پاکستان میں چینی نے ڈبل سینچری کیسے کراس کی؟

پاکستان میں چینی کی قیمت ڈبل سینچری عبور کرتے ہوئے 220 روپے فی کلو گرام تک پہنچ گئی ہے جو اس سال جنوری میں 85 روپے فی کلو مارکیٹس میں گروخت ہو رہی تھی۔ معاشی تجزیہ کاروں کے مطابق چینی کی قیمت صرف پانچ سالوں میں تقریباً چار گنا بڑھ چکی ہے۔
خیال رہے کہ لیاقت علی خان کے دور میں چینی کی قیمت صرف 60 پیسے فی کلو تھی بھٹو دور میں 6 روپے جنرل ضیاء دور میں 9 روپے ، نواز شریف کے پہلے دور میں 13 روپے فی کلو رہی ۔ اس ’’سفید زہر‘‘ کا خوردہ نرخ صرف پانچ سالوں میں تقریباً چار گنا بڑھ گیا ہے۔ تحقیقات کے مطابق 1952 اور 1957 کے درمیان وزیر اعظم خواجہ ناظم الدین کے دور حکومت میں چینی کی قیمت 75 پیسے فی کلو تک پہنچ گئی۔ 1958-1961 کے دوران جب جنرل ایوب خان حکومت کر رہے تھے چینی کی قیمت 1.75 روپے فی کلو ہوگئی۔ 1971-1977 کے دور میں جب ذوالفقار علی بھٹو برسراقتدار تھے چینی کی قیمت 6 روپے فی کلو رہی۔ جنرل ضیاء کے 1977 سے 1988 کے دور میں چینی کی قیمت 9 روپے فی کلو تک بڑھ گئی تھی۔ یہ 1988 سے 1991 کے درمیان بے نظیر بھٹو کے دور حکومت میں 10 روپے فی کلو تک پہنچ گئی۔ 1991 سے 1994 کے درمیان نواز شریف کے پہلے دور حکومت میں چینی کی قیمت 13 روپے فی کلو تھی۔ 1994 اور 1997 کے درمیان بے نظیر کے دوسرے دور اقتدار کے دوران یہ 21 روپے فی کلو پر تھی۔ یہ 1997 اور 1999 کے درمیان نواز شریف کے دوسرے دور حکومت میں 21 روپے فی کلو گرام رہی۔ 1999 اور 2008 کے درمیان جنرل مشرف کے دور حکومت میں قیمت 30 روپے فی کلو تک بڑھ گئی ، 2013 میں نواز شریف کا تیسرا دور اقتدار شروع ہوا تو یہ 53 روپے فی کلوگرام تھی اور دسمبر 2018 میں یہ 55 روپے فی کلوگرام تھی۔ جبکہ 2023 میں چینی کی قیمت ڈبل سینچری عبور کر چکی ہے۔
تاہم سوال پیدا ہوتا ہے کہ ملک میں چینی کی قیمت میں ہوشربا اضافے کی اصل وجہ کیا ہے؟ نگراں حکومت کا کہنا ہے کہ ملک میں اتنی چینی میسر نہیں ہے کہ آئندہ پیداوار آنے تک ملکی ضرورت کو پورا کیا جا سکے جس وجہ سے چینی کی قیمتوں میں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے تاہم ملکی ضرورت کو پورا کرنے کے لیے حکومت چینی درآمد کرنے پر غور کر رہی ہے۔ جس سے چینی کی قیمتوں میں استحکام آئے گا۔ساتھ ہی حکومت نے چینی کی برآمد پر پابندی عائد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ تاہم ابھی چند ہی ماہ پہلے کی بات ہے جب اتحادی حکومت نے ملک میں بظاہر ’وافر چینی‘ موجود ہونے پر چینی برآمد کرنے کی اجازت دی تھی۔تو سوال یہ ہے کہ اگر چینی ’وافر‘ تھی تو کچھ ہی ماہ میں اس کی کمی کیسے پیدا ہو چکی ہے؟
پاکستان میں چینی کی طلب اور رسد میں بڑھتا فرق اور قیمتوں میں دگنا اضافہ اس وقت زیرِ بحث ہے مگر چینی کی صنعت و پیداوار پر نظر رکھنے والے بعض ماہرین کا خیال ہے کہ ملک میں چینی کی ’وافر‘ مقدار موجود ہی نہیں تھی۔ ان کا خیال ہے کہ گذشتہ حکومت کا چینی برآمد کرنے کا فیصلہ درست نہیں تھا۔ تاہم اب مختلف سیاسی جماعتوں پر مشتمل شہباز شریف کی حکومت کے سابق وفاقی عہدیداران اس نکتے پر ایک دوسرے کی وزارتوں کو ذمہ دار ٹھہرا رہے ہیں۔
