پاکستان میں پینگولین کو منحوس کیوں سمجھا جاتا ہے؟

جدید سائنسی تحقیق نے کرونا وائرس کے انسانوں میں منتقلی کا ذمہ دار پینگولین نامی چیونٹی خور جانورکو قرار دیا ہے جس کے بعد اسے شوق سے کھانے والے چینیوں نے بھی اس سے نفرت شروع کردی ہے تاہم سچ تو یہ ہے کہ پاکستان میں پینگولین کو بھلے وقتوں سے ہی ایک ’منحوس جانور‘ سمجھا جاتا ہے جسکی کئی وجوہات ہیں۔
مقبول بین الاقوامی جریدے ’نیچر‘ میں حال ہی میں چھپنے والے ایک مضمون میں انکشاف کیا گیا ہے کہ پینگولین میں کووڈ 19 نامی وائرس کے شواہد ملے ہیں اور کرونا کا وائرس اسی کے گوشت سے پھیلا جسے چین کے لوگ بڑے شوق سے کھاتے ہیں۔ دودھ پلانے والا جانور پینگولین اس وقت دینا میں اسی وجہ سے معدومیت کا شکار ہے کہ اس کا گوشت چین میں خاصا مقبول ہے۔ اس کی علاوہ پینگولین کی جلد پر موجود خاص قسم کے سخت چھلکے وہاں بہت سی قیمتی ادویات میں استعمال ہوتے ہیں لیکن اس جانور کے بارے میں پاکستان میں عجیب و غریب قسم کی توہمات پائی جاتی ہیں جو ہر 20 کلومیٹر بعد مختلف علاقوں میں مختلف تصور اختیار کر جاتی ہیں۔
پاکستان وائلڈ لائف فاونڈیشن نے پینگولین پر تحقیق اور اس کے تحفظ کے لیے 2019 میں پاکستان وائلڈ لائف کنزرویشن فاونڈیشن کے ساتھ ایک مشترکہ مہم شروع کی تھی، جس کے مطابق اس جانور کو پاکستان میں عمومی طور پر ایک ’منحوس جانور‘ قرار دیا جاتا ہے۔ پاکستان وائلڈ لائف فاونڈیشن کے نائب صدر صفوان شہاب جو پینگولین پر گذشتہ کئی سالوں سے تحقیق کر رہے ہیں نے بتایا کہ پاکستان کے ہر علاقے میں اس جانور کے بارے میں الگ شکوک و شبہات پائے جاتے ہیں۔ ’یہ ایک عام تاثر ہے کہ یہ آپ کے سامنے سے گزر جائے تو آپ پر بدقسمتی طاری ہو جائے گی اور آپ کا کام نہیں ہو گا۔‘
صوبہ خیبر پختونخواہ میں پینگولین کو نومولود بچوں کا گوشت کھانے والا سمجھا جاتا ہے اور اس کے بارے میں خیال ہے کہ یہ ایک سال سے کم عمر بچوں کی لاشیں قبروں سے نکال کر لے جاتا ہے اور ان کو کھاتا ہے۔ خطہ پوٹھوہار میں بھی اس کو انسانی آبادی کے لیے خطرناک سمجھا جاتا ہے، جب کہ سندھ میں اس کے بارے میں تاثر یہ ہے کہ جہاں یہ پیشاب کرتا ہے، وہاں آگ لگ جاتی ہے۔ ’بعض علاقوں میں اس کو مردانہ قوت میں بے پناہ اضافے کا باعث بھی سمجھا جاتا ہے اور اس وجہ سے اس کا گوشت بڑے شوق سے کھایا جاتا ہے’۔
اس کی جلد پر لگے سکیلز یا کانٹوں کو بلوچستان میں حاملہ عورتوں کے مسائل کے حل اور کشمیر میں جانوروں کی بیماریوں سے نجات کا ذریعہ سمجھا جاتا ہے۔ تاہم پاکستان وائلڈ لائف کنزرویشن فاونڈیشن کی تحقیق کے مطابق یہ ایک بے ضرر جانور ہے جس کی خوراک دیمک اور چیونٹیاں ہیں۔ یہ دن کے اوقات میں اپنے بل میں رہتا ہے اور رات کو خوراک کے لیے نکلتا ہے۔
وائلڈ لائف فاونڈیشن کے مطابق دنیا بھر میں پینگولین کی آٹھ اقسام ہیں جن میں سے پاکستان میں صرف ایک ’انڈین پینگولن‘ پائی جاتی ہے۔ چین میں پینگولین کے گوشت اور جلد کے بے پناہ استعمال کی وجہ سے اس کی بہت زیادہ غیرقانونی سمگلنگ بھی ہوتی ہے کیونکہ پاکستان میں اس کے شکار کو قانونی تحفظ ہے لیکن اس کو پاکستان میں تینوں وجوہات کے باعث شکار کیا جاتا ہے یعنی اس کے منحوس ہونے کے وہم کی وجہ سے اس مار دیا جاتا ہے اور دوائیوں میں استعمال ہونے اور اسکے گوشت کی وجہ سے اسے شکار کر کے بیچا جاتا ہے۔
لیکن ایک اندازے کے مطابق اس وقت پاکستان میں پینگولین کی تعداد 150 سے زیادہ نہیں ہو گی۔ آج سے 30 سال قبل پاکستان میں تقریبا 30 ہزار پینگولین پائے جاتے تھے جو کم ہو کر 10 سال پہلے تقریباً دو ہزار رہ گئے۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ جن علاقوں سے پینگولین غائب ہوئے ہیں وہاں درختوں کو بہت زیادہ دیمک لگ گئی ہے جس کی وجہ سے ان کے جلد ختم ہونے کا خدشہ ہے۔ لہذا حکومت کو ان درختوں کو بچانے کے لیے ان علاقوں میں پینگولین کی افزائش اور تحفظ کے لیے کوششیں کرنا ہوں گی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button