پاکستان میں ٹی ٹی پی اور داعش بے لگام کیوں ہو گئی؟

پاکستان میں شدت پسند اور دہشتگرد تنظیموں نے ایک بار پھر اپنے پر نکالنا شروع کر دئیے ہیں۔ شرپسندوں کیخلاف سخت کارروائیوں اور آپریشنز کے باوجود سال 2023 میں دہشتگردانہ حملوں میں 2022 کی نسبت 17 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔خیال کیا جا رہا تھا کہ پاکستان شدت پسندی کے خلاف جنگ میں کامیابی کے قریب ہے اب یہ تاثر نہ صرف ختم ہو رہا ہے بلکہ یہ پہلے سے بڑے پیمانے پر اور ملک کے زیادہ حصے کو اپنی لپیٹ میں لے چکی ہے۔آج سے دس سال پہلے تحریک طالبان پاکستان کے مختلف گروہ ریاست کے خلاف متحرک تھے مگر اب طالبان کے ساتھ داعش خراسان اور بلوچستان لبریشن آرمی کی کارروائیاں نہ صرف یہ کہ مسلسل بڑھ رہی ہیں بلکہ ملک میں 82 فیصد حملوں کے ذمہ دار یہ تینوں گروہ ہیں۔ٹی ٹی پی یعنی کالعدم تحریک طالبان پاکستان، داعش-خراسان اور بی ایل اے یعنی بلوچستان لبریشن آرمی جیسی کالعدم تنظیمیں 2023 کے دوران دہشتگردی کے واقعات کے نتیجے میں ہونے والی 82 فیصد سے زائد اموات کی ذمہ دار ہیں جبکہ 78 فیصد دہشتگرد حملوں میں ملوث نکلی ہیں۔
پاک انسٹی ٹیوٹ فار پیس اسٹڈیز پاکستان کی جاری کردہ ایک رپورٹ کے مطابق عسکریت پسندوں کے بڑھتے ہوئے حملے اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ کالعدم ٹی ٹی پی اور اس سے وابستہ تنظیمیں پاکستان پر مذاکرات کا عمل بحال کرنے کا دباؤ بڑھانے کے لیے دہشتگرد حملے جاری رکھیں گی۔
یہ رپورٹ وزارت داخلہ کی جانب سے سینیٹ کو یہ بتائے جانے کے ایک روز بعد سامنے آئی ہے کہ خیبرپختونخوا کے ضم شدہ اضلاع میں کالعدم ٹی ٹی پی کے دہشتگردوں کی مسلسل آمد اور ان کی بھرتیوں، تربیت اور خودکش بمباروں کی تعیناتی کا سلسلہ ’تشویش کا باعث‘ ہے۔ملک میں عام انتخابات کے انعقاد میں تقریباً ایک ماہ سے کچھ زائد عرصہ باقی رہ گیا ہے، ایسے وقت میں یہ انکشافات سامنے آنا انتخابی مہم اور پولنگ کے دوران انتخابی امیدواروں اور سیاسی رہنماؤں کی سیکیورٹی پر سوالات اٹھاتا ہے۔
عسکری ذرائع نے بتایا کہ افغانستان دوحہ معاہدے میں کیے گئے اپنے وعدوں کو پورا نہیں کر سکا، کالعدم ٹی ٹی پی افغانستان کو پاکستان میں دہشت گردی کی سرگرمیوں کے لیے اڈے کے طور پر استعمال کر رہی ہے۔پاک-افغان بارڈر ’غیر محفوظ‘ قرار دیا جاتا ہے، حفاظتی اقدامات کے باوجود یہ ایک زبردست چیلنج ہے، غیرقانونی نقل و حرکت پر 100 فیصد کڑی نگرانی ایک پیچیدہ عمل ہے۔
واضح رہے کہ پاکستان میں سال 2023 کے دوران کل 306 دہشت گرد حملے ہوئے، جن میں 23 خودکش بم دھماکے بھی شامل ہیں، ان حملوں میں 693 افراد جاں بحق ہوئے۔ جان سے ہاتھ دھونے والوں میں 330 سیکیورٹی اہلکار، 260 عام شہری، اور 103 عسکریت پسند شامل ہیں جبکہ ان حملوں میں ایک ہزار 124 افراد زخمی ہوئے۔
سال 2023 میں ہونے والے حملوں میں سال 2022 کے برعکس 17 فیصد اضافہ ہوا اور ان حملوں میں ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد بھی 2022 میں اسی طرح کے حملوں میں ہلاک ہونے والوں کے مقابلے میں 65 فیصد زیادہ ہے۔2023 میں بلوچستان میں دہشت گردی کے واقعات میں 39 فیصد اضافہ دیکھا گیا ہے۔ جان سے جانے والوں میں 330 افراد کا تعلق افواج اور قانون نافذ کرنے والوں اداروں سے ہے جن میں سے 26 ایف سی کے اہلکار، 176 پولیس اہلکار، 110 فوجی، 11 لیویز، دو رینجرز شامل ہیں۔ جان کی بازی ہارنے والوں میں 260 عام شہری بھی شامل ہیں۔ دوسری طرف عسکریت پسندوں کےجانی نقصان کا عدد103ہے اور 47 زخمی ہوئے ہیں۔ گویا ایک دہشت گرد کی اموات کے بدلے ہمارے چھ لوگ جاں بحق ہوئے۔
پنجاب میں سب سے کم حملے ہوئے کل چھ حملوں میں 16 افراد مارے گئے۔ ان میں سے چار حملے ٹی ٹی پی اور تحریک جہاد پاکستان نے کیے۔گذشتہ سال کے تناسب کے حوالے سے دیکھا جائے تو پنجاب میں دہشت گردی میں 100 فیصد اضافہ ہوا ہے سندھ میں یہ اضافہ 87 فیصد ہے اور خیبر پختونخوا میں تین فیصد ہے مگر دہشت گردانہ حملوں اور ان کے نتیجے میں ہونے والے جانی نقصان میں خیبر پختونخوا سب سے آگے ہے۔
