پاکستان میں پٹرول کی قیمت میں 20 روپے لیٹر کمی کا امکان

آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی اوگرا نے یکم مئی سے پیٹرولیم مصنوعات 44 روپےفی لیٹر تک سستی کرنےکی سفارش کردی۔ذرائع کے مطابق پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کی سمری وزارت پیٹرولیم اور وزارت خزانہ کو ارسال کردی گئی ہے۔
اوگرا کی جانب سے پیٹرول کی قیمت میں 20 روپے 68 پیسے اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 33 روپے94 پیسےکمی کی سفارش کی گئی ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ لائٹ ڈیزل آئل 24 روپے57 پیسے فی لیٹر اور مٹی کا تیل 44 روپے 7 پیسے فی لیٹر سستا کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔ اوگرا ذرائع کے مطابق وزیراعظم عمران خان کی منظوری کےبعد 30 مارچ کو وزارت خزانہ قیمتوں میں کمی کا اعلان کرےگی۔
خیال رہے کہ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں تاریخ کی کم ترین سطح پر آگئی ہیں جس کے بعد سے حکومت سے مطالبہ کیا جارہا ہے کہ وہ فوری طور پر عوام کو ریلیف فرام کرے۔
واضح رہے کہ عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتوں میں گراوٹ کے مطابق پاکستان میں پٹرول کی قیمت میں 30 فیصد تک کمی کا امکان ظاہر کیا جارہا ہے،ذرائع پٹرولیم ڈویژن کے مطابق پٹرول کی قیمت میں 27 روپے فی لیٹر تک کمی کی جاسکتی ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومت نے رواں ماہ 28 ڈالر 51 سینٹ فی بیرل میں تیل خریدا۔ جس کے مطابق مقامی سطح پر پٹرول کی فی لیٹر قیمت 35 روپے فی لیٹر بنتی ہے۔ حکومت پیٹرول پر فی لیٹر 35 روپے ٹیکس وصول کرتی ہے۔ ٹیکسز کے حصول کے باعث مکمل فائدہ عوام تک نہیں پہنچایا جا سکتا۔ اوگرا پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ردوبدل کی سمری آج شام تک بھجوائے گی۔ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کا حتمی فیصلہ وزیراعظم کی ہدایت پر ہوگا۔پٹرول میں 20 روپے فی لیٹر کمی کی جاسکتی ہے لیکن اس وقت حکومت کو ریونیو شارٹ فال کا سامنا ہے۔ لاک ڈاؤن کی وجہ سے پورے ملک کی انڈسٹری بند پڑی ہے ۔ایسے میں پٹرولیم پراڈکٹ ہی حکومت کے پاس قومی خزانے کے لیے واحد ذریعہ ہے۔لیکن اس کے باوجود حکومت پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کا فائدہ عوام تک پہنچانے کے لیے پرعزم ہے۔ عالمی مارکیٹ میں پٹرول کی قیمتوں کے مطابق عوام کو فائدہ نہیں پہنچایا جا سکتاتاہم پھر بھی پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں 20 سے 27 روپے فی لیٹر کمی کی جاسکتی ہے۔
دوسری جانب وزیراعظم کے مشیربرائے خزانہ ومحصولات ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ نے کہا ہے کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی سے سفری اور توانائی پر اخراجات میں کمی آئے گی ، پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مزید کمی کی خوشخبری دیں گے، معاشی سرگرمیاں سکڑنے سے ٹیکس سے آمدن متاثر ہوگی ، آنے والا بجٹ کورونا وائرس کی وباء کے تناظرمیں ترتیب دیا جائے گا ، بجٹ میں ہر شعبے کو اپنے پاؤں پر کھڑا کرنے کیلئے اقدامات کئے جائیں گے ۔ نجی ٹی وی میں گفتگو کرتے ہوئےانہوں نے کہاکہ موجودہ حکومت آئی تو معیشت بحران کا شکار تھی ، حکومت نے بچت اورکفایت شعاری کی پالیسی اپنائی، تجارت اورصنعت کو کو مراعات دینے پر کیلئے اقدامات کئے گئے ، کورونا وائرس کی وباء سے قبل ملکی معیشت بہتر سمت میں جا رہی تھی، روپیہ کی قدرمیں استحکام آیا تھا، پاکستان کے معاشی اشاریے بہترصورتحال کی عکاسی کررہے تھے، لیکن وبا نے معیشت کی سمت کو دھچکا پہنچایا، لاک ڈاؤن کے باعث معاشی سرگرمیوں میں کمی آئی جبکہ عالمی معیشت سکڑنے کے نتیجہ میں پاکستان کی برآمدات پراثرپڑا اورہماری برآمدات کم ہوئیں ۔
