پاکستان میں نایاب جانوروں کی کھال اوراعضا کا کاروبارعروج پر


گلگت بلتستان کا محکمۂ جنگلی حیات آج کل برفانی تیندوے کے ان دو بچوں کی تلاش میں ہے جن کی ماں کو حال ہی میں ہلاک کر کے اس کی کھال فروخت کرنے کی کوشش کرنے والے دو افراد کو قید کی سزا سنائی گئی ہے۔ مادہ برفانی تیندوے کی ہلاکت کا واقعہ پیش آنے کے بعد حکام کی بروقت کارروائی کے نتیجے میں اس کے ذمہ دار دو افراد کو معدومیت کا شکار برفانی تیندوے کے غیر قانونی شکاراور اس کی کھال کے کاروبار کا الزام ثابت ہونے پر پچاس، پچاس لاکھ روپے جرمانہ اور دو سال قید کی سزا سنائی گئی ہے۔ جرمانہ ادا نہ کرنے پر مجرموں کو ایک سال مزید قید کی سزا بھگتنا ہو گی جبکہ دو مجرموں کو معاونت کرنے پر ایک ایک سال قید کی سزا سنائی گئی ہے۔
ڈسٹرکٹ فارسٹ آفیسر وائلڈ لائف ہنزہ، نگر اور خنجراب نیشنل پارک جبران حیدر کے مطابق دورانِ تفتیش ان ملزمان نے بتایا کہ ہلاک کی گئی مادہ برفانی تیندوا تقریباً ایک ماہ عمر کے دو تیندووں کی ماں تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ ماں سے محروم ہونے والے یہ بچہ تیندوے اب کسی مدد کے بغیر زندہ نہیں رہ سکتے۔ چنانچہ محکمۂ جنگلی حیات نے ضلع نگر میں اس مقام پر جہاں مادہ تیندوے کو ہلاک کیا گیا تھا، ان دو بچوں کی تلاش کے لیے کیمپ لگا رکھا ہے مگر ابھی تک ان کا کوئی سراغ نہیں ملا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’اگر ہمیں وہ تیندوے مل گئے تو انھیں برفانی تیندووں کی مدد کے لیے قائم ریلیف سنٹر منتقل کر دیا جائے گا‘۔
یاد رہے کہ برفانی تیندوا پاکستان کے زیر انتظام کشمیر، گلگت بلتستان اور چترال وغیرہ میں پایا جاتا ہے۔ مختلف بین الاقوامی سروے کے مطابق اس کی پاکستان میں کل آبادی 450 ہے جس کا ساٹھ فیصد گلگت بلتستان میں ہیں۔ گذشتہ برسوں میں گلگت بلتستان اور پاکستان کے دیگر علاقوں میں برفانی تیندووں کی آبادی بڑھی ہے لیکن اس کے باوجود انھیں لاحق خطرات کم نہیں ہوئے ہیں۔ جبران حیدر نے بتایا کہ انھیں ایک ذریعے سے اطلاع ملی کہ ایک برفانی تیندوے کا شکار کیا گیا ہے۔ ’ہم نے ابتدائی معلومات حاصل کیں تو پتا چلا کہ فیس بک پر موجود بلیک مارکیٹ کے لوگوں کے ایک گروپ میں ایک شخص برفانی تیندوے کی کھال فروخت کرنے کی کوشش کر رہا ہے‘۔ ان کا کہنا تھا کہ ’مجرم نے فیس بک پر اپنی شناخت نہیں دی تھی جبکہ جو تصاویر دے رکھی تھیں اس میں ماسک استعمال کیا ہوا تھا۔ اس وجہ سے ہمارے لوگوں نے تفتیش کا دائرہ وسیع کرتے ہوئے اس تک پہچنے کے لیے خریدار کا روپ دھارا۔ فیس بک کے ذریعے ہی سے رابطہ قائم کیا اور اس کا نمبر لیا‘۔
جبران حیدر کے مطابق اس موقع پر محکمہ وائلڈ لائف قانون نافذ کرنے والے اداروں کی مدد سے نمبر کے مالک تک پہنچا تو پتا چلا کہ یہ نمبر کسی اور کے نام پر جعلسازی سے حاصل کیا گیا ہے۔ اس کے بعد جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے سے کھال بیچنے والے شخص کے ماسک والی تصاویر کے خاکے تیار کروائے گئے جن کی مدد سے مجرم کی شناخت ضلع نگر کے دور دراز علاقے سے تعلق رکھنے والے سلیم نامی شخص کی حیثیت سے ہوئی۔ جس کے بعد ایف سی، پولیس اور محکمہ وائلڈ لائف گلگت بلتستان کے اہلکاروں کی مدد سے چھاپہ مار کر ملزم کو گرفتار کر لیا گیا۔
