پاکستان میں فرد واحد کے فیصلے،اداروں کی مداخلت قبول  نہیں

اپوزیشن لیڈر عمر ایوب کاکہنا ہے کہ پاکستان میں فرد واحد کے فیصلے اور اداروں کی مداخلت قبول  نہیں کریں گے ۔

اڈیالہ جیل کے باہر پریس کانفرنس کرتے ہوئے اپوزیشن لیڈر عمر ایوب کاکہنا تھا کہ کشمیریوں کے حق پر وفاقی حکومت اور شہبازشریف نے ضرب لگائی۔ آئی جی پنجاب ایک ٹاؤٹ اور ظالم ہے اس کیخلاف قانونی چارہ جوئی کرنے جارہے ہیں۔ پی ٹی آئی مرکزی سیکرٹریٹ پر اسلام آباد پولیس کے چھاپے کے حوالے سے اقوام متحدہ نے اپنی رپورٹ میں لکھا ہے۔ قانون نافذ کرنے والے ادارے خود پر ریاست کا لبادہ نہیں اوڑھ سکتے ۔

عمر ایوب کا مزید کہنا تھا کہ    16دسمبر 1971 کو پاکستان دو حصے ہوئے اور یہ فیصلہ جنرل یحی خان کا تھا، آج بھی پاکستان میں فرد واحد فیصلے کر رہا ہے۔ اس کے بھی نقصانات ہوں گے، ایک ادارے کو سیاست میں مداخلت نہیں کرنی چاہئے اس سے ملک کو نقصان ہو رہا ہے۔

اپوزیشن لیڈر کاکہنا تھا کہ حماد اظہر اور میاں اسلم اقبال کو اگر گرفتار کیا گیا تو اسمبلی کے اندر مذمت کریں گے، ہمارا پورے پاکستان میں پرامن احتجاج ہوگا، اگر میاں اسلم اقبال سے دباو پر کسی قسم کا بیان لیا گیا ہم نہیں مانیں گے، حماد اظہر اور میاں اسلم اقبال قانونی کاروائی مکمل کریں اور پارٹی کو لیڈ کریں۔

عمر ایو ب کاکہنا تھا کہ  6 ججز نے چیف جسٹس آف پاکستان اور سپریم جوڈیشل کونسل کو مداخلت کے حوالے سے لکھا۔ پاکستان کی معیشت کی کشتی ڈوب رہی ہے، شرح سود کم نہیں ہو رہا، گندم کے اسکینڈل ساڑھے 4 سو ارب کا تھا، کسانوں کے ساتھ زیادتی کی گئی۔ فارم 47 والی حکومت پاکستان کے موجودہ صورتحال کی ذمہ دار ہے۔ ہماری خواتین بڑی تعداد میں جیلوں میں ہیں۔ یاسمین راشد کی طبعیت خراب ہوئی ان کو ہسپتال منتقل کیا گیا۔

اپوزیشن لیڈر کاکہنا تھا کہ بشری بی بی کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں ان کو بھی سزا دی گئی واضح کر دیں کہ بشری بی بی بانی پی ٹی آئی کی کمزوری نہیں ہیں

Back to top button