پاکستان میں کرونا وائرس کے پھیلاؤ میں تیزی آ گئی

پاکستان میں ہر گزرتے دن کے ساتھ کرونا کے مریضوں کی تعداد میں ہونے والے اضافے نے خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے۔
چین اور ایران سے واپس آنے والے پاکستانیوں کی سکریننگ کے بعد پاکستان میں کرونا وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد پانچ ہوگئی ہے جبکہ ماہرین کا کہنا ہے کہ ابھی ہزاروں افراد کی سکریننگ کا عمل مکمل ہونا باقی ہے اور خدشہ ہے کہ ان میں سے بھی سینکڑوں افراد کرونا وائرس میں مبتلا ہوسکتے ہیں۔
یکم۔مارچ کو سکریننگ کے بعد پاکستان میں کورونا وائرس کا ایک اور کیس سامنے آنے کے بعد ملک میں مجموعی طور پر اس وائرس سے متاثر ہونے والے افراد کی تعداد 5 ہوگئی۔ مریضہ کی شناخت گلگت بلتستان کی 45 سالہ رہائشی کے طور پر ہوئی جنہیں ہفتے کے روز گلگت ڈسٹرک ہسپتال سے اسلام آباد کے قومی ادارہ صحت بھیجا گیا تھا۔ مریضہ کا ٹیسٹ مثبت آنے کے بعد انہیں ہسپتال میں قائم آئیسولیشن وارڈ میں منتقل کردیا گیا۔ اس طرح ملک میں کورونا وائرس سے اب تک متاثر افراد کی تعداد 5 ہوگئی ہے جس میں سے 3 کا تعلق گلگت بلتستان جبکہ باقی 2 کا کراچی سے ہے۔ ماہرین نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ حالیہ دنوں چین، ایران اور افغانستان سے آنے والے ہزاروں پاکستانیوں کی تاحال سکریننگ ہونا باقی ہے اور ان میں سے بھی سیکڑوں افراد کرونا وائرس کا شکار ہو سکتے ہیں۔
محکمہ صحت حکام کے مطابق گلگت بلتستان کے محکمہ صحت کے پاس وائرس کا ٹیسٹ کرنے کی سہولیات میسر نہیں اس لیے کورونا وائرس کے 12 مشتبہ مریضوں کے نمونے تشخیص کے لیے قومی ادارہ صحت اسلام آباد بھجوائے گئے ہیں۔ دریں اثنا حکومت گلگت بلتستان نے وائرس کا پھیلاؤ روکنے کی پیشگی احتیاطی تدبیر کے طور پر سرکاری و نجی تعلیمی ادارے 7 مارچ تک بند رکھنے کا اعلان کیا ہے۔ دریں اثنا افغانستان میں کورونا وائرس کا کیس سامنے آنے پر بلوچستان کے علاقے چمن میں پاک افغان سرحد 7 روز کے لیے بند کردی گئی تھی جس کے بعد سرحد پر تمام تجارتی اور کاروباری سرگرمیاں معطل ہونے کے ساتھ ساتھ امیگریشن، کسٹم، ٹرانسپورٹ اور دیگر متعلقہ دفاتر بند کردیے گئے تھے۔
تاہم سرحدی گزرگاہ کی بندش سے ناواقف افراد کی بڑی تعداد سرحد کے دونوں اطراف چمن اور ویش میں جمع ہے لیکن کسی کو بھی بابِ دوستی کے قریب نہیں آنے دیا جا رہا۔ سرحد پر پہنچنے والے افراد میں خواتین اور بچوں سمیت افغان مریض بھی شامل ہیں جو پاکستانی ہسپتالوں میں علاج کے لیے سرحد پار کرنا چاہتے ہیں لیکن انہیں اس کی اجازت نہیں دی جا رہی۔
اس حوالے سے سرکاری ذرائع کا کہنا ہے کہ چمن سرحد کے ساتھ ساتھ دیگر داخلی مقامات پر بھی سیکیورٹی فورسز تعینات کردی گئی ہیں۔ محکمہ صحت کے ایک عہدیدار نے بتایا کہ صوبائی ڈیزاسٹر منیجمنٹ اتھارٹی کے ڈاکٹرز اور عہدیدار سرحد پر موجود ہیں جنہوں نے گزشتہ ہفتے سرحد پار کرکے پاکستان میں داخل ہونے والے تقریباً 10 ہزار افراد کا کورونا وائرس کے لیے اسکرین ٹیسٹ کیا تاہم کوئی بھی متاثر نہیں پایا گیا۔ صوبائی ڈیزاسٹر منیجمنٹ اتھارٹی کے حکام نے کہا کہ چمن اور قلعہ عبداللہ میں صورتحال سے نمٹنے کے لیے آئیسولیشن سینٹرز قائم کردیے گئے ہیں۔
تاہم محکمہ صحت کے حکام کا کہنا ہے کہ جب ہمسایہ ممالک کا سفر کرکے پاکستان واپس لوٹنے والے تمام افراد کی سکرینگ مکمل ہوگئی تو پاکستان میں سنیکڑوں نے مریض سامنے آ سکتے ہیں۔
