پاکستان میں پٹرول کی قیمت میں 15 روپے لیٹرکمی کا امکان

دنیا بھر میں عالمی منڈی میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کو ایک مرتبہ پھر بڑا جھٹکا لگا ہے، ایک روز میں امریکی خام تیل کی قیمت 45 فیصد گر گئی ہے۔ جس کے بعد پاکستان میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں 15 روپے فی لیٹر سے زائد کمی کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے.
تفصیلات کے مطابق دنیا بھر میں کورونا وائرس کے باعث تیل کی قیمتوں میں زبردست گراوٹ دیکھنے کو مل رہی ہے، اس دوران سعودی عرب، روس کے درمیان تیل کی قیمتوں پر ہونے والی کشیدگی کے باعث پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں زبردست کمی دیکھی گئی تھی جس کے بعد دونوں ممالک میں ’ڈیل‘ ہوئی تھی، دو روز قبل تیل کی قیمتوں میں اضافہ بھی دیکھنے کو ملا تھا۔تاہم اب مزید خبریں آئی ہیں کہ عالمی منڈی میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کو ایک مرتبہ پھر بڑا جھٹکا لگا ہے، ایک ہی روز کے دوران امریکی خام تیل کی قیمت 45 فیصد نیچے گر گئی ہے جس کے بعد امریکی خام تیل 10.14 امریکی ڈالر فی بیرل پر فروخت ہونے لگا ہے۔
خیال رہے کہ امریکی خام تیل ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ ( ڈبلیو ٹی آئی) اس سے قبل 1986 میں اس سطح پر موجود تھا جب کہ رواں سال جنوری میں یہ 60 ڈالر فی بیرل کی سطح پر فروخت ہورہا تھا۔اس وقت عالمی منڈی میں امریکی خام تیل 10.14 ڈالر فی بیرل کی سطح پر موجود ہے۔دوسری جانب عالمی منڈی میں ٹریڈنگ کے دوران برینٹ کروڈ آئل کی قیمتوں میں بھی 7 فیصد کمی دیکھنے میں آئی اور اس وقت برینٹ کروڈ آئل 26 ڈالر فی بیرل کی سطح پر موجود ہے۔رپورٹ کے مطابق امریکا میں تیل ذخیرہ کرنے کی گنجائش تیزی سے ختم ہورہی ہے جس کے باعث امریکی خام تیل کی قیمت دو دہائیوں کی کم ترین سطح پر آگئی ہے۔اس سے قبل جنوری میں کورونا بحران سامنے آنے کے بعد سے دنیا بھر میں خام تیل کی قیمتوں میں کمی کاسلسلہ جاری ہے۔گذشتہ دنوں تیل پیدا کرنے والے بڑے ممالک سعودی عرب اور روس کے درمیان تیل کی پیداوار میں کمی کا معاہدہ ہوا تھا جس کے تحت تیل کی قیمتوں میں استحکام کے لیے تیل کی پیداوار میں کمی کرنا ہے۔معاہدے کی خبریں سامنے آنے کے بعد تیل کی قیمتوں میں اضافہ بھی دیکھنے میں آیا تھا تاہم تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اب بھی پیداوار طلب سے زیادہ ہے۔
واضح رہے کہ عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں 21 سال کی کم ترین سطح پر پہنچ گئی ہیں، پاکستان میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں 15 روپے فی لیٹر کمی کا امکان ہے۔تجریہ کاروں کے مطابق خام تیل برآمد کرنے والے ممالک کے درمیان ہونے والے معاہدے کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی پیداوارمیں کٹوتی تو کی گئی مگر اب بھی پیداوار طلب سے زیادہ ہے۔
دوسری جانب مختلف ممالک کے پاس تیل ذخیرہ کرنے کی جگہ بھی ختم ہوتی جارہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ خام تیل کی قیمتیں گر کر اس وقت 21 سال کی کم ترین سطح پر پہنچ چکی ہیں۔معاشی ماہرین کے مطابق عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں گھٹ جانے سے پاکستان میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں 15 روپے فی لیٹر کمی کا امکان ہے۔
دریں اثناء معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ حکومت ڈیزل کی قیمت میں 15 روپے لٹر کمی کا اعلان کر دے تو رمضان میں پھل، سبزیاں اور دیگر اجناس کی قیمتیں کم ہو سکتی ہیں۔عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں کمی کا اگر پورا پورا فائدہ عوام تک منتقل کیا جائے تو حکومت پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں 24 روپے فی لیٹر تک کمی کر سکتی ہے۔معاشی ماہرین کے مطابق حکومت کو پٹرول کی فی لٹر قیمت میں 10 روپے اور ڈیزل کی قیمت میں 15 روپے فی لٹر کمی کا اعلان کرنا چاہئے، حکومت کے اس اعلان سے ایک طرف تو محصولات میں اضافہ ہوگا جبکہ ڈیزل سستا ہونے سے "ٹرانسپورٹیشن کوسٹ” یا سامان کی نقل و حمل کی لاگت میں واضح کمی آنے کاامکان ہے جس سے پھل، سبزیاں اور دیگر کھانے پینے کی اشیاء کی قیمتیں کم ہو جائیں گی اور ماہ رمضان میں عوام کو بڑا ریلف مل سکتا ہے۔
ماہرین کے مطابق کورونا وائرس سے صنعتی پیداوار متاثراور معیشت کو دھچکا پہنچا ہے، ایسے میں عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں کمی ہونا پاکستان جیسے آئل درآمد کرنے والے ممالک کے لئے کسی نعمت سے کم نہیں ہے۔
