پاکستان میں صوبائی بجٹوں سے زیادہ وفاقی بجٹ پر نظریں کیوں؟

پاکستان میں گزشتہ چند روز کے دوران میڈیا سے عام آدمی کی سطح تک ہونے والی تقریباً ہر گفتگو کا محور آئندہ مالی سال 22-2021 کا وفاقی بجٹ رہا، جو وفاقی وزیر برائے خزانہ شوکت ترین آج شام چار بجے قومی اسمبلی میں پیش کریں گے۔
وفاقی بجٹ کے بعد ماہ رواں کے دوران ہی صوبائی حکومتیں بھی آئندہ مالی سال کے بجٹ منظوری کےلیے اپنی اپنی اسمبلیوں کے سامنے رکھیں گی۔ تاہم وفاقی اکائیوں کے بجٹوں کے حوالے سے عوامی سطح پر اتنے بحث مباحثے اور ماہرین کی آراء دیکھنے کو نہیں ملتے، جن کا مشاہدہ ہم وفاقی بجٹ سے پہلے کرتے ہیں۔ عوام اور میڈیا کی صوبائی حکومتوں کے منی بلز سے وفاقی بجٹ میں نسبتاً زیادہ دلچسپی سے سوال اٹھتا ہے کہ پاکستان کے فیڈریشن ہونے اور 18ویں آئینی ترمیم کے ذریعے اختیارات اور وسائل کے صوبوں کو منتقلی کے باوجود ایسے رجحان کی کیا وجہ ہو سکتی ہے؟
معاشی امور پر لکھنے والے صحافی ذیشان حیدر کا کہنا تھا کہ آئیڈیل صورت حال میں صوبوں کی پالیسیوں اور خصوصاً بجٹ کی اہمیت وفاقی بجٹ کی نسبت زیادہ ہونا چاہیے، لیکن ایسا ہے نہیں، ان کے بقول اس کی وجہ یہ ہے کہ ’واقعتاً صوبوں کے بجٹ عام آدمی کو زیادہ متاثر نہیں کرتے، جب کہ وفاقی بجٹ ہماری زندگیوں پر براہ راست اثر ڈالتا ہے۔‘ یاد رہے کہ سال 2010 میں پاکستانی پارلیمان کے دونوں ایوانوں نے 1973 کے آئین میں 18ویں ترمیم منظور کی جس کے ذریعے دوسرے کئی اقدامات کے علاوہ صوبائی خودمختاری کی روح کے مطابق کئی محکمے اور وزارتیں وفاقی حکومت سے صوبوں کو منتقل کر دی گئیں۔ صوبوں کو منتقل ہونے والی وزارتوں میں تعلیم، صحت، سیاحت، مذہبی امور، امور نوجوانان، ترقی خواتین، آرکیالوجی، سیاحت، لوکل گورنمنٹ، اقلیتوں کے امور، سماجی بہبود اور خصوصی تعلیم وغیرہ شامل ہیں۔ وزارتوں کا صوبوں کو منتقلی کا مقصد ہر وفاقی اکائی کو وفاقی حکومت کی دخل اندازی کے بغیر اپنے وسائل اپنی عوام کی خواہشات اور امنگوں کے مطابق استعمال کرنے کا موقع اور حق فراہم کرنا تھا۔ 18ویں ترمیم کے ذریعے صوبوں کو اختیارات کی منتقلی کے باوجود وفاقی حکومت کا پلڑا بھاری نطڑ آتا ہے، اور ایسا ان شعبوں میں بھی ہے جو اسلام آباد سے لاہور، کراچی، پشاور اور کوئٹہ کے حوالے کر دیے گئے ہیں۔ اس سلسلے میں کورونا وائرس کی وبا کے دوران وفاقی حکومت کا پالیسیاں بنانا اور صوبوں کو ان پر عمل کرنے کےلیے مجبور کرنا مثال کے طور پر استعمال کیا جا سکتا ہے۔ اسی طرح تعلیم کا شعبہ 18ویں ترمیم کے تحت صوبوں کو منتقل ہونے والے شعبوں میں شامل ہے، لیکن وفاقی حکومت پورے ملک کےلیے یکساں نصاب متعارف کرانے کا پلان بنا رہی ہے۔ معاشی امور پر لکھنے والے اسلام آباد کے معروف صحافی مہتاب حیدر کا کہنا ہے کہ ابھی وفاقی حکومت کا اثر رسوخ بہت زیادہ ہے، اور یہی وجہ ہے کہ صوبے کاغذی طور پر خود مختار ہونے کے باوجود اسلام آباد کی طرف ہی دیکھتے ہیں۔ ذیشان حیدر کے خیال میں ملکی وسائل وفاقی حکومت کے پاس آتے ہیں اور وہاں سے صوبوں میں تقسیم ہوتے ہیں، اور شاید یہی امر صوبوں کو نفسیاتی طور پر کم مائیگی کا شکار کر چکا ہے۔ مہتاب حیدر کا کہنا تھا کہ صوبے وفاق کی طرف صرف وسائل کےلیے نہیں دیکھتے، بلکہ پالیسی امور پر بھی وفاقی اکائیاں ابھی تک اسلام آباد پر ہی انحصار کرتی ہیں۔ انہوں نے کہا: آپ دیکھیں کہ سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں جتنا اضافہ وفاق کرتا ہے، صوبے بھی اس کے برابر کا اعلان کرتے ہیں۔ مہتاب حیدر کے خیال میں پاکستان کی وفاقی اکائیوں میں ابھی وہ اعتماد پیدا نہیں ہو پایا جو پالیسی سازی کےلیے ضروری ہوتا ہے۔ ’صوبے اپنی ڈومین میں رہ کر فیصلے کر ہی نہیں پا رہے ہیں۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ 18ویں ترمیم کے بعد کئی ایک زرعی ٹیکس اور جی ایس ٹی کے علاوہ دوسرے کئی ٹیکس صوبوں کے پاس چلے گئے ہیں، جن میں مناسب اضافہ کر کے آمدنی بڑھائی جا سکتی ہے۔ ’لیکن ایسا دیکھنے میں نہیں آرہا جس سے محسوس ہوتا ہے کہ صوبے بھی وفاق کی طرف سے حاصل ہونے والی ایزی منی ہی کی طرف دیکھتے ہیں۔‘ صحافی اور تجزیہ کار زاہد حسین اپنے ایک مضمون میں لکھتے ہیں کہ 18ویں ترمیم کے بعد صوبوں میں استعداد کی کمی اور صوبوں اور وفاق کے درمیان کوآرڈینیشن کا فقدان بڑے مسائل کے طور پر سامنے آئے ہیں۔ ذیشان حیدر کا کہنا تھا کہ ایسی بہت سی وجوہات موجود ہیں جن کے باعث عام پاکستانی کی نظر میں وفاقی حکومت اب بھی صوبوں سے زیادہ اہم ہے، اور اس کے مسائل حل کرنے کےلیے مسیحا کا کردار ادا کر سکتی ہے۔ ’یہی وجہ ہے کہ 18ویں ترمیم کو 10 سال گزر جانے کے باوجود وفاق کے مقابلے میں صوبائی حکومتوں اور صوبائی بجٹوں کی کوئی اہمیت نہیں بن پائی ہے۔‘ مہتاب حیدر کا کہنا تھا کہ وفاقی حکومتوں کو بھی ہمیشہ سے صوبوں کے معاملات کنٹرول کرنے کی عادت رہی ہے، اور یہ سلسلہ 18ویں ترمیم کے بعد جاری رہا۔ اکثر ماہرین کے خیال میں پاکستان کو صحیح معنوں میں وفاق بنانے کےلیے آئین میں 18ویں ترمیم کے علاوہ بھی کئی اقدامات اٹھانے کی ضرورت موجود ہے، جس کے بعد ہی صوبوں کی سیاسی، آئینی اور مالی اہمیت میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ معروف ماہر معاشیات قیصر بنگالی کی رائے میں 18ویں ترمیم وفاقی طرز حکومت پر یقین رکھنے والوں کا ایک نامکمل ایجنڈا ہے، جسے بہرحال مکمل کرنا ہو گا۔ ’کاغذ پر چیزیں لکھ لینا نسبتاً آسان ہوتا ہے، لیک ان پر عمل درآمد مشکل لیکن اہم ہوتا ہے۔‘ انہوں نے کہا کہ صوبوں کو منتقل ہونے والے بڑے بڑے اداروں میں اصلاحات نہیں کی گئیں، جس کی وجہ سے وہاں کی انتظامیہ اب بھی وفاقی طرز حکمرانی کی طرز پر معاملات کو چلا رہی ہیں۔ اس سلسلے میں انہوں نے پارلیمان کے ایوان بالا یعنی سینیٹ کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ صوبوں کی برابر نمائندگی ہونے کے باوجود سینیٹ کے پاس بجٹری پاورز نہیں ہیں۔ ’سینیٹ ایک اہم ایوان ہے لیکن محض ڈیبیٹنگ سوسائٹی بن کر رہ گیا ہے۔‘ قیصر بنگالی کے خیال میں سینیٹ کی نشستوں میں اضافہ وقت کی ضرورت ہے اور خصوصاً بلوچستان جیسے چھوٹے صوبے کے سینیٹرز کی تعداد کم از کم اتنی ہونا چاہیے کہ وہ ایوان کی کارروائی پر اثر انداز ہو سکیں۔ ذیشان حیدر کا کہنا تھا کہ صوبوں کےلیے ترمیم میں بیان کردہ مالی خودمختاری پر بھی پوری طرح عمل نہیں کیا گیا، جو اگر ہو جائے تو صوبوں کی اہمیت اور افادیت میں اضافہ ہوگا۔ قیصر بنگالی نے کہا کہ 18ویں ترمیم کے منظور ہونے کے نتیجے میں صوبوں کو منتقل ہونے والی وزارتوں اور ڈویژنز کے متبادل ادارے وفاقی سطح پر قائم کر دیے گئے، جس کی وجہ سے صوبے ان شعبوں میں کام کرنے سے قاصر ہیں۔

Back to top button