پاکستان میں ہونیوالا او آئی سی اجلاس تاریخی اہمیت کا حامل کیوں؟

مسلمانوں کی اجتماعی آواز سمجھی جانے والی 57 رکن ممالک کے ساتھ اقوام متحدہ کے بعد دنیا کی دوسری سب سے بڑی بین الحکومتی اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی ) کا لگ بھگ 47 برس بعد پاکستان میں 48واں اجلاس جاری ہے۔
پاکستان میں او آئی سی اجلاس اہمیت کا حامل ثابت ہوا ہے، 1974 کے دوران او آئی سی اجلاس کی میزبانی پنجاب کے دارالحکومت لاہور نے کی تھی، اور یہ اجلاس اس لیے بھی اہمیت کا حامل بن گیا کہ پاکستان نے بنگلہ دیشن کو آزاد ریاست کے طور پر تسلیم کیا۔
1974 میں لاہور میں منعقد ہونے والی دوسری اسلامی تعاون تنظیم سربراہی کانفرنس کو کور کرنے والے جید پاکستانی صحافیوں نے اپنی یاداشتوں کو تازہ کرتے ہوئے بتایا کہ کیسے اس تقریب نے مسلم دنیا میں اتحاد کی نئی اُمیدوں کو جنم دیا۔
او آئی سی 57 رکن ممالک کے ساتھ اقوام متحدہ کے بعد دنیا کی دوسری سب سے بڑی بین الحکومتی تنظیم ہے، یہ مسلمانوں کی اجتماعی آواز سمجھی جاتی ہے، پاکستان او آئی سی کی وزرائے خارجہ کونسل کے 48 ویں سیشن کی 22 سے 23 مارچ تک میزبانی کر رہا ہے جبکہ ہر سال قرار داد پاکستان کی یاد میں منعقد ہونے والی یوم پاکستان پریڈ بھی 23 مارچ کو ہی ہے۔
قرادداد پاکستان 23 مارچ کو ہی منظور ہوئی تھی جس نے جنوبی ایشیا میں مسلم اکثریتی ریاست کی بنیاد رکھی تھی، پاکستان کا دورہ کرنے والے او آئی سی کے مندوبین کو پریڈ میں بطور مہمان خصوصی شرکت کی دعوت دی گئی ہے۔
پاکستان سعودی عرب کے ساتھ مل کر او آئی سی کا کلیدی بانی رکن رہا ہے اور اس نے 1974 میں 20 سے 22 فروری تک او آئی سی کے دوسرے سربراہی اجلاس کی میزبانی کی تھی۔
حسین نقی جنہوں نے 350 رپورٹرز اور فوٹو گرافرز کے ساتھ لاہور کانفرنس کو کور کیا تھا، نے بتایا کہ 1974 کے سربراہی اجلاس نے مسلم اقوام کو اتحاد، خود انحصاری اور تعاون کی راہ پر گامزن کیا، یہ کانفرنس مسلم اتحاد کا عروج تھی اور اس نے بنگلہ دیش کو تسلیم کرنے کے زیر التوا مسئلے کو حل کرنے میں مدد دی۔
پاکستان نے ابتدا میں بنگلہ دیش کو اس سربراہی اجلاس کی دعوت نہیں دی تھی، دونوں مسلم ممالک 1971 کی جنگ سے قبل ایک ہی ملک تھے، روزنامہ ہلال پاکستان کی جانب سے اس سربراہی اجلاس کی کوریج کرنے والے سینئر فوٹو جرنلسٹ ظفر احمد نے بنگلہ دیش کو تسلیم کرنے کے حوالے سے واقعات بتائے۔
ظفر احمد کے مطابق سندھ سے تعلق رکھنے والے اراکین اسمبلی کو سی 130 طیارے کے ذریعے لاہور پہنچایا گیا جہاں دوسرے صوبوں کے ارکان اسمبلی بھی اس وقت کے وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کی بریفنگ کے لیے موجود تھے، 19 فروری کی شام کو بھٹو نے اعلان کیا کہ پاکستان کے دوستوں (مسلم ریاستوں کے سربراہان) کے مشورے پر بنگلہ دیش کو تسلیم کرنے کا فیصلہ کیا ہے، اس وقت الجزائر کے صدر کا طیارہ شیخ مجیب الرحمن کو لاہور لانے کے لیے روانہ ہو چکا ہے۔
فوٹو جرنلسٹ کے مطابق وہ ایک سرد شام تھی، وہ اور دوسرے چار فوٹو جرنلسٹس اس تاریخی منظر کو محفوظ کرنے کے لیے ایئرپورٹ پر موجود تھے، اگلے دن صبح کے ساڑھے آٹھ بجے تھے کہ ہم نے کچھ نقل و حرکت محسوس کی اور شیخ مجیب بالآخر صبح 10 بج کر پانچ منٹ پر پہنچے۔
بنگلہ دیش کے صدر کا استقبال صدر پاکستان فضل الٰہی چوہدری نے کیا کیونکہ اس وقت ذوالفقار علی بھٹو او آئی سی کانفرنس میں ایک سیشن کی صدارت کر رہے تھے، آخری دن شیخ مجیب نے پنجاب اسمبلی میں ہونے والے سربراہی اجلاس سے خطاب کیا۔
شیخ مجیب نے کہا کہ سربراہی اجلاس میں مسلم دنیا کی اعلیٰ قیادت جس میں لیبیا کے معمر قذافی، مصر کے انور سادات اور متحدہ عرب امارات کے راشد بن سعيد المكتوم موجود تھے، لیکن یہ سعودی عرب کے فرمانروا شاہ فیصل تھے جو تقریب میں سب سے نمایاں تھے، یہ شاہ فیصل کی شمولیت تھی جو خبر بنی اور پوری دنیا میں پھیل گئی۔
ایک اور تجربہ کار صحافی علی احمد خان نے بتایا کہ کانفرنس نے مسلم اتحاد اور تعاون کا پیغام دیا، یہ مغربی کالونیلزم کے خلاف مسلم اتحاد کا مظاہرہ تھا اور اس نے مسلم ممالک کے عوام کو اُمید دلائی کہ یہ فورم ان کے مسائل حل کرے گا جس میں مسئلہ فلسطین سرفہرست ہے۔

Back to top button