پاکستان میں وبا کے دوران دہشتگردی کیوں بڑھ رہی ہے؟

پاکستان میں جہاں کرونا وبا اور اس کے نتیجے میں لاک ڈاؤن کے باعث ہر قسم کی سرگرمیوں میں تعطل آیا وہیں دہشت گردی میں کمی کی بجائے تشویشناک حد تک اضافہ نظر آیا ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق یکم مارچ سے 30 جون تک ملک بھر میں کل 43 دہشت گرد حملے ہوئے جن میں 58 ہلاکتیں اور 88 افراد زخمی ہوئے۔ عسکریت پسندوں کے خلاف 15 کارروائیوں کے 19 واقعات میں کل 69 ہلاکتیں ہوئیں۔ اس کے علاوہ سکیورٹی فورسز نے سات حملے کے منصوبوں کو بھی ناکام بنایا۔
غیر سرکاری تنظیم نیشنل انیشی ایٹو اگینسٹ آرگنائزڈ کرائم کی جاری کردہ رپورٹ میں کرونا وبا کے دوران دہشت گردی کے واقعات کا جائزہ لیا گیا ہے جن سے انکشاف ہوا کہ رواں سال مارچ سے پاکستان کی سکیورٹی صورت حال میں کوئی خاص تبدیلی نہیں ہوئی بلکہ مئی اور جون کے دورسن بلوچستان کے جنوب مغربی حصے اور شمالی وزیرستان میں دہشت گردی کے واقعات بڑھے۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ اگرچہ دہشت گردی کے واقعات کو وبا کے ساتھ جوڑنا مشکل ہے مگر اس سے دہشت گردوں کی صلاحیت کا پتا چلتا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں حکومتی دعوؤں کے باوجود وہ کراچی سے قبائلی علاقوں تک حملے کر سکتے ہیں۔ رپورٹ میں اس بات کا خدشہ ظاہر کیا گیا کہ عسکریت پسند وبا کے باعث پیدا شدہ صورت حال سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ بڑھتی ہوئی سماجی مشکلات، عوامی شکوے اور ریاست کی سماجی حوالے سے عوامی ضروریات کو پورا کرنے میں ناکامی، یہ سب وجوہات ہیں جن سے عسکریت پسند فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔اس کے علاوہ ایف اے ٹی ایف کے حوالے سے رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ میڈیا رپورٹ کے مطابق پاکستان کو ایف اے ٹی ایف کی جانب سے دیے گئے اقدامات میں سے آدھوں پر ابھی عمل در آمد کرنا باقی ہے جس میں کالعدم تنظیموں کے افراد کے خلاف کارروائی، مدرسہ قواعد اور کالعدم تنظیموں کی فنڈنگ شامل ہیں۔ رپورٹ کے مطابق دہشت گردوں کی مالی معاونت کے حوالے سے پاکستان کو مسئلہ ہو سکتا ہے جس کی وجہ افغانستان کے ساتھ سرحد ہے جہاں کی بیشتر معیشت ڈاکومنٹ نہیں۔
رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا کہ ایسے اشارے ملے ہیں کہ عکسری گروہ ایک بار پھر خود کو منظم کرتے ہوئے اور اپنی آپریشنل صلاحیت کو یکجا کر رہے ہیں۔ رپورٹ میں افغانستان کی صورت حال پر لکھا گیا کہ افغانستان میں ہونے والے واقعات پاکستان پر اثرانداز ہو سکتے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق طالبان اور افغان حکومت کے درمیان مذاکرات سے طالبان کا القاعدہ اور پاکستانی طالبان سے تعلق متاثر ہو سکتا ہے جس کے پاکستان پر سکیورٹی اثرات ہوں گے۔ رپورٹ میں تحریک طالبان پاکستان کوعام معافی کے حوالے سے بھی خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔ نو ہزار طالبان افغانستان سے واپس پاکستان آنا چاہتے ہیں اور ہتھیار چھوڑ کر معافی چاہتے ہیں لیکن مقامی قبائلی افراد ان کی واپسی پرآمادہ نہیں۔
دہشت گردی کے سب سے زیادہ واقعات خیبر پختونخوا میں پیش آئے۔ اس کے بعد دوسرے نمبر پر سب سے زیادہ حملے بلوچستان میں ہوئے۔ یہ حملے بلوچ لبریشن آرمی، یونائیٹڈ بلوچ آرمی اور لشکر بلوچستان نے کیے۔ بلوچستان میں بھی سکیورٹی فورسز عسکریت پسندوں کے نشانے پر رہیں۔ سات حملوں میں سے چھ سکیورٹی فورسز کے خلاف ہوئے۔ گذشتہ چار مہینوں میں چار مذہبی گروہ اور سات علیحدگی پسند قوم پرست تنظیمیں ملک میں فعال رہیں۔ ان تنظیموں میں تحریک طالبان پاکستان، جماعت الاحرار، مقامی طالبان، یونائیٹد بلوچ فرنٹ، بلوچستان لبریشن آرمی، بلوچستان لبریشن فرنٹ، بلوچستان ریپبلکن آرمی، لشکر بلوچستان، سندھو دیش لبریشن فرنٹ، سندھو دیش ریوولوشن آرمی، حزب الاحرار اور فرقہ وار مخالف گروپ متحرک رہے۔ اگرچہ اس رپورٹ پر سرکاری ردعمل سامنے نہیں آیا ہے لیکن ماہرین متفق ہیں کہ ماضی میں رد الفساد اور ضرب عضب جیسی فوجی کارروائیوں سے شدت پسندوں کی طاقت کم ہوئی ہے۔
