکیورٹی فورسز اور عسکریت پسندوں کے مابین ہونے والے فائرنگ کے تبادلے کا شکار ہوجاتے ہیں۔ رپورٹ میں کہاگیا کہ 2019 میں رپورٹنگ کرتے ہوئے 4 صحافی قتل ہوئے جبکہ ایک صحافی کو 2020 میں قتل کیا گیا اور تقریباً ایک دہائی سے یہ صورتحال ہے کہ صحافیوں کے خلاف جرائم اور مجرموں کو مکمل استثنیٰ حاصل ہے۔ آر ایس ایف کا مزید کہنا تھا کہ پاکستانی میڈیا جو کہ روایتی طور پر ایک طویل عرصے تک آزاد تھا اب ملک کی ’ڈیپ اسٹیٹ‘ کا ترجیحی ہدف بن چکا ہے۔
اپنی رپورٹ میں آر ایس ایف نے مزید کہا کہ جولائی 2018 میں جب سے عمران خان ملک کے وزیراعظم بنے ہیں فوجی اسٹیبلشمنٹ کے اثر رسوخ میں ڈرامائی طور پر اضافہ ہوا ہے، اور سخت میڈیا سینسر شپ کے واقعات میں تیزی سے اضافہ ہوا یے۔ فوج نے میڈیا پر دباؤ کے لیے مختلف طریقے استعمال کیے، اخبارات بالخصوص روزنامہ ڈان کی ترسیل میں مداخلت کی گئی اور ڈان نیوز چینل کی نشریات بھی روکے جانے کے واقعات سامنے آئے ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button