پاکستان میں ڈالر کی قیمت کو ریورس گئیر کیسے لگا؟

آرمی چیف جنرل عاصم منیر کی جانب سے غیر قانونی طور پر ڈالر سمگلنگ کرنے والے عنآصر کو کیفر کردار تک پہنچانے کے اعلان کے بعد ملک میں ڈالر کو ریورس گئیر لگ گیا۔پاکستان میں کرنسی کی اوپن مارکیٹ میں گذشتہ چار دن سے ڈالر کی قیمت میں مسلسل کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔

واضح رہے کہ پاکستان میں اوپن مارکیٹ میں ڈالر کی قیمت میں نگران حکومت کے قیام کے بعد تسلسل سے اضافہ دیکھا گیا اور ڈالر کا سرکاری ریٹ گذشتہ ہفتے کے اختتام پر 305 روپے پر پہنچا تو اوپن مارکیٹ میں ڈالر کا ریٹ 330 روپے کی سطح عبور کر گیا۔تاہم موجودہ ہفتے کے آغاز سے ڈالر کے اوپن مارکیٹ ریٹ میں کمی آنا شروع ہوئی اور تین روز میں اس کی قیمت میں 25 روپے کمی کے بعد اب یہ307 روپے کی سطح تک گر چکی ہے۔

اوپن مارکیٹ میں ڈالر کی قیمت میں ہونے والی بڑی کمی اس وقت سامنے آئی جب گذشتہ ہفتے کے اختتام پر ملک کے آرمی چیف نے کراچی اور لاہور میں کاروباری افراد سے ملاقات کی جہاں معیشت کی بحالی کے مختلف اقدامات کے علاوہ سمگلنگ کے خلاف کارروائیوں پر بھی بات ہوئی جس میں ڈالر کی سمگلنگ کی روک تھام کی بات بھی کی گئی۔کرنسی کے کاروبار سے وابستہ افراد نے اوپن مارکیٹ میں ہونے والی کمی کو آرمی چیف کے کاروباری افراد سے ملاقات سے منسوب کرتے ہیں جس نے مارکیٹ میں مثبت رجحان کو جنم دیا۔

چیئرمین فاریکس ایکسچینج ایسوسی ایشن آف پاکستان ملک بوستان کا کہنا ہے کہ پہلے لوگ ڈالر خریدنے کیلئے آتے تھے، اب دو دن سے لوگ ڈالر بیچنے کیلئے آ رہے ہیں، لیکن کوئی خریدنے والا نہیں ہے، ڈالر کی بلیک مارکیٹ انڈر گراؤنڈ ہوگئی ہے۔سٹے باز اونچے ریٹ پر ڈالر خرید کر اسمگل کر رہے تھے۔ تاہم اب یہ سلسلہ رکتا ہوا محسوس ہوتا ہے۔

دوسری جانب ڈان سے وابستہ مالیاتی امور کے سینیئر صحافی شاہد اقبال کا کہنا ہے کہ سب سے اہم بات یہ ہے کہ اوپن مارکیٹ میں ڈالر کا کاروبار قیاس آرائیوں پر چلتا ہے اور اسی بنیاد پر اس کی قیمت بڑھ رہی تھی۔انھوں نے کہا گذشتہ دو تین دن میں ڈالر کی سمگلنگ کے خلاف کریک ڈاون نے بھی اس سلسلے میں کام دکھایا ہے۔ جیسے ہی غیر لائسنس یافتہ کمپنیوں کے خلاف ایکشن ہوا تو اس کے بعد گرے مارکیٹ میں کام رک گیا۔انھوں نے کہا کہ جب گرے مارکیٹ میں کام رکا تو اس کا اثر اوپن مارکیٹ پر بھی آنا تھا۔انھوں نے کہا کہ ’اب حالت یہ ہے کہ فی الحال گرے مارکیٹ پر کریک ڈاؤن کی وجہ سے کوئی خریدار نہیں۔‘مالیاتی امور کے تجزیہ کار فہد رؤف نے اس سلسلے میں بتایا کہ جب اوپن مارکیٹ میں سختی کی گئی ہے تو خریدار نہیں جا رہا، اس لیے ریٹ کم ہوا۔ انھوں نے کہا کہ ویسے تو معاشی اشاریوں میں کوئی ایسی بہتری نہیں آئی کہ ڈالر ریٹ کم ہو۔

ایکسچینج کمپنیز اسوسی ایشن آف پاکستان کے جنرل سیکریٹری ظفر پراچہ نے اس سلسلے میں بتایا کہ ’یہ بات صحیح ہے کہ پشاور میں گرے مارکیٹ میں کریک ڈاؤن کے بعد یہ صورتحال پیدا ہوئی کہ ڈالر وہاں نہیں جا رہا کیونکہ اس مارکیٹ میں کام کرنے والے افراد فی الحال گھبرا رہے ہیں۔‘’اسی طرح ایکسچینج کمپنیوں سے بھی جانچ پڑتال ہو رہی ہے جس کے بعد خریدار فی الحال آنے سے کترا رہے ہیں ورنہ دوسری طرف صورتحال ایسی نہیں کہ ڈالر کی سپلائی بڑھ گئی ہے اور اس سے اس کی قیمت گر گئی ہے۔‘

ظفر پراچہ نے گرے مارکیٹ کے بارے میں بات کرتے ہوئے بتایا کہ ’گرے مارکیٹ ایک غیر قانونی مارکیٹ ہے یعنی اس میں کام کرنے والے افراد بغیر کسی لائسنس یا حکومتی قواعد و ضوابط کے کام کر رہے ہیں۔‘انھوں نے کہا کہ ’پہلے تو حوالہ ہنڈی کو گرے مارکیٹ سمجھا جاتا تھا لیکن اب اس میں ڈالر کی کیش کی صورت میں خرید و فروخت بھی شروع ہو چکی ہے۔‘انھوں نے کہا کہ ’جب انٹر بینک اور اوپن مارکیٹ میں ڈالر خریدا اور بیچا جاتا ہے تو اس کی باقاعدہ دستاویزات ہوتے ہیں کہ کون خرید رہا ہے اور کون بیچ رہا ہے تاہم گرے مارکیٹ میں ایسی کوئی چیز نہیں اور وہاں بنا کسی دستاویز کے ڈالر کی خرید و فروخت ہوتی ہے۔ظفر پراچہ کا مزید کہنا تھا کہ ’سمگلنگ کے خلاف اقدامات تو ہونے چاہیے لیکن انھیں مستقل بنیادوں پر ہونا چاہیے کیونکہ یہ حقیقت ہے کہ ڈالر جہاں سے سمگل ہو کر پڑوسی ملک میں جاتا ہے وہاں یہ وقتی اقدام نہیں ہونا چاہیے بلکہ مستقبل بنیادوں پر اس کا حل نکالنا چاہئے۔

Back to top button