پاکستان میں عوام کو مفت ویکسین کیوں دستیاب نہیں ہوئی؟

فوجی حمایت سے اقتدار میں آنے والے وزیراعظم عمران خان ابھی تک اس بات کی وضاحت نہیں کر پائے کہ ان کی زیر قیادت پاکستان دنیا کا وہ واحد ملک کیوں جہاں باقی پر حکومت وقت عوام کو مفت کرونا ویکسین فراہم نہیں کر رہی۔
امریکہ سے لیکر بنگلہ دیش تک دنیا بھر کے ممالک اپنے وسائل عوام کے لیے کرونا ویکسین خریدنے پر صرف کررہے ہیں لیکن حکومت پاکستان مختلف ممالک سے ملنے والی خیراتی ویکسین پر ہی انحصار کررہی ہے۔ تاہم ملک میں کرونا وائرس کے تیز تر پھیلاو کو روکنے میں ناکامی کے بعد حکومت نے ایک بار بھر لاک کا نفاذ کردیا ہے۔ چنانچہ اب یہاں یہ سوال بنتا ہے کہ جب حکومت کے پاس بڑے پیمانے پر ویکسین کی خریداری کا نسبتاً سستا حل موجود ہے تو وہ لاک ڈاؤن کرکے معیشت کو مزید دگرگوں کیوں کررہی ہے۔ معاشی ماہرین کے مطابق لاک ڈون لگانے سے پاکستانی معیشت کا جتنے ارب کا روزانہ نقصان ہو رہا ہے اتنا کرونا ویکسین کو خریدنے سے نہیں ہو گا لہازا دنیا کے دیگر ممالک کی طرح پاکستان کو بھی ویکسین کی خریداری میں مذید تاخیر نہیں کرنی چاہیئے۔
پاکستان سمیت دنیا بھر میں موجود ماہرینِ صحت کا کہنا ہے کہ ہاتھ دھونے، ماسک لگانے، سماجی فاصلے کا خیال رکھنے اور پُرہجوم جگہوں پر نہ جانے جیسی ایس او پیز کا خیال رکھ کر وائرس کے پھیلاؤ کو روکا تو جاسکتا ہے لیکن اس کو ختم کرنے اور عام زندگی کی جانب لوٹنے کےلیے بڑے پیمانے پر ویکسینیشن کی ضرورت ہے۔ اسی وجہ سے اکثر ممالک نے بڑے پیمانے پر ویکسینیشن کے پروگرام شروع کردیے ہیں۔ ان ممالک میں لاکھوں اور کروڑوں کی تعداد میں ویکسین لگ چکی ہیں۔ ان ممالک میں جہاں یہ عمل شروع ہوچکا ہے وہاں اس مہلک وائرس کے پھیلاؤ میں واضح کمی دیکھنے میں آئی ہے۔ لیکن افسوس کہ پاکستان میں ہمیں صرف چند لاکھ خوراکوں کا ’تحفہ‘ ملا ہے۔ کہا جارہا ہے کہ ویکسین خریداری کے کچھ معاہدے کیے جارہے ہیں اور حکومت نے کئی پرائیویٹ کمپنیوں کو بھی ویکسین خرید کر پاکستان لانے کی اجازت دیدی ہے۔ تاہم سوال یہ ہے کہ پاکستان کی کتنے فیصد آبادی یہ مہنگی ویکسین خریدنے کی مالی استطاعت رکھتی ہے اور دنیا کے دیگر ممالک کی طرح پاکستانی حکومت اس عوامی ذمہ داری سے مبرا کیوں ہو گئی ہے۔
یاد رہے کہ پاکستان کی کل آبادی 22 کروڑ ہے اور اب تک ملک بھر میں ویکسین کی کل 10 لاکھ خوراکیں بھی نہیں لگائی گئیں۔ اگر ہم یہ مان لیں کہ ہماری نصف آبادی نوجوانوں پر مشتمل ہے جن کےلیے کروں وائرس نسبتاً کم مہلک ثابت ہوتا ہے پھر بھی ملک کی تقریباً 10 کروڑ آبادی ایسی ہے جسے ویکسین کی ضرورت ہے۔
اسوقت کرونا وائرس کی تیسری لہر اپنے پھیلاؤ اور اس سے ہونے والی اموات کے حوالے سے بہت ذیادہ خطرناک ثابت ہو رہی ہے۔ کپتان حکومت اپنے طور پر پابندیاں تو عائد کر رہی ہے لیکن وائرس کی اس تیسری لہر کا زور بڑھتا چلا جا رہا ہے جس کا مقابلہ صرف لوگ ڈاؤن سے کرنا ممکن نہیں ہے بلکہ دنیا کے باقی ممالک کی طرح پاکستان میں بھی عوام کو ویکسین لگانے پڑے گی۔
ویسے بھی لاک ڈاؤن کی معاشی قیمت ویکسین کی قیمت سے بہت ذیادہ ہے۔ وزیرِاعظم عمران خان بارہا یہ بات دہرا چکے ہیں کہ ہم مکمل لاک ڈاؤن برداشت نہیں کرسکتے۔ لیکن یہ بھی سچ ہے کہ جزوی لاک ڈاؤن کی بھی بھاری قیمت ہوتی ہے جو کہ ویکسین کی خریداری اور اسے لگانے کی قیمت سے بھی زیادہ مہنگی پڑتی ہے۔ مدعا یہ ہے کہ لوگوں کی صحت کے تحفظ کا سب سے سستا حل صرف اور صرف بڑے پیمانے پر ویکسینیشن یے۔ ماہرین صحت کہتے ہیں کہ جس وقت کرونا وائرس کو کنٹرول کرنے کا کوئی اور ذریعہ نہیں تھا تب تو لاک ڈاؤن قابلِ قبول تھا لیکن اب، جب کہ ایک سستا حل موجود ہے تو پھر لاک ڈاؤن کیوں لگائے جائیں؟
سوال یہ بھی ہے کہ حکومت پاکستان ویکسین کی خریداری میں تاخیر۔کیوں کررہی ہے؟ کیا کپتان حکومت نے اپنی امیدیں دیگر ممالک سے ملنے والی امدادی ویکسین سے باندھی ہوئی ہیں؟ یا پھر اسکا منصوبہ ہی یہ ہے کہ خود ویکسین پر خرچہ کرنے کے بجائے عوام کو مجبور کیا جائے کہ وہ اپنی جیب سے ویکسین خریدیں؟ ناقدین کہتے ہیں کہ انتظامی اور فیصلہ سازی کی صلاحیت رکھنے والی کوئی بھی حکومت اس طرح کام نہیں کرتی جیسے کپتان حکومت کر رہی ہے۔ انکا کہنا ہے کہ اگر کرونا وائرس کا پھیلاؤ روکنے کے لیے اقدامات نہ کیے گئے تو لاک ڈاؤن کا سلسلہ طویل ہوتا چلا جائے گا جس کے نتیجے میں پاکستان کو جتنا معاشی نقصان ہوگا اس کی نسبت بہت کم خرچ میں حکومت عوام کے لیے ویکسین خرید سکتی ہے۔
