پاکستان میں غدار سرکاری اعزاز سے کیوں دفنائے جاتے ہیں؟

پاکستان کے نیوکلیئر پروگرام کے بانی ذوالفقار علی بھٹو شہید کو غدار وطن قرار دینے والوں کو آئینہ دکھاتے ہوئے سینئر صحافی مظہر عباس نے کہا ہے کہ جناح کا پاکستان ایک ایسا ملک بن چکا ہے جہاں ایک وطن پرست وزیراعظم کو پھانسی دے دی جاتی ہے اور ملکی آئین توڑنے والے فوجی آمر کو سرکاری اعزاز کے ساتھ دفن کیا جاتا ہے۔
اپنے تازہ سیاسی تجزیے میں مظہر عباس کہتے ہیں کہ جہاں بچوں کو جمہوریت کے نقصانات اور آمریت کے فوائد پڑھائے اور بتائے جاتے ہوں، جہاں نصاب میں سے جمہوری تحریکیں غائب ہوں، وہاں ذوالفقار علی بھٹو ’’غدار‘‘ ہی کہلائے گا۔ یہاں جنرل ضیا جیسے آئین شکنوں کو محب وطن کہا جاتا ہے جنہیں مرنے کے بعد پورے سرکاری اعزازکے ساتھ دفنایا جاتا ہے اور آئین بنانے والے بھٹو کو ایک عدالت کے ذریعہ پھانسی چڑھا دیا جاتا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ اب دیکھیں نا اس سے بڑی ملک سے ’’غداری‘‘ اور کیا ہوسکتی ہے کہ امریکہ بھٹو سے کہتا رہا کہ اپنا ایٹمی پروگرام ترک کردو مگر اس نے انکار کردیا۔ اس کو دھمکی دی گئی کہ تمہیں ’’نشان عبرت‘‘ بنا دیا جائے گا مگر اس پر ایک جنون سوار تھا۔ بھٹو نے ایک دن ملتان میں ملک کے جونیئر اور سینئر سائنس دانوں کو جمع کیا اور پوچھا، ’’ہم کتنے سالوں میں ایٹم بم بنا سکتے ہیں‘‘۔ سب اس سوال پر حیران رہ گئے۔ کسی نے کہا دس سال تو کسی نے پانچ سال۔ وہ کھڑا ہوا اور ہاتھ بلند کرکے تین انگلیوں کے اشارے سے کہا، ’’مجھے تین سال میں چاہئے‘‘۔ مظہر عباس کے مطابق یہ واقعہ کتابوں میں بھی درج ہے اور میں نے ذاتی طور پر ڈاکٹر ثمر مبارک اور ڈاکٹر عبدالقدیر خان سے تصدیق بھی کی۔ کسی نے اس میٹنگ میں سوال کیا کہ اس منصوبے کے لیے پیسہ کہاں سے آئے گا تو بھٹو نے جواب دیا، ’’یہ آپ کا مسئلہ نہیں ہے‘‘۔ پھر وہ عرب ممالک کے دوروں پر نکل گے اور واپس آکر خوش خبری دی کہ ایٹمی پروگرام تیزی سے مکمل کیا جائے، پیسے کا انتظام ہوگیا ہے۔ اب ایسا خطرناک آدمی ’’غدار‘‘ ہی کہلائے گا۔ کبھی میں سوچتا ہوں کہ اس نے تین سال کیوں کہے تھے۔ شاید اسے پتا تھا کہ اس کے پاس وقت کم ہے۔ بعد میں آنے والوں نے اس میں اپنا اپنا حصہ ضرور ڈالا مگر’’پھانسی‘‘ وہی چڑھا۔
مظہر کے مطابق بھٹو امریکہ کے لئے بہت بڑا خطرہ بن چکا تھا۔ اسے نظر آرہا تھا کہ یہ زندہ رہ گیا تو کئی عرب اور اسلامی اور تیسری دنیا کے ممالک اس راہ پر چل پڑیں گے۔ وہ امریکی اتحاد سیٹو اور سینٹو سے نکل کر غیرجانبدار تحریک کا حصہ بن گیا تھا۔ چین سے دوستی کی نہ صرف بنیاد رکھی بلکہ پاکستان میں بھی ’’اسلامی سوشلزم‘‘ کا نعرہ لگایا، عوام کو شعور دیا، روس کی مدد سے پاکستان میں اسٹیل کی بنیاد رکھی۔ یہ سب اس امریکہ کے لئے خطرہ کی گھنٹی تھی جس نے قیام پاکستان کے فوراً بعد ہمیں اپنا اتحادی بنالیا تھا۔ بائیں بازو کی تحریکوں سے خوف زدہ امریکہ نے اس وقت یہاں انہیں کچلنے کے لئے ہمارے ہی حکمرانوں کو استعمال کیا اور دائیں بازو کو مضبوط کیا۔ آخر میں اتحادیوں اور کچھ بائیں بازو کی جماعتوں سے مل کر بھٹو کو اقتدار سے بے دخل کردیا۔ مظہر کہتے ہیں کہ بھٹو سے سیاست میں بے شمار غلطیاں بھی ہوئیں۔ لیکن غلطیاں کس سے نہیں۔ لیکن بھٹو کو کریڈٹ جاتا ہے کہ وہ ایک غیرجانبدار اور آزاد خارجہ پالیسی کے کر چلے۔اب یہ ’’غداری‘‘ نہیں تو اور کیا ہے کہ بھٹو نے عربوں کو تیل بطور ہتھیار استعمال کرنے کا مشورہ دیا، تیسری دنیا کے ممالک کو متحد کیا۔ لاہور میں تاریخی اسلامی سربراہی کانفرنس میں شاہ فیصل سے حافظ الاسد، کرنل قذافی سے لے کر شاہ حسین اور یاسر عرفات کو ایک پلیٹ فارم پر لاکر امریکہ اور مغرب کو واضح پیغام دیا۔ اس کی سزا تو اسے ملنا تھی سو ملی بھی۔
مظہر عباس کہتے ہیں کہ بھٹو امریکہ کے لئے بڑا خطرہ بن چکا تھا۔ لہٰذا آخری وارننگ کے لئے امریکی وزیر خارجہ ہنری کسنجر کو بھیجا گیا۔ میں نے چند سال پہلے یہاں موجود ایک سینئر امریکی سفارت کار سے انٹرویو میں اس واقعہ کی تفصیل پوچھی تھی کیونکہ وہ ملاقات میں موجود تھے۔ ’’امداد یا عبرت کا نشان‘‘ کچھ ایسی ہی بات ہوئی تھی۔ایسے ہی نہیں اس ایٹم بم کو ’’اسلامی بم‘‘ کہا گیا اس میں بڑے بڑے عرب ممالک کی امداد شامل ہے اور یہ اسی کا کارنامہ تھا جو پچاس سال بعد بھی مخالفین کے اعصاب پر سوار ہے۔ مظہر کہتے ہیں کہ اس ’’غدار‘‘ کو ایٹم بم کے خالق ڈاکٹر قدیر نے میرے ساتھ ایک انٹرویو میں محب وطن ٹھہرایا اور بڑے تیقن سے کہا ’’میں نے اس سے زیادہ محب وطن شخص نہیں دیکھا‘‘۔ میں تو اس کی جاں بخشی کے لئے خفیہ طور پر اس وقت ترکی گیا اور وہاں کے صدر سے درخواست کی کہ اس شخص کو بچالیں اسلامی دنیا کو اس کی ضرورت ہے۔ انہوں نے جنرل ضیاء کو فون بھی کیا مگر یہ بھی کہا یہ شخص بھٹو کو معاف نہیں کرے گا‘‘۔
مظہر کہتے ہیں کہ ہمارے بڑے بڑے طاقتور فوجی آمر امریکہ کے سامنے جھک گئے اتحادی بنے رہے، اشاروں پر چلتے رہے مگر بھٹو کھڑا رہا اور راول پنڈی کے راجہ بازار میں کھڑے ہوکر کسنجر کا خط لہرا کر کہا، ’’امریکہ ایک سفید ہاتھی ہے جو میرے خون کا پیاسا ہو چکا ہے‘‘۔
مظہر کے مطابق بھٹو کا کمال وژن تھا۔ انہوں نے 1977 میں ایک تقریب میں اس خطے میں آنے والی تبدیلیوں کے بارے میں قبل از وقت بتاتے ہوئے کہا تھا کہ ایران میں اسلامی انقلاب آئے گا، روس افغانستان پر حملہ کردے گا اور پاکستان میں مذہبی انتہا پسندی بڑھے گی۔
مظہر عباس کے مطابق بھٹو نے ایک ’’غداری‘‘ اور بھی کی تھی اور وہ تھی اس ملک کو ایک متفقہ آئین دینے کی۔ اس کے بدترین مخالفین نے بھی اس پر دستخط کئے۔ آج اگر پاکستان میں قانونی اور آئینی تعریف ’’غداری‘‘ کی موجود ہے تو وہ اس کے آرٹیکل 6 میں ہے۔ اب اس کو پڑھ لیں اور فیصلہ کرتے جائیں غداروں کا۔
مظہر عباس کہتے ہیں کہ مسٹر بھٹو میں بلا کی ذہانت اور فطانت تھی۔ انہیں بہت سے جدید علوم اور ان کے اظہار پر کمال مہارت حاصل تھی۔ وہ وزیر خارجہ سے بہت آگے تک گئے اور انجام کار اقتدار کے میدان کو یوں چھوڑا کے ’’جو کوئے یار سے نکلے تو سوئے دار چلے‘‘۔ ’’غدار‘‘ ہوتو ایسا ورنہ محب وطن تو بہت دیکھے ہیں۔