دوران تفتیش ملزم نے بتایا کہ وہ اور اس کا ایک اور ساتھی سلاجیت کی تلاش میں پہاڑوں پر گئے تھے جہاں ایک غار میں مادہ برفانی تیندوا اپنے دو بچوں کے ساتھ موجود تھی۔ چنانچہ حملہ ہونے پر انھوں نے اپنی جان بچانے کے لیے اس کو گولی مار کر ہلاک کر دیا اور بعد میں فائدہ حاصل کرنے کے لیے اس کی کھال اتار لی۔ جبران حیدر کا کہنا تھا کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ سلاجیت اور دیگر معدنیات حاصل کرنے والے اکثر پہاڑوں اور جنگلات میں جاتے ہیں جہاں اکثر ان کا سامنا برفانی تیندووں اور دیگر جنگلی حیات سے ہوتا ہے مگر جنگلی جانور اس وقت تک انھیں نقصان نہیں پہنچاتے جب تک انھیں اپنی جان کا خطرہ نہ ہو۔ ان کا کہنا تھا کہ ’ویسے بھی جو ثبوت ہمیں ملے ہیں ان کے مطابق برفانی تیندوے کو غار کے اندر فائرنگ کر کے ہلاک کیا گیا ہے‘۔
جبران حیدر کا کہنا تھا کہ ملزمان نے تیندوے کی کھال محفوظ کرنے کے لیے ضلع ہنزہ کے ایک ٹیکسیڈرمسٹ کو دی تھی جہاں سے وہ برآمد کر لی گئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کھال کے علاوہ مجرموں کے پاس ہلاک کی جانے والی مادہ کی تصاویر بھی برآمد ہوئی ہیں۔ جبران حیدر کا کہنا تھا کہ ’گرفتاری سے قبل مجرم سے فون پر جو سودا کیا جا رہا تھا اس میں وہ کھال کے ساڑھے تین لاکھ روپے مانگ رہا تھا اور میرے خیال میں گلگت بلتستان میں برفانی تیندوے کے کھال کی یہی قیمت ہے۔ اس کی اصل مارکیٹ پاکستان کے بڑے شہروں میں ہے جہاں پر مختلف غیر سرکاری اداروں کے سروے کے مطابق اس کی قیمت آٹھ سے دس لاکھ روپے تک جاتی ہے کیونکہ اسے امیر اور شوقین لوگ سجاوٹ کے لیے استعمال کرتے ہیں‘۔
جنگلی حیات سے وابستہ ماہرین کا اگر اس طرح نایاب جانوروں کا غیر قانونی کاروبار جاری رہا تو پھر جنگلی حیات کے تحفظ میں مزید مشکلات پیش آسکتی ہیں کیونکہ ان جانوروں کی صرف کھالوں کا کاروبار نہیں ہوتا بلکہ ان کے دیگر اعضاء کھالوں سے بھی مہنگے داموں فروخت ہوتے ہیں۔ جنگلی حیات کے تقریباً سارے ہی اعضاء کی سب سے بڑی مارکیٹ چین ہے جبکہ پاکستان، انڈیا، بنگلہ دیش اور دیگر ممالک کے طریقہ علاج میں بھی ان کو استعمال کیا جاتا ہے۔ ترقی یافتہ ممالک میں جنگلی حیات کے غیر قانونی کاروبار کے حوالے سے سخت قوانین موجود ہیں اور ان کی قانون نافذ کرنے والی ایجسنیاں بھی اس حوالے سے حساس ہیں، مگر وہاں پر بھی یہ کاروبارکسی نہ کسی طرح چل رہا ہے۔ لیکن پاکستان جیسے ترقی پذیر ملک جہاں پر قوانین زیادہ سخت نہیں ہیں، وہاں پر تو ہر ایرا غیر اس کاروبار میں شامل ہو رہا ہے۔ یہ کاروبار جرائم پیشہ عناصر کے لیے بھی آسان کام بن چکا ہے جس میں پاکستان جیسے ملک میں ان کے لیے زیادہ خطرات بھی موجود نہیں ہیں۔ یاد رہے کہ کچھ عرصہ قبل ڈبلیو ڈبلیو ایف پاکستان کے جنگلی حیات کے غیر قانونی کاروبار پر سروے میں انکشاف ہوا تھا کہ اگر آپ پیسے خرچ کرنے کو تیار ہوں تو کراچی کی ایمپریس مارکیٹ، لاہور کے ٹھوکر نیاز بیگ، پشاور کی نمک منڈی، خیبر بازار اور راولپنڈی کے کالج روڈ کے علاقوں میں ہر قسم کی جنگی حیات کے اعضاء اور کھالیں دستیاب ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button